نومبر میں کچھ، دسمبر میں بہت کچھ ہونے والا ہے، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے اور وفاق کے درمیان موجود سیاسی کشیدگی کے باوجود وہ جمہوری رویوں کے حامی ہیں اور احتجاج کی طرف نہیں جانا چاہتے۔
انہوں نے واضح کیا کہ نومبر میں ’’کچھ‘‘ اور دسمبر میں ’’بہت کچھ‘‘ ہونے جا رہا ہے، تاہم تفصیلات سے گریز کیا۔
اینکر پرسنز اور سینئر صحافیوں سے خیبر پختونخوا ہاؤس میں ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے بتایا کہ انہوں نے اپنے تمام آئینی راستے استعمال کیے ہیں، یہاں تک کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو خط بھی لکھا جس کا مقصد معاملہ ریکارڈ پر لانا تھا۔
1929ء میں بنے والٹن ٹریننگ سکول کی شہرت جلدبیرون ملک جا پہنچی وہاں کے ریلوے محکموں نے بھی اپنا عملہ تربیت کیلیے یہاں بھجوانا شروع کر دیا
ان کا کہنا تھا کہ “مریم نواز کی ذمہ داری ہے کہ وہ میرے خط کا جواب دیں، یہ ایک روایت ہے۔ میں جواب کا انتظار کر رہا ہوں۔ میڈیا بتائے اب میں بانی سے ملاقات کیلئے کیا کروں؟”
انہوں نے کہا کہ ان کا کسی بانی رہنما سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ وزیراعظم نے انہیں مبارکباد ضرور دی، مگر ان کے مطابق سوشل میڈیا پر وزیراعظم سمیت سب کی ٹرولنگ ہوتی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کو لکھے اپنے خط کو ’’معذرت نامہ سمجھ لینے‘‘ کا مشورہ بھی دیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کو اس وقت سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ ’’دہشتگردوں کے لیے ہمارے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیں۔ یہ الزام بے بنیاد ہے کہ ہماری جماعت نے دہشتگردوں کو کے پی میں بسایا۔ ٹی ٹی پی کو تو پی ڈی ایم دور میں واپس لا کر بسایا گیا۔‘‘
مریم نواز کا ٹیلی میڈیسن سروس شروع کرنے کا اعلان، ایک فون کال پر مستند ڈاکٹرز سے طبی مشورہ لیا جاسکے گا
انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں میں جب دہشتگرد مارے جاتے ہیں تو کوئی احتجاج نہیں کرتا، البتہ بے گناہوں کی ہلاکت پر آواز اٹھائی جاتی ہے۔
کرپشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو کوئی اطلاع ہو تو سامنے لائی جائے، نیب کارروائی کرے۔
مزاحیہ مگر دوٹوک انداز میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’’میں تو سات مرلے کا گھر بھی نہیں بنا سکتا، جس دن بنا لوں، مجھے پکڑ لینا۔‘‘
منشیات کے نیٹ ورک پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کے پی میں اس کام میں کوئی سیاسی عناصر ملوث ہیں تو حکومت کو بتایا جائے، وہ فوری ایکشن لیں گے۔
بھارت کے ساتھ جنگ کا خطرہ آج بھی موجود ہے، خواجہ آصف
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب کے لوگ انہیں پیغام بھیج رہے ہیں کہ وہ احتجاج کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ’’کے پی کا ہر شہید مجھے تکلیف دیتا ہے۔ ہم نے پہلے بھی دہشتگردی کے خلاف قربانیاں دیں، اگر ہمیں اعتماد میں لیا جائے تو دوبارہ قربانیوں کیلئے تیار ہیں۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ کورکمانڈر پشاور سے ملاقات میں بھی اہم بات چیت ہوئی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ اجلاس میں شرکت کریں گے اور مطالبہ کیا کہ وفاق خیبر پختونخوا کے واجب الادا فنڈز جاری کرے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے وہ ہمیشہ حامی رہے ہیں، مگر ’’موجودہ حکومت سے بات کا کوئی فائدہ نہیں۔‘‘
ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، الیکشن کمیشن نے رانا ثنا اللہ کو 24 نومبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔