کسی کو دھمکی نہیں دی، میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر چلا یا گیا، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔
اڈیالا جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے وضاحت کی کہ انہوں نے کسی پولیس افسر یا ادارے کو کسی امیدوار کی حمایت کا نہیں کہا، بلکہ صرف انتخابی بے ضابطگیاں روکنے کی ہدایت دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی کو دھمکی نہیں دی۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس عدالت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت موجود ہے، اس کے باوجود انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان کے مطابق آئینی اور قانونی طریقہ اپنانے کے باوجود رسائی نہیں دی گئی۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے دن ہی وزیراعظم سے ملاقات کی درخواست کی تھی تاکہ بہتر ورکنگ ریلیشن شپ قائم کیا جا سکے، تاہم جواب ملنے کے بعد انہیں دوبارہ یہی بات کہنا مناسب نہیں لگا۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ وہ کوئی بھی بات کرتے ہیں تو ان کے خلاف مقدمہ بنا دیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ ایبٹ آباد کے جلسے میں سہیل آفریدی نے انتظامیہ اور پولیس کو خبردار کیا تھا کہ اگر انتخابی دن بدمزگی ہوئی تو وہ اپنے عہدوں پر برقرار نہیں رہیں گے، جس پر الیکشن کمیشن نے ان کے بیان کا نوٹس لیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے متعلقہ حکام سے وزیراعلیٰ کے سرکاری افسران کو دی گئی مبینہ دھمکیوں پر رپورٹ طلب کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سہیل آفریدی انہوں نے نہیں دی
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔