خواجہ آصف کا بیان دینی طبقات کی توہین کے مترادف ہے،اے جی انصاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جیکب آباد (نمائندہ جسارت) جمعیت علماء اسلام سندھ کے پریس سیکرٹری ڈاکٹر اے جی انصاری نے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے جانب سے مدارس اور مساجد کے بارے میں دیے گئے متنازع بیان پر سخت ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیان نہ صرف غیر سنجیدہ بلکہ ملک کے دینی طبقات کی توہین کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف وہی شخص ہیں جنہوں نے ماضی میں اعتراف کیا تھا کہ مدارس کے طلبہ منظم، محبِ وطن اور قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں، مگر آج وہی وزیر مغرب اور امریکہ کو خوش کرنے کے لیے انہی مقدس اداروں کے خلاف زبان استعمال کر رہے ہیں۔ یہ طرزِ عمل انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے۔ڈاکٹر اے جی انصاری نے کہا کہ مدارسِ دینیہ نے ہمیشہ اس ملک کی نظریاتی اور اخلاقی سرحدوں کی حفاظت کی ہے۔ ان اداروں نے لاکھوں ایسے نوجوان تیار کیے جو دین، ملک اور قوم کی خدمت میں مصروف ہیں۔ اگر آج پاکستان میں دینی شعور اور اخلاقی تربیت باقی ہے تو اس کا سہرا انہی مدارس کے سر ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر کے اس غیر ذمہ دارانہ بیان سے نہ صرف مذہبی طبقات کے جذبات مجروح ہوئے ہیں بلکہ حکومت کی نیت پر بھی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔