Express News:
2026-07-24@05:54:39 GMT

غزہ پر سلامتی کونسل کی قرارداد منظور

اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT

غزہ میں امن کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے امن معاہدہ پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ووٹنگ ہو گئی ہے۔ سلامتی کونسل کے تمام ممبران نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ البتہ چین اور روس نے اس ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ انھوں نے ووٹ کا حق ہی استعمال نہیں کیا ہے۔ پاکستان میں کچھ دوستوں کی رائے ہے کہ پاکستان نے چین کا ساتھ نہ دے کر چین کے ساتھ غداری کی ہے۔ پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

پہلی بات یہ سمجھنے کی ہے کہ سلامتی کونسل میں بڑے ممالک اپنا ووٹ اپنے اپنے ملکی مفاد میں استعمال کرتے ہیں۔ روس اور چین اگر چاہتے تو ڈونلڈ ٹرمپ کے معاہدے کو ویٹو بھی کر سکتے تھے۔ اگر وہ خلاف ووٹ ڈالتے تو یہ قرارداد منظور نہیں ہو سکتی تھی۔ ان دونوں ممالک کے پاس ویٹو ہے۔

ویٹو کا مطلب ہے کہ اگر یہ خلاف ووٹ ڈال دیں تو ووٹنگ کا عمل بے معنی ہو جاتا ہے۔ اس لیے پہلی بات تو یہ سمجھیں کہ ووٹ کا حق استعمال نہ کر کے بھی ان دونوں ممالک نے بالواسطہ طور پر اس قرارداد کو راستہ فراہم کیا ہے۔ اس کی منظوری کے لیے سہولت کاری کی ہے۔ اس لیے یہ بات سمجھیں کہ اگر وہ ٹرمپ کے منصوبے کے ساتھ نہیں کھڑے تو اس کے خلاف بھی نہیں کھڑے۔

یہ ضرورہے کہ چونکہ اس منصوبے کے دولہا ٹرمپ ہیں، روس اور چین کا اس میں کوئی اہم کردار نہیں ہے۔ اس لیے وہ اس سے خود کو دور رکھ رہے ہیں۔ ویسے بھی ہم نے دیکھا ہے کہ فلسطین اور غزہ پر یورپ میں زیادہ بات ہوئی ہے۔ روس اور چین نے ایک خاص حکمت عملی کے تحت خود کو اس سے دور ہی رکھا ہے۔ وہ فلسطین کے ساتھ مکمل کھڑے نہیں ہیں۔ اس لیے انھوں نے اپنی پالیسی کے تحت ہی کام کیا ہے۔

ایک رائے یہ بھی ہے کہ روس اس وقت یوکرین کی جنگ میں پھنسا ہوا ہے،اسے یوکرین میں رعائتیں چاہیے۔ اگر امریکا روس کی مدد کرے تو روس یوکرین میں اپنے اہداف حاصل کر سکتا ہے۔ اس قرارداد کے بعد ہی یوکرین جنگ میں امریکا اور روس کے درمیان جاری تعطل ختم ہوگیا ہے۔ امریکا کا اعلیٰ سطح کا عسکری وفد روس پہنچ گیا ہے۔ ٹرمپ اور پوٹن کی دوبارہ ملاقات کی خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں۔ جن دنوں یہ قرارداد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر بحث تھی روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر حملوں میں اضافہ کر دیا تھا۔ روس کی یوکرین پر چڑھائی بڑھ گئی تھی۔ امریکا اب یوکرین کو میزائیل نہیں دے رہا۔ کہیں نہ کہیں ہم کہہ سکتے ہیں کہ روس نے ووٹ نہ دینے کے عوض یوکرین کی جنگ میں امریکا سے رعایت لی ہے۔ اس لیے روس نے کہیں نہ کہیں اپنے مفادات کا تحفظ کیا ہے۔

اسی طرح چین اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدہ ہو گیا ہے۔ چین کو ٹریڈ ڈیل مل گئی ۔ ایک وقت میں امریکا اور چین کے درمیان جو ڈیڈ لاک نظر آرہا تھا وہ ختم ہوا۔ چین کے صدر شی اور ٹرمپ کی ملاقات ہو گئی ہے۔ یہ سب کچھ ایسے ہی نہیں ہوا۔ چین نے بھی اپنے مفادات کا تحفظ کیا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ بھارت کے ساتھ ابھی تک ٹریڈ ڈیل نہیں ہوئی ہے۔ چین کے لیے بھی فلسطین سے زیادہ اہم اپنی تجارت تھی۔ اس لیے چین نے اپنے مفادات کا تحفظ کر کے ہی اس قرارداد کو راستہ دیا ہے۔ ورنہ چین اس کو ویٹو بھی کر سکتا تھا۔ اس لیے ہمارے وہ دوست جو یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان نے چین کے ساتھ دھوکا کر دیا ہے، وہ غلط کہہ رہے ہیں۔

جن دوستوں کی یہ رائے ہے کہ ہم نے چین پر امریکا کو ترجیح دے دی ہے، وہ بھی غلط کہہ رہے ہیں۔ عالمی سیاست میں آپ اکٹھے چلتے ہیں لیکن اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے۔ ہم نے چین کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔ ہم نے چین کی کہیں مخالفت نہیں کی ہے۔ اس لیے پراپیگنڈا اپنی جگہ، حقیقت اپنی جگہ۔

جہاں تک حماس کا تعلق ہے۔ حماس کے لیے جذبات اپنی جگہ۔ لیکن مسلم ممالک حماس کے ساتھ نہیں ہیں۔ حماس نے تمام مسلم ممالک کا اعتماد کھو دیا ہے۔ آج ایران بھی کھل کر حماس کے ساتھ کھڑا نظر نہیں آرہا۔ حماس کی اپنی پالیسی بھی غیر واضح ہے۔ وہ اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات خود بھی کرتے ہیں، امن معاہدہ بھی کرتے ہیں، یرغمالیوں کے لیے مذاکرات بھی کرتے ہیں۔ ایسے میں وہ باقی مسلم دنیا کو کیسے روک سکتے ہیں۔ اگر وہ خود اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی میز پر نہ بیٹھیں تو تب ہی دوسروں کو منع کر سکتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ وہ جنگ ہار بھی گئے ہیں اور انھوں نے ہزاروں فلسطینیوں کی جانیں بھی گنوا دی ہیں۔ ان کے پاس فلسطینیوں کے لیے کوئی روڈ میپ بھی نہیں ہے۔ ایسے میں کیا کیا جائے۔

ویسے بھی پاکستان فلسطین اور غزہ کے معاملہ پر مسلم دنیا کے ساتھ مل کر چل رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان کا ایک کلیدی کردار نظر آرہا ہے۔ غزہ کے معاملے پر صدر ٹرمپ نے جن سات مسلم ممالک کے ساتھ مشاورت کی تھی پاکستان ان میں شامل تھا۔ ہم مسلم ممالک کے درمیان ٹرمپ معاہدہ کے حوالے سے ہونے والی سفارتکاری میں بہت اہم رہے ہیں۔ حال ہی میں اردن کے بادشاہ آئے۔پاکستان اس لیے بھی اہم رہا کیونکہ پاکستان اس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ممبر ہے۔ اس لیے ہمارے ووٹ کی بہت اہمیت تھی۔ اس اہمیت نے پاکستان کو سفارتکاری میں ایک مقام دیا۔

اب جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ پاکستان کی افواج غزہ جائیں گی یا نہیں۔ یہ اہم سوال ہے ۔ سب پوچھ رہے ہیں ۔ ابھی تک کوئی صورتحال واضح نہیں۔ حکومت پاکستان نے بھی ابھی تک کوئی واضح اعلان نہیں کیا ہے۔ نہ ہم نے کہا ہے کہ ہم فوج بھیجیں گے اور نہ ہم کہہ رہے ہیں کہ ہم نہیں بھیجیں گے۔ اردن کے بادشاہ حال ہی میں پاکستان آئے۔ اردن نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ میں اپنی فوج نہیں بھجوائے گا۔ اس طرح پاکستان ان ممالک کے ساتھ بھی کھڑا نظر آرہا ہے جو غزہ میں فوج نہیں بھیج رہے ہیں۔ دوسری طرف مصر غزہ میں بھیجی جانے والی فوج کا اہم رکن ابھر کر سامنے آیا ہے۔

حال ہی میں پاکستان کے فیلڈ مارشل مصر گئے اور وہاں کی عسکری قیادت سے بھی مل کر آئے۔ اس طرح ہم ان ممالک کے ساتھ بھی کھڑے نظر آرہے ہیں کہ جو غزہ میں فوج بھیج رہے ہیں۔ پاکستان کو جو بھی فیصلہ کرنا ہے، سوچ سمجھ کر کرنا ہے، مسلم ممالک کے ساتھ مل کر کرنا ہے۔ ہمیں کوئی ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ سعودی عرب ہمارا بڑا اتحادی ہے۔ ہمیں سعودی عرب کے ساتھ مل کر بھی چلنا ہے۔ ہم الگ نہیں رہ سکتے ۔ جو لوگ الگ رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں وہ پاکستان کے مفاد میں بات نہیں کر رہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اپنے مفادات کا تحفظ ممالک کے ساتھ سلامتی کونسل کہہ رہے ہیں پاکستان نے کہ پاکستان مسلم ممالک رہے ہیں کہ پاکستان ا کے درمیان کرتے ہیں ٹرمپ کے اور چین نے چین اس لیے کے لیے چین کے بھی کر دیا ہے کیا ہے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی