Express News:
2026-06-03@02:25:57 GMT

غزہ پر سلامتی کونسل کی قرارداد منظور

اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT

غزہ میں امن کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے امن معاہدہ پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ووٹنگ ہو گئی ہے۔ سلامتی کونسل کے تمام ممبران نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ البتہ چین اور روس نے اس ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ انھوں نے ووٹ کا حق ہی استعمال نہیں کیا ہے۔ پاکستان میں کچھ دوستوں کی رائے ہے کہ پاکستان نے چین کا ساتھ نہ دے کر چین کے ساتھ غداری کی ہے۔ پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

پہلی بات یہ سمجھنے کی ہے کہ سلامتی کونسل میں بڑے ممالک اپنا ووٹ اپنے اپنے ملکی مفاد میں استعمال کرتے ہیں۔ روس اور چین اگر چاہتے تو ڈونلڈ ٹرمپ کے معاہدے کو ویٹو بھی کر سکتے تھے۔ اگر وہ خلاف ووٹ ڈالتے تو یہ قرارداد منظور نہیں ہو سکتی تھی۔ ان دونوں ممالک کے پاس ویٹو ہے۔

ویٹو کا مطلب ہے کہ اگر یہ خلاف ووٹ ڈال دیں تو ووٹنگ کا عمل بے معنی ہو جاتا ہے۔ اس لیے پہلی بات تو یہ سمجھیں کہ ووٹ کا حق استعمال نہ کر کے بھی ان دونوں ممالک نے بالواسطہ طور پر اس قرارداد کو راستہ فراہم کیا ہے۔ اس کی منظوری کے لیے سہولت کاری کی ہے۔ اس لیے یہ بات سمجھیں کہ اگر وہ ٹرمپ کے منصوبے کے ساتھ نہیں کھڑے تو اس کے خلاف بھی نہیں کھڑے۔

یہ ضرورہے کہ چونکہ اس منصوبے کے دولہا ٹرمپ ہیں، روس اور چین کا اس میں کوئی اہم کردار نہیں ہے۔ اس لیے وہ اس سے خود کو دور رکھ رہے ہیں۔ ویسے بھی ہم نے دیکھا ہے کہ فلسطین اور غزہ پر یورپ میں زیادہ بات ہوئی ہے۔ روس اور چین نے ایک خاص حکمت عملی کے تحت خود کو اس سے دور ہی رکھا ہے۔ وہ فلسطین کے ساتھ مکمل کھڑے نہیں ہیں۔ اس لیے انھوں نے اپنی پالیسی کے تحت ہی کام کیا ہے۔

ایک رائے یہ بھی ہے کہ روس اس وقت یوکرین کی جنگ میں پھنسا ہوا ہے،اسے یوکرین میں رعائتیں چاہیے۔ اگر امریکا روس کی مدد کرے تو روس یوکرین میں اپنے اہداف حاصل کر سکتا ہے۔ اس قرارداد کے بعد ہی یوکرین جنگ میں امریکا اور روس کے درمیان جاری تعطل ختم ہوگیا ہے۔ امریکا کا اعلیٰ سطح کا عسکری وفد روس پہنچ گیا ہے۔ ٹرمپ اور پوٹن کی دوبارہ ملاقات کی خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں۔ جن دنوں یہ قرارداد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر بحث تھی روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر حملوں میں اضافہ کر دیا تھا۔ روس کی یوکرین پر چڑھائی بڑھ گئی تھی۔ امریکا اب یوکرین کو میزائیل نہیں دے رہا۔ کہیں نہ کہیں ہم کہہ سکتے ہیں کہ روس نے ووٹ نہ دینے کے عوض یوکرین کی جنگ میں امریکا سے رعایت لی ہے۔ اس لیے روس نے کہیں نہ کہیں اپنے مفادات کا تحفظ کیا ہے۔

اسی طرح چین اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدہ ہو گیا ہے۔ چین کو ٹریڈ ڈیل مل گئی ۔ ایک وقت میں امریکا اور چین کے درمیان جو ڈیڈ لاک نظر آرہا تھا وہ ختم ہوا۔ چین کے صدر شی اور ٹرمپ کی ملاقات ہو گئی ہے۔ یہ سب کچھ ایسے ہی نہیں ہوا۔ چین نے بھی اپنے مفادات کا تحفظ کیا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ بھارت کے ساتھ ابھی تک ٹریڈ ڈیل نہیں ہوئی ہے۔ چین کے لیے بھی فلسطین سے زیادہ اہم اپنی تجارت تھی۔ اس لیے چین نے اپنے مفادات کا تحفظ کر کے ہی اس قرارداد کو راستہ دیا ہے۔ ورنہ چین اس کو ویٹو بھی کر سکتا تھا۔ اس لیے ہمارے وہ دوست جو یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان نے چین کے ساتھ دھوکا کر دیا ہے، وہ غلط کہہ رہے ہیں۔

جن دوستوں کی یہ رائے ہے کہ ہم نے چین پر امریکا کو ترجیح دے دی ہے، وہ بھی غلط کہہ رہے ہیں۔ عالمی سیاست میں آپ اکٹھے چلتے ہیں لیکن اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے۔ ہم نے چین کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔ ہم نے چین کی کہیں مخالفت نہیں کی ہے۔ اس لیے پراپیگنڈا اپنی جگہ، حقیقت اپنی جگہ۔

جہاں تک حماس کا تعلق ہے۔ حماس کے لیے جذبات اپنی جگہ۔ لیکن مسلم ممالک حماس کے ساتھ نہیں ہیں۔ حماس نے تمام مسلم ممالک کا اعتماد کھو دیا ہے۔ آج ایران بھی کھل کر حماس کے ساتھ کھڑا نظر نہیں آرہا۔ حماس کی اپنی پالیسی بھی غیر واضح ہے۔ وہ اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات خود بھی کرتے ہیں، امن معاہدہ بھی کرتے ہیں، یرغمالیوں کے لیے مذاکرات بھی کرتے ہیں۔ ایسے میں وہ باقی مسلم دنیا کو کیسے روک سکتے ہیں۔ اگر وہ خود اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی میز پر نہ بیٹھیں تو تب ہی دوسروں کو منع کر سکتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ وہ جنگ ہار بھی گئے ہیں اور انھوں نے ہزاروں فلسطینیوں کی جانیں بھی گنوا دی ہیں۔ ان کے پاس فلسطینیوں کے لیے کوئی روڈ میپ بھی نہیں ہے۔ ایسے میں کیا کیا جائے۔

ویسے بھی پاکستان فلسطین اور غزہ کے معاملہ پر مسلم دنیا کے ساتھ مل کر چل رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان کا ایک کلیدی کردار نظر آرہا ہے۔ غزہ کے معاملے پر صدر ٹرمپ نے جن سات مسلم ممالک کے ساتھ مشاورت کی تھی پاکستان ان میں شامل تھا۔ ہم مسلم ممالک کے درمیان ٹرمپ معاہدہ کے حوالے سے ہونے والی سفارتکاری میں بہت اہم رہے ہیں۔ حال ہی میں اردن کے بادشاہ آئے۔پاکستان اس لیے بھی اہم رہا کیونکہ پاکستان اس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ممبر ہے۔ اس لیے ہمارے ووٹ کی بہت اہمیت تھی۔ اس اہمیت نے پاکستان کو سفارتکاری میں ایک مقام دیا۔

اب جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ پاکستان کی افواج غزہ جائیں گی یا نہیں۔ یہ اہم سوال ہے ۔ سب پوچھ رہے ہیں ۔ ابھی تک کوئی صورتحال واضح نہیں۔ حکومت پاکستان نے بھی ابھی تک کوئی واضح اعلان نہیں کیا ہے۔ نہ ہم نے کہا ہے کہ ہم فوج بھیجیں گے اور نہ ہم کہہ رہے ہیں کہ ہم نہیں بھیجیں گے۔ اردن کے بادشاہ حال ہی میں پاکستان آئے۔ اردن نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ میں اپنی فوج نہیں بھجوائے گا۔ اس طرح پاکستان ان ممالک کے ساتھ بھی کھڑا نظر آرہا ہے جو غزہ میں فوج نہیں بھیج رہے ہیں۔ دوسری طرف مصر غزہ میں بھیجی جانے والی فوج کا اہم رکن ابھر کر سامنے آیا ہے۔

حال ہی میں پاکستان کے فیلڈ مارشل مصر گئے اور وہاں کی عسکری قیادت سے بھی مل کر آئے۔ اس طرح ہم ان ممالک کے ساتھ بھی کھڑے نظر آرہے ہیں کہ جو غزہ میں فوج بھیج رہے ہیں۔ پاکستان کو جو بھی فیصلہ کرنا ہے، سوچ سمجھ کر کرنا ہے، مسلم ممالک کے ساتھ مل کر کرنا ہے۔ ہمیں کوئی ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ سعودی عرب ہمارا بڑا اتحادی ہے۔ ہمیں سعودی عرب کے ساتھ مل کر بھی چلنا ہے۔ ہم الگ نہیں رہ سکتے ۔ جو لوگ الگ رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں وہ پاکستان کے مفاد میں بات نہیں کر رہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اپنے مفادات کا تحفظ ممالک کے ساتھ سلامتی کونسل کہہ رہے ہیں پاکستان نے کہ پاکستان مسلم ممالک رہے ہیں کہ پاکستان ا کے درمیان کرتے ہیں ٹرمپ کے اور چین نے چین اس لیے کے لیے چین کے بھی کر دیا ہے کیا ہے

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور