وینزویلا میں انصاراللہ جیسی مسلح قوت کے ابھرنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: دیلیاجین نے امریکی ایئرکرافٹ کیریئر USS Gerald Ford کی موجودگی کو امریکہ کے بڑے جیو پولیٹیکل منصوبے کا حصہ قرار دیا ہے، لیکن ان کے مطابق اگر انصاراللہ جیسی طاقت وینزویلا میں بنی، تو یہ بڑے بڑے جنگی بحری جہاز بھی بے فائدہ اور آسان ہدف بن جائیں گے۔ اس وقت بحیرہ احمر سے لاطینی امریکہ تک مزاحمتی ماڈل کی گونج ہے۔ جس طرح یمنی مزاحمت نے بحیرہ احمر کا فوجی توازن بدل دیا ویسا ہی منظر کیریبین میں بھی پیدا ہو سکتا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عوامی مزاحمت کا ماڈل عالمی سطح پر پھیل رہا ہے، اور امریکہ اب خود کو مغربی نصف کرہ کا بے تاج بادشاہ نہیں سمجھ سکتا۔ خصوصی رپورٹ:
روسی ڈوما کے رکن میخائیل دیلیاجین کی تازہ رپورٹ میں اس امکان کا انکشاف کیا گیا ہے کہ وینزویلا میں یمن کی انصاراللہ جیسی مزاحمتی قوت ابھر سکتی ہے، یہ ایک ایسی خبر ہے جس نے پینٹاگون میں کھلبلی مچا دی ہے۔ یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ کیریبین میں امریکہ کی یک طرفہ طاقت کا دور تیزی سے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ کیریبین میں امریکہ کی موجودگی پر روسی ماہر کا تجزیہ ہے کہ امریکہ کی بحری کارروائی "Southern Spear" (نیزہ جنوبی) صرف منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف آپریشن نہیں ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کا اصل مقصد وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر قبضہ جمانا ہے اور صدر نکولاس مادورو کی قانونی حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے، یہ وہی پالیسی ہے جو واشنگٹن برسوں سے آزاد اور خودمختار اقوام کے خلاف اپناتا رہا ہے۔
وینزویلا میں انصاراللہ جیسی مسلح قوت کے ابھرنے کا امکان:
روسی ماہر خبردار کرتے ہیں اگر لاطینی امریکہ میں کوئی منظم طاقت ہے، جس کے پاس میزائل، ڈرونز اور غیر روایتی جنگ کی مہارت ہے تو وہ انصاراللہ کی طرز پر تشکیل پا رہی ہے، تو امریکہ ایک ایسے خطرے سے دوچار ہوگا جس کے لیے وہ کبھی تیار نہیں رہا۔ بحیرہ احمر اور خلیج عدن کا تجربہ یہ واضح کرتا ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں یمنی مزاحمت نے دنیا کے طاقتور ترین بحری بیڑوں کو پیچھے ہٹنے اور احتیاط برتنے پر مجبور کیا، یہی ماڈل اب لاطینی امریکہ میں عوامی تحریکوں کے لیے نئے الہام کا ذریعہ بن رہا ہے، یہ ثابت کرتا ہے کہ عوامی مزاحمت روایتی عسکری طاقت کے تمام اصول بدل سکتی ہے۔
مغربی نصف کرہ پر امریکی اجاراداری کا خاتمہ:
غیر جانب دار تجزیہ کاروں کے مطابق اصل طاقت ایمان، عوامی ارادے اور منظم مزاحمت میں ہے، اگر انصاراللہ جیسی قوت وینزویلا میں ابھرتی ہے تو امریکہ کو اسٹریٹجک تباہی کا سامنا ہوگا، اور کیریبین میں اس کی فوجی موجودگی کمزور، مہنگی، اور غیر مؤثر ہو جائے گی۔
مزاحمت کا واضح پیغام:
امریکہ کی وینزویلا میں مداخلت، محاصرے، وسائل کی لوٹ مار اور عوام کی سیاسی آزادی میں مداخلت کا تسلسل ہے۔ ایسی صورت میں کوئی بھی قوت جو امریکی جارحیت کے مقابلے میں ڈیٹرنس قوت بن سکے، اسے عوامی مقبولیت لازماً حاصل ہو گی۔ انصاراللہ کا ماڈل، جو خود انحصاری، عسکری خودکفالت، اور آزاد سوچ پر قائم ہے، آج عالمی مثال بن چکا ہے اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک کو متاثر کر رہا ہے۔
پینٹاگون کی پریشانی، کیریبین میں یمن کا تجربہ دہرائے جانے کا خدشہ:
دیلیاجین نے امریکی ایئرکرافٹ کیریئر USS Gerald Ford کی موجودگی کو امریکہ کے بڑے جیو پولیٹیکل منصوبے کا حصہ قرار دیا ہے، لیکن ان کے مطابق اگر انصاراللہ جیسی طاقت وینزویلا میں بنی، تو یہ بڑے بڑے جنگی بحری جہاز بھی بے فائدہ اور آسان ہدف بن جائیں گے۔ اس وقت بحیرہ احمر سے لاطینی امریکہ تک مزاحمتی ماڈل کی گونج ہے۔ جس طرح یمنی مزاحمت نے بحیرہ احمر کا فوجی توازن بدل دیا ویسا ہی منظر کیریبین میں بھی پیدا ہو سکتا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عوامی مزاحمت کا ماڈل عالمی سطح پر پھیل رہا ہے، اور امریکہ اب خود کو مغربی نصف کرہ کا بے تاج بادشاہ نہیں سمجھ سکتا۔
یک طرفہ امریکی طاقت کا خاتمہ:
دیلیاجین کے تجزیے کا نتیجہ ہے کہ اگر انصاراللہ جیسی قوت وینزویلا میں ابھرتی ہے تو امریکہ کو اپنے فرسودہ جنگی جہاز پیچھے کھینچنے پڑیں گے کیونکہ یک طرفہ طاقت کے اظہار کا زمانہ ختم ہو چکا ہے۔ آج عوامی مزاحمت، چاہے وہ مغربی ایشیا میں ہو یا لاطینی امریکہ میں، ایک فیصلہ کن عالمی قوت کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اگر انصاراللہ جیسی لاطینی امریکہ وینزویلا میں عوامی مزاحمت کیریبین میں امریکہ کی کے مطابق رہا ہے
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے