سہیل آفریدی کے دعوے حقیقت سے عاری ہیں، طارق فضل چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے وفاق پر صوبے سے امتیازی سلوک کے دعوے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما طارق فضل چوہدری نے کہا کہ سہیل آفریدی کے دعوؤں کی کوئی حقیقت نہیں ہے کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے، نہ ان کا نام نوفلائی لسٹ میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جارہا ہے، ہمیں پورا حق دیا جائے، سہیل آفریدی
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ ایجنڈا ہی نہیں کہ وہ کسی صوبے کو این ایف سی یا کسی اور آئینی حق سے محروم رکھیں، شاید این ایف سی کے تحت باقی صوبوں کے وفاقی کی جانب سے بقایا جات بھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم میں تو وفاق نے صوبوں کے سامنے تجویز دی تھی کہ آرمیڈ فورسز چونکہ پورے ملک کا دفاع کرتی ہیں تو اس کے لیے صوبے بھی این ایف سی سے حصہ دیں، اس پر اتفاق نہیں ہوا تو ہم نے تجویز واپس لے لی، ملکی قرضوں کی واپسی میں بھی صوبوں کا حصہ ڈالنے کی بات تھی۔
یہ بھی پڑھیں: وی ایکسکلیوسو: پی ٹی آئی پر فوری پابندی کا کوئی پلان نہیں، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری
ان کا کہنا تھا کہ اگر سہیل آفریدی کا نام نوفلائی لسٹ میں ہے تو یہ ان کا وزیراعلیٰ بننے سے پہلے کا قصہ ہوگا، جس کی کوئی وجہ ہوگی، شاید کسی کیس کی وجہ سے ایسا ہوا، ان کا نام کلیئر ہو سکتا ہے، کئی لوگوں کے نام نوفلائی اور ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں تھے، کلیئر ہوگئے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے کہ سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا کے عوام کی بات کی ہے، پی ٹی آئی کے جتنے بھی رہنما ٹی وی پر آ کر بات کرتے ہیں تو ان کی گفتگو بالکل الگ ہوتی ہے، ان کا کے پی کی ترقی، عوام کی فلاح و بہبود سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: 190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور کرپشن پر سزا ہوئی، طارق فضل چوہدری
پی ٹی آئی رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی قیدی سے ملاقات سیاسی مسئلہ نہیں، یہ ٹیکنیکل مسائل ہیں، جیل کے مینوئل کے تحت ملاقاتیں ہوتی ہیں، اڈیالہ جیل میں 8،850 قیدی ہیں، ہر ایک کے فیملی ممبرز قواعد و ضوابط کے تحت ملنے آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر سہیل آفریدی نے عمران خان سے ملاقات کے لیے رجوع کیا ہے اور عدالت نے بھی اجازت دی ہے تو میرا نہیں خیال کہ انہیں ملاقات سے روکنا چاہیے، جج نے ملاقات کرنے سے نہیں روکا تو انہیں ملاقات کرنے دی جانی چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: طارق فضل چوہدری نے کہا سہیل ا فریدی نے کہا کہ
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔