WE News:
2026-07-24@05:53:57 GMT

نواز شریف نے قومی اسمبلی کے کتنے اجلاسوں میں شرکت کی؟

اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT

نواز شریف نے قومی اسمبلی کے کتنے اجلاسوں میں شرکت کی؟

سابق وزیراعظم نواز شریف 4 سال کی طویل علالت کے باعث لندن میں مقیم رہنے کے بعد 21 اکتوبر 2023 کو لندن سے واپس پاکستان پہنچے تھے، کہا یہ جا رہا تھا کہ نواز شریف اب پاکستان کے چوتھے وزیراعظم بننے کے لیے پاکستان آئے ہیں۔

عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کو واضح اکثریت تو حاصل نہ ہو سکی تاہم نواز شریف نے شہباز شریف کو ٹاسک دیا کہ وہ اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کے بعد ایک اتحادی حکومت تشکیل دیں جس کے بعد شہباز شریف کو وزیراعظم منتخب ہوگئے، جبکہ نواز شریف کی سیاست اور پارلیمنٹ میں دلچسپی کم نظر آنے لگی۔

یہ بھی پڑھیے نواز شریف آج 27ویں ترمیم کا ووٹ ڈالنے آئیں گے، خواجہ آصف کی تصدیق

نواز شریف 8 فروری 2024 کو عام انتخابات کے نتیجے میں پی ٹی آئی رہنماء ڈاکٹر یاسمین راشد کو شکست دے کر لاہور کے حلقے این اے 130 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، تاہم نواز شریف قومی اسمبلی اجلاسوں میں زیادہ شرکت کرتے نظر نہ آئے۔

موجودہ قومی اسمبلی کا 21واں اجلاس ابھی جاری ہے اور اس اجلاس میں آج 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی جائے گی جس کے لیے نواز شریف اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

ریکارڈ کے مطابق 29 فروری 2024 کو موجودہ قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس طلب کیا گیا تھا اور اب تک مجموعی طور پر 21 اجلاس 149 دنوں تک جاری رہے ہیں، تاہم سابق وزیراعظم نواز شریف نے صرف 2 اجلاسوں میں 5 دن شرکت کی ہے۔ نواز شریف نے قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں 3 دن شرکت کی اور  26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے وقت  صرف 2 دن اجلاس میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ نواز شریف 144 دن قومی اسمبلی سے غیر حاضر رہے ہیں۔ انہوں نے بجٹ اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔ علاوہ ازیں پارلیمنٹ کا ایک مشترکہ اجلاس بھی منعقد ہو چکا ہے جس میں بھی نواز شریف غیر حاضر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے کیا نواز شریف نے اپنا کردار محدود کرلیا؟

واضح رہے کہ نواز شریف نے قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں 3 دن 29 فروری، یکم اور تین مارچ کو شرکت کی۔ اس کے بعد 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے منعقدہ 10ویں اجلاس میں 2 دن 20 اور 21 اکتوبر کو شرکت کی۔ اس اجلاس میں بھی نواز شریف نے رات ساڑھے 11 بجے شرکت کی تھی اور پھر رات 12 بجے سے چند منٹ قبل اجلاس 12 بج کر 5 منٹ تک ملتوی کر دیا گیا اور پھر دوبارہ اجلاس شروع ہونے پر نواز شریف سمیت تمام ارکان کی 2 دن کی حاضری لگائی گئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: نواز شریف نے قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کی کے بعد کے لیے

پڑھیں:

جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت

تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی

جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔

معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری