لوٹوں کی باتیں وہی کرتے ہیں جو خود لوٹوں کی توہین ہے، ایمل ولی خان
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
سینیٹر ایمل ولی خان نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج آپ کسی پارلیمانی رکن کو لیڈر آف اپوزیشن کہہ رہے ہیں، اور یاد دہانی کرائی کہ جتنا لیڈر آف ہاؤس اہم ہے، اتنا ہی لیڈر آف اپوزیشن بھی اہم ہوتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آزاد گروپ کے پارلیمانی لیڈر کو اپوزیشن لیڈر کہنے کا عمل درست نہیں۔
مزید پڑھیں: بلوچستان ہائی کورٹ نے سینیٹر ایمل ولی خان کے انتخاب کو درست قرار دے دیا
ایمل ولی خان نے کہا کہ پہلے بھی ہم سنتے تھے کہ ضمیر جاگ گیا اور ووٹ دے دیا، لیکن لوٹوں کی باتیں وہی کرتے ہیں جو خود لوٹوں کی توہین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نظام کل بھی درست نہیں تھا اور آج بھی درست نہیں ہے، اور ریاست میں اس طریقہ کار کو چلنے دینا مناسب نہیں۔
مزید پڑھیں: حکومت نے ایمل ولی خان سے سیکیورٹی واپس لے لی، صدر اے این پی کا شدید ردعمل
انہوں نے واضح کیا کہ اگر ہماری پارٹی کا کوئی رکن ہمارے نظریے کے خلاف جائے گا تو ہم اس کا دفاع نہیں کر سکتے، اور جمہوری عمل میں ایسے رویے کو کبھی بھی درست یا قابلِ تعریف نہیں کہا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایمل ولی خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایمل ولی خان ایمل ولی خان
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔