عاصم افتخاراحمد کا جنرل اسمبلی مباحثے میں عالمی ادارے میں طاقت کےعدم توازن پرگہری تشویش کااظہار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ویٹو کے حق پر مباحثہ میں پاکستان نے ویٹو کا خاتمہ یا سخت پابندی ناگزیر قرار دے دی۔ یہ بھی واضح کیا ہے کہ سلامتی کونسل میں مستقل نشستوں کا اضافہ مسائل بڑھانے کا سبب بنےگا، طاقت کا توازن بہتر کرنے کیلئے غیرمستقل ارکان کی تعداد 10 سےبڑھا کر 20 کرنے کی تجویز بھی دے دی۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخاراحمد نے جنرل اسمبلی مباحثے میں عالمی ادارے میں طاقت کےعدم توازن پرگہری تشویش کااظہار کیا۔ کہا۔ جنرل اسمبلی عالمی جمہوری عمل کا سب سے بڑا فورم ہے، ویٹو کے مسئلے کا حل سلامتی کونسل کی مجموعی اصلاح سے جڑا ہے۔ عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان مستقل اراکین کی تعداد بڑھانے کی مخالفت کرتاہے کیونکہ اس سے طاقت کاتوازن مزید بگڑے گا۔ ویٹو کا بےجا استعمال بین الاقوامی امن وسلامتی کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتاہے، بڑی طاقتوں کی رقابتیں اکثر ویٹو کےغلط استعمال کا باعث بنتی ہیں، سلامتی کونسل میں مزید مستقل نشستوں اور ویٹواختیارات کا اضافہ مسئلے کو کئی گنا بڑھادےگا۔ پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ مسئلے کا واحد حل ویٹو کے اختیارات کو ختم کرنا یا استعمال پر سخت حدود نافذ کرنا ہے، ویٹو کے حق میں کسی قسم کی توسیع قابلِ قبول نہیں، البتہ منتخب غیرمستقل اراکین کی تعداد بڑھا کرسلامتی کونسل کومزید جمہوری بنایا جاسکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جنرل اسمبلی ویٹو کے
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔