توہین رسالت کیس میں لاہور ہائی کورٹ نے 4 مجرموں کی پھانسی کالعدم قرار دیدی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی ڈویژن بینچ نے توہین رسالت کے زیر سماعت مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے 4 ملزمان کی سزائے موت کالعدم قرار دے دی۔
عدالت نے فیصلے میں واضح کیا کہ مقدمے کی بنیاد بننے والے شواہد نہ صرف نامکمل تھے بلکہ وہ ضروری قانونی تقاضوں پر بھی پورا نہیں اترتے تھے، جس کے باعث سزا برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا۔ فیصلے کے مطابق فیضان رزاق، عثمان لیاقت، وزیر گل اور امین رئیس اب کسی دیگر مقدمے میں مطلوب نہ ہونے کی صورت میں اڈیالہ جیل سے رہا کیے جائیں گے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق یہ مقدمہ 2023ء میں اُس وقت منظر عام پر آیا تھا جب ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے چاروں نوجوانوں کے خلاف مقدس شخصیات کی توہین پر مبنی مواد سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے مقدمہ درج کیا۔
اس کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی نے ٹرائل مکمل ہونے پر ملزمان کو سزائے موت اور فی کس ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی تھی۔
ہائی کورٹ کے فیصلے میں مرکزی نکتہ یہی تھا کہ استغاثہ موبائل فونز کی ملکیت، ان کے فرانزک تجزیے اور مبینہ مواد کے حقیقی ماخذ کے ثبوت دینے میں ناکام رہا۔ عدالت نے کہا کہ جب تک یہ ثابت نہ ہوجائے کہ یہ فون واقعی ملزمان کے استعمال میں تھے اور ان سے ہی وہ مواد اپ لوڈ ہوا، اس وقت تک کسی شخص پر جرم ثابت کرنا انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ ایسے حساس مقدمات میں شفاف تفتیش، معیاری شواہد اور تکنیکی پہلوؤں کی درست جانچ نہایت ضروری ہے۔ محض الزام، شک یا نامکمل ڈیجیٹل ریکارڈ کسی شخص کو موت کی سزا دینے کے لیے کافی نہیں ہوسکتا۔
عدالتی حکم کے مطابق ملزمان اگر کسی دیگر کیس میں مطلوب نہیں ہیں تو انہیں فوری طور پر جیل سے رہا کردیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔
سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔