فلسطین دشمنی پر مبنی سلامتی کونسل کی قرارداد
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: امریکی قرارداد کی حمایت صرف ایک سفارتی حرکت نہیں، بلکہ ایک اخلاقی بحران ہے۔ یہ مظلوم فلسطینی عوام کی امیدوں، مسلم اتحاد کے تصور اور عالمی عدل کی بنیادوں پر کاری ضرب ہے۔ پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کو چاہیئے کہ وہ عالمی دباؤ سے بے نیاز ہو کر ایک غیر مشروط، اصولی اور جرات مندانہ مؤقف اختیار کریں۔ فلسطین کی آزادی صرف ایک قوم کا مسئلہ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی اجتماعی عزت، غیرت اور نظریاتی تشخص کا مسئلہ ہے۔ تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
انبیاء علیہم السلام کی سرزمین فلسطین ایک صدی سے زائد عرصہ سے غاصب صیہونی سازشوں کا نشانہ بنتی چلی آرہی ہے۔ ظلم و جبر کی ایسی داستان رقم کی گئی ہے، جس کی تاریخ میں کم ہی مثال ملتی ہے۔ فلسطین کے عوام سیاسی، معاشی اور اخلاقی سمیت ہر طرح کی نا انصافی اور جبر کا مقابلہ اپنے صبر اور استقامت کے ساتھ کرتے آئے ہیں اور آج کی جدید دنیا میں بھی فلسطینیوں نے ثابت کیا ہے کہ ان کے صبر اور استقامت کے مقابلہ میں دنیا کی سپر طاقتیں بے بس ہوچکی ہیں۔ فلسطین کا مسئلہ نہ صرف مسلم امہ کے اجتماعی ضمیر کا امتحان ہے بلکہ عالمی سیاسی قوتوں کے کردار کا عکاس بھی ہے۔ گذشتہ کئی برسوں سے جاری اسرائیلی جارحیت، فلسطینیوں کی نسل کشی، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور غزہ کی تباہ کن صورتحال کے باوجود عالمی طاقتیں خصوصاً امریکہ کھل کر اسرائیل کی پشت پناہی کرتی آئی ہیں۔
گذشتہ دو سال کی جنگ میں بھی امریکی حکومت نے کھلم کھلا غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کی بھرپور مدد کی ہے اور فلسطینی عوام پر ہونے والی وحشیانہ جارحیت کی آج تک مذمت نہیں کی ہے۔ ایسے ماحول میں کہ جہاں امریکہ نے ایک طرف غزہ میں ہونے والی نسل کشی کی سرپرستی کی ہے، وہاں اب دوسری طرف غزہ پر اپنا مکمل تسلط قائم کرنے کے لئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی امریکی قرارداد دراصل وہی سیاسی ہتھکنڈہ ہے، جس کے ذریعے اسرائیل کو مزید وقت، جواز اور مدد فراہم کی جائے گی۔ یعنی یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ فلسطین کی مزاحمت کے سامنے امریکہ اور اسرائیل جو کچھ کھلے میدان کی جنگ میں حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں، اب دنیا کے چند ممالک کی مدد سے یا پھر یہ کہہ لیجئے کہ مسلمان ممالک کی خیانت کاری کی مدد سے غزہ کو شکست دینا چاہتے ہیں۔
گذشتہ دنوں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی امریکی قرارداد ایسی ہی سازشوں کی کڑی تھی، جن میں غزہ پر امریکی و اسرائیلی تسلط کو یقینی بنانا، غزہ کی مزاحمت کو ختم کرنا، فلسطین سے جبری جلا وطن فلسطینیوں کو واپس وطن نہ آنے دینا اور فلسطین کے مستقبل اور قسمت کا فیصلہ فلسطینیوں کو نہ کرنے دینا ہے۔ یہ امریکی قرارداد اسی طرح کی ناانصافی پر مبنی ہے، جیسا کہ سنہ 1917ء میں بالفور اعلامیہ تھا اور بعد ازاں سنہ1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 181 تھی، جس میں فلسطین کی سرزمین پر غاصب صیہونیوں کو قبضہ کرنے کا گرین سگنل دیا گیا تھا۔ حیرت انگیز اور افسوسناک امر یہ ہے کہ سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی امریکی قرارداد پر پاکستان سمیت چند مسلم ممالک نے کھلم کھلا حمایت کی، کچھ نے خاموشی اختیار کی اور چند اہم ممالک خصوصاً پاکستان نے بھی غیر واضح اور کمزور سفارتی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا۔ یہ رویہ نہ صرف فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت، حق واپسی اور حق مزاحمت کے خلاف ہے بلکہ مسلم دنیا کی سیاسی خود مختاری اور نظریاتی بنیادوں کے لیے بھی ایک لمحۂ فکریہ ہے۔
ایک اور حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ چین اور روس نے اس قرارداد پر نقطہ چینی کی اور قرارداد کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔ اگرچہ ان کے غیر حاضر ہونے سے بھی اس قرارداد کو منظور کر لیا گیا، لیکن تاریخ میں یہ بھی لکھا جائے گا کہ جہاں چین اور روس نے ویٹو نہیں کیا، وہاں انہوں نے اس قرارداد پر اعتراض لگایا، لیکن مسلمان ممالک کی جانب سے ایسا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جس نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ مسلمان حکمران امریکہ کی کاسہ لیسی میں مصروف ہیں۔ روسی مندوب نے سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی امریکی قرارداد کو غیر متوازن قرار دیا اور سخت نقطہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کی قراردادیں بین الاقوامی قانونی فیصلوں (مثلاً ریاستِ فلسطین کی بین الاقوامی تسلیم شدہ حیثیت) کی روشنی میں ہونی چاہئیں۔ روسی مندوب نے کہا کہ بعض قراردادیں بین الاقوامی قانونی فیصلوں (مثلاً اقوامِ متحدہ کی دوسری قراردادوں) کے منافی ہیں اور انہیں مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر مستقل انتظام دینے کا خطرہ ہوسکتا ہے، جو فلسطینی خود ارادیت کی روح سے متصادم ہے۔ روسی مندوب نے غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس (stabilization force) کی تعیناتی پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
سلامتی کونسل میں پیش ہونے والی امریکی قرارداد بظاہر جنگ بندی یا انسانی امداد جیسے الفاظ پر مبنی ہے، لیکن اس کے پسِ پشت اسرائیلی مفادات اور امریکی اسٹریٹجک مقاصد پوشیدہ ہیں۔ اس قرارداد میں غزہ جنگ بندی سے متعلق جرائم کرنے والے نیتن یاہو کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ فلسطینیوں کی نسل کشی کو اسرائیل کا دفاعی حق قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح فلسطینی مزاحمت جو کہ عالمی قوانین کی رو سے ایک جائز حق ہے، اس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اس مزاحمت کو ختم کرنے یا غیر مسلح کرنے کی بات کی گئی ہے، ساتھ ساتھ غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) کے قیام کے لئے مسلمان ممالک کی افواج کو امریکی و برطانوی سرپرستی میں تعینات کرنے کا ذکر ہے، ان افواج کا کام غزہ میں موجود فلسطینی مزاحمت کو غیر مسلح کرنا بتایا گیا ہے۔ یقینی طور پر ایسی قرارداد کی حمایت کرنا عملاً مظلوم کی بجائے ظالم کے بیانیے کو تقویت دینا ہے۔
دیگر مسلم ممالک کے ساتھ پاکستان نے بھی امریکہ کے ایسے بیانیہ کی حمایت میں ووٹ دیا ہے، جو فلسطین مخالف ہے اور فلسطینی عوام کےحق کو پامال کرتا ہے۔ اس موقف نے پاکستان کی تاریخی حیثیت اور تاریخی موقف پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ پاکستان تاریخی طور پر فلسطین کا کھلا اور غیر مشروط حمایتی ملک رہا ہے۔ مگر حالیہ برسوں میں پاکستان کی خارجہ پالیسی میں وہ جرات، وہ استعمار مخالف لہجہ اور وہ قائدانہ کردار کم ہوتا دکھائی دیتا ہے، جو ماضی میں اس کی پہچان تھا۔ اگر پاکستان ایسی قراردادوں پر غیر واضح یا کمزور مؤقف اپناتا رہا تو عالم اسلام میں پاکستان کی مخصوص حیثیت کمزور ہو جائے گی۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے کہ جس کے بانیان نے آزادی سے پہلے فلسطین کاز کے لئے ایک ٹھوس اور جاندار موقف اپنایا، جو انصاف کے تقاضوں پر مبنی تھا۔ اسی طرح جب پاکستان آزاد ہوا تو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے ہمیشہ اسرائیل کو ناجائز ریاست قرار دیا اور اٹل فیصلہ دیا کہ پاکستان کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔
پاکستان ہمیشہ قبلہ اول کے دفاع اور فلسطینیوں کے حق کے لئے بین الاقوامی فورمز پر مضبوط دلائل دیتا آیا ہے۔ لیکن اب سلامتی کونسل میں پاکستان نے امریکی مؤقف کی حمایت کرکے ایک ایسی قرارداد کو ووٹ دیا ہے، جس کو خود فلسطینی عوام نے مسترد کر دیا ہے۔ پاکستان کے اس عمل سے جہاں پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو دھچکا پہنچا ہے، وہاں ساتھ ساتھ فلسطینیوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔ سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی امریکی قرارداد کی حمایت کرنے سے پاکستان نے مسلم دنیا کے اتحاد کے میدان میں بھی اپنا موقف کمزور کر لے گا۔ یہ صرف فلسطین کاز کا نقصان نہیں ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان ہے۔ پاکستان امتِ مسلمہ میں ایک نظریاتی اور ایٹمی طاقت کے طور پر اثر رکھتا ہے۔ اس کا کمزور اور لچکدار مؤقف مسلم اتحاد کو مزید کمزور کرے گا۔ سلامتی کونسل میں امریکی قرارداد کی حمایت حکومت کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے، جبکہ پاکستان کے عوام اس پالیسی کے ساتھ نہیں ہیں۔ پاکستان کا کوئی بھی شہری حکومت کے اس فیصلہ کو درست قرار نہیں دے گا، کیونکہ پاکستانی عوام فلسطین کے معاملے پر انتہائی واضح اور جذباتی مؤقف رکھتے ہیں۔
اگر کوئی پاکستان کے حکمرانوں کو یہ بتا رہا ہے کہ فلسطین کاز سے روگردانی کرنے اور اس کے عوض امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے ذریعہ پاکستان کو ترقی حاصل ہوگی اور پاکستان ایک دم ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں آئے گا تو یقیناً ایسے لوگ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے جس جس نے امریکہ کی وفاداری کا دم بھرا ہے، امریکی حکومت نے اس ملک کا بدترین حال کیا ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں کئی عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کیے ہیں۔ یہ تعلقات اب ان کی خارجہ پالیسی کو فلسطین سے دور کر رہے ہیں۔ لیکن کیا ان عرب ممالک میں بسنے والے لاکھوں کروڑوں عوام کو فلسطین سے دور کیا جا سکا ہے۔؟ دراصل یہ امریکہ نے پاکستان اور مسلم ممالک کے خلاف ایک سنگین سازش کا جال بنایا ہے، جس میں طاقتور افواج رکھنے والے مسلمان ممالک کو کمزور کرنا ہے، تاکہ آئندہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امریکی غلامی کا طوق ان کی گردن میں رہے۔
فلسطینی قومی دھڑوں نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ سلامتی کونسل کی یہ قرارداد امن کے لئے نہیں بلکہ اسرائیل کو فوائد پہنچانے کے لئے ہے۔ حماس سمیت فلسطین کی تمام سیاسی و مزاحمتی تنظیموں نے اس قرارداد کو غزہ دشمنی سے منسوب کیا ہے اور اسے اسرائیل کے لئے فلسطینیوں کے قتل عام کا نیا لائسنس اور اجازت نامہ قرار دیا ہے۔ یہ فلسطین کی جدوجہد اور قربانیوں کو بدنام کرنے کی سازش ہے، جس پر پاکستان سمیت مسلمان ممالک نے دستخط کئے ہیں۔ اگر واقعی مسلمان ممالک فلسطین کے لئے امن اور انصاف چاہتے ہیں تو پھر آئیں امریکی قرارداد کو مسترد کریں اور اپنی ایک ایسی قرارداد پیش کریں، جس میں غزہ میں مستقل جنگ بندی، اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات، قاتلوں کا احتساب، قاتلوں کی مدد کرنے والے ممالک اور ان کے حکمرانوں کا احتساب، فلسطین کے مسئلہ کا اصولی حل، جو فلسطینی عوام کی خواہشات کے مطابق ہو۔
اسی طرح اسرائیل کے ساتھ قائم کردہ تعلقات کو منسوخ کرنا چاہیئے، غزہ کے لئے انسانی امداد کی فراہمی، فلسطینی مزاحمت کی اخلاقی و سیاسی حمایت جیسے اہم نقاط شامل ہونے چاہئیں۔ ایسی قرارداد کو تمام مسلمان ممالک کو چاہیئے کہ پیش کریں اور منظور کروائیں، نہ کہ امریکہ کی یکطرفہ قرارداد کو تسلیم کرکے تاریخ میں فلسطینی کاز کے مجرم قرار پائیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ امریکی قرارداد کی حمایت صرف ایک سفارتی حرکت نہیں، بلکہ ایک اخلاقی بحران ہے۔ یہ مظلوم فلسطینی عوام کی امیدوں، مسلم اتحاد کے تصور اور عالمی عدل کی بنیادوں پر کاری ضرب ہے۔ پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کو چاہیئے کہ وہ عالمی دباؤ سے بے نیاز ہو کر ایک غیر مشروط، اصولی اور جرات مندانہ مؤقف اختیار کریں۔ فلسطین کی آزادی صرف ایک قوم کا مسئلہ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی اجتماعی عزت، غیرت اور نظریاتی تشخص کا مسئلہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی قرارداد کی حمایت مسلمان ممالک ایسی قرارداد بین الاقوامی پاکستان سمیت فلسطینی عوام اسرائیل کے قرارداد کو اور فلسطین پاکستان کی اسرائیل کو مسلم ممالک پاکستان نے فلسطین کی فلسطین کے فلسطین کا پاکستان ا ممالک کو کا مسئلہ ممالک کی متحدہ کی قرار دیا صرف ایک کے ساتھ ہے اور اور اس کے لئے کیا ہے دیا ہے
پڑھیں:
ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
حاصل مطالعہ
عبدالرحیم
ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭