پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا شکار 10 بڑے ملکوں میں شامل، گلوبل ایمیشن میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم، مل کر کام کرنا ہو گا: مریم نواز کا کوپ کانفرنس میں خطاب
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
لاہور (نیوز رپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ موسموں کی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ اب ہر فیصلے کا مرکز اور محور بن چکا ہے۔ سموگ کے خاتمے کے لئے بجٹ 94 ارب سے بڑھا کر 123 ارب روپے کر دیا۔ برازیل کے شہر بیلیم میں کوپ30 میں پاکستانی پویلین کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے کہا ہے کہ پنجاب میں جنگلات اب خاموش نہیں، جھیلیں اب ساکت نہیں، پنجاب کے جنگلات میں دھڑکن لوٹ آئے گی۔ پنجاب ماحول دوست ایندھن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کوڑے کے ہر ڈھیر کو ایندھن میں بدلنے کی طرف جارہے ہیں۔ پنجاب کلین ایئر اینڈ ای موبیلٹی ویژن کو پورے پنجاب میں پھیلا رہے ہیں۔ پنجاب نے صرف نعرے نہیں لگائے بلکہ قابل عمل سسٹم وضع کیے۔ مختلف شہروں میں 10 بڑے آٹومیٹڈ ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم لارہے ہیں۔ کوڑے سے بھرے لینڈ فل سائیڈ کو سرسبز جنگل اور سولر پارک میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ 41اضلاع میں ڈسٹرکٹ واٹر اینڈ سینی ٹیشن اتھارٹیز قائم کر چکے ہیں۔ 66شہروں میں واٹر اینڈ سینی ٹیشن پروگرام کا آغاز کررہے ہیں۔ 2500ماڈل گاؤں بنا رہے ہیں جہاں ہر گاؤں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور سینی ٹیشن کا مکمل انتظام ہوگا۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ پنجاب کے پہلے پلاسٹک مینجمنٹ سیل کے ذریعے 25لاکھ سے زائد شہریوں نے پلاسٹک کے استعمال سے انکار کا عہد کیا۔ پنجاب وائلڈ لائف اینڈ بائیو ڈائیورسٹی پروگرام کے تحت 35ہزار سے زائد پرندوں اور 700جانوروں کو بچایا۔ 23 ریچھ انسانی قید سے بچا کر ریسکیو انکلوژر میں رکھے گئے ہیں۔ پنجاب میں جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا وائلڈ لائف ہسپتال زیر تعمیر ہے۔ 3 وائلڈ لائف ریسکیو سنٹر اور وائلڈ لائف ہیلپ لائن 1107 قائم کی ہے۔ پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ اور پروٹیکٹڈ ایریاز ایکٹ کے تحت خصوصی عدالتیں قائم کی گئی ہیں۔ اگر ایمازون دنیا کا گرین ہارٹ ہے تو انڈس ریور اس کا تاریخی سرمایہ ہے۔ ایمازون اور انڈس بتاتے ہیں کہ کیسے قدرت اور انسانیت ایک دوسرے کے لئے لازم ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کوئی پیشگو ئی نہیں بلکہ زندہ جاوید حقیقت ہے۔ بیلم میں مختلف ممالک کے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے تجربات سننے، سمجھنے اور مشاہدے کرنے کیلئے آئے ہیں۔ ایمزون اور انڈس بیشک بے حد دور ہیں لیکن دونوں زمین کی دھڑکن سے منسلک ہیں۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہونے والے دس ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان کا گلوبل ایمیشن میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ پنجاب نے ایک خوفناک سیلاب کا سامنا کیا ہے۔ چناب، راوی اور ستلج بپھر گئے۔ 2025کے سیلاب میں 27اضلاع بری طرح سیلابی پانی سے زیر آب آئے۔ سیلاب سے پہلے ہی ارلی وارننگ سسٹم فعال ہوچکا تھا، ایمرجنسی انتظامات متحرک کر دیئے گئے، چند ہفتوں میں ڈیجیٹل سروے مکمل کیا گیا۔ سیلاب متاثرین کو تاریخی شفافیت کے ساتھ ریلیف چیک فوری طور پر فراہم کر دیئے گئے تھے۔ موسمیاتی اثرات کا مقابلہ اجتماعی اور عالمی تعاون سے ممکن ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے کے لئے سائنسی بنیادوں پر اشتراک عمل بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ سموگ کے خاتمے کے لئے پنجاب نے کسی انتظار کی بجائے قائدانہ کردار کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبہ پنجاب میں 100 ایئر کوالٹی مانیٹرنگ سٹیشن قائم اور مشین لرننگ سے ہمہ وقت سرگرم سموگ وار روم سے منسلک کیا۔ لاہور میں کلائمیٹ آبزرویٹری کا قیام جنوبی ایشیا کا پہلا ریئل ٹائم کلائمیٹ انٹیلی جنس مرکز ثابت ہوگی۔ درست پیشگی اطلاعات کے لئے کلائمیٹ آبزرویٹری کے ذریعے صوبے کو سیٹلائٹس اور عالمی سینسر سے جوڑا جائے گا۔ جن اضلاع میں آلودگی زیادہ پائی گئی ہے وہاں ساڑھے 8 ہزار سے زائد سیف سٹی کیمرے اور تھرمل سینسرز کا استعمال شروع کیا گیا ہے۔ پنجاب اے کیو آئی ایپ کے ذریعے شہری ہوا کا معیار خود دیکھ سکتے ہیں۔ مسلسل نگرانی کے لئے ہر انڈسٹری اور بھٹوں کو جیو ٹیگ کرکے کیو آر کوڈ سے منسلک کیا گیا۔ سپارکو اور ناسا کے ساتھ ملکر فصلوں کی باقیات کے جلانے کے عمل کی نگرانی کا آغاز کیا۔ پنجاب میں فصل جلانے کے عمل میں 65فیصد کمی آئی ہے۔ پہلی بار 5ہزار سپرسیڈرز اور 15 بیلرز اور میکانائزڈ ہارس ویسٹر کسانوں کو فراہم کیے گئے ہیں۔ حکومت پنجاب نے میکانائزیشن کے لئے 80ارب روپے کے بلاسود قرضے دیئے۔ ایک نئی گرین اکانومی تخلیق پارہی ہے۔ پنجاب کا سبز انقلاب تبدیلی کا قابل فخر اور جیتی جاگتی کہانی بن چکا ہے۔ پنجاب کے کھیتوں میں ای میکانائزیشن کا انقلاب جاری ہے۔ سائنسی اور انتظامی تخلیق شہروں سے دیہات تک پہنچ رہی ہے۔ جہاں کبھی ہل اور ہاتھ سے زمین تیار کی جاتی تھی وہاں اب ہائی پاور ٹریکٹر، رائس ٹرانسپلانٹرز اور مکئی ہارویسٹرز سے ترقی کی نئی صبح طلوع ہوئی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ سائلج مشینری، ڈرائرز، پرونیرز، سپرے اور پیوٹ ایریگیشن سسٹم نے کھیتوں کو ٹیکنالوجی اور نئی امید میں بدل دیا ہے۔ ہر مشین کے ساتھ کسانوں کی کارکردگی، عزم اور مقابلے کی صلاحیت بڑھ رہی ہے۔ ایسی زراعت کی طرف بڑھ رہے ہیں جو خوراک کی ضروریات کے ساتھ زمین کی حفاظت کو بھی یقینی بنائے گی۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ اے آئی اور مشین لرننگ سے جڑے اے کیو آئی مانیٹرز ماحولیاتی پیشگوئی سے بڑھ کر ماحولیاتی آلودگی کے خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ نگرانی کا پورا نیٹ ورک، کیمروں، سنسرز، سیٹلائٹس فیڈز تک ایک مرکزی ڈیجیٹل ڈیش بورڈ سے منسلک ہے۔ ساڑھے 12 ارب روپے سے کلائمیٹ انڈومنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے۔ پنجاب کلین ایئر اینڈ ای موبیلٹی ویژن 2030 کو پورے پنجاب میں پھیلا رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں پہلی بار پورا صوبائی ٹرانسپورٹ نیٹ ورک الیکٹرک نظام پر منسلک کیا جارہا ہے۔ 42 شہروں میں جلد 1500الیکٹرک بسیں سڑکوں پر رواں دواں ہوں گی۔ ایک لاکھ 20ہزار ای بائیک اور ای رکشے پنجاب کلین ایئر پروگرام کے تحت لائے جارہے ہیں۔ پنجاب میں جلد 1100 الیکٹرک ٹیکسیاں بھی جلد سڑکوں پر ماحول دوست معیشت کا تعارف بنیں گی۔ مختلف شہروں پر10 آٹومیٹڈ ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم لارہے ہیں۔ گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں 60 الیکٹرک میٹرو بسیں جلد شروع ہوں گی۔ پنجاب میں جدید ترین ای موبلیٹی ایکو سسٹم بنائیں جو سولر چارجنگ، ڈپو، اے آئی پر مبنی روٹ آپٹیمائزیشن اور ڈیجیٹل فیئر سسٹم سے چلے گا۔ روزانہ پچاس ہزار ٹن سے زائد کوڑا جمع ہوتا ہے، آدھا کوڑا ڈمپ سائٹس تک بھی نہیں پہنچتا اور زمین آلودگی سے دوچار ہورہی تھی۔ پہلا کاربن مارکیٹ پائلٹ پراجیکٹ لکھوڈیر میتھین اور گرین انرجی پیدا کر رہا ہے۔ لکھوڈیر کاربن کریڈٹس کما کر صاف انفراسٹرکچر میں دوبارہ سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ کچرے کو ایندھن، بائیو گیس اور کھاد میں بدل رہے ہیں۔ ری سائیکلنگ پارکس پلاسٹک، شیشہ اور دھات کو دوبارہ خام مال بنائیں گے۔ پنجاب عالمی کاربن اکانومی میں داخل ہو رہا ہے۔ کچرے کا ہر ڈھیر گرین پاور میں بدلے گا۔ کوپ 30 میں کھڑے ہو کر پورے یقین سے کہتی ہوں، پنجاب کا سفر منزل پر نہیں پہنچا بلکہ یہ محض آغاز ہے۔ پائیدار ماحول کا قیام ہماری پالیسی سے زیادہ ہماری سماجی زبان بن گیا ہے۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ نے نیوزی لینڈ کی سابق وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کے ہمراہ کوپ 30 کانفرنس کے موقع پر پاکستان پویلین کا افتتاح کیا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے کوپ 30 کانفرس میں پاکستان پویلین قائم کیا گیا ہے۔ جیسنڈا آرڈرن کو کوپ 30 کانفرس میں پیسیفک ممالک کے لئے خصوصی نمائندہ مقرر کیا گیا ہے۔ جیسنڈا آرڈرن نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے ہمراہ پنجاب حکومت کے ماحولیاتی بہتری کے اقدامات پر ڈاکومینٹری بھی دیکھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مریم نوازشریف نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی وائلڈ لائف کیا گیا ہے کلائمیٹ ا سے منسلک کے ساتھ قائم کی رہے ہیں کے لئے رہا ہے
پڑھیں:
سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔
خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔
علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز
بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔