محکمہ اوقاف کا اجلاس، ٹی ایل پی کی 330 مساجد، 250 مدارس اوقاف کے حوالے کرنے کا جائزہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب کے 65 ہزار سے زائد آئمہ کرام کو 25 ہزار ماہانہ وظائف کی ادائیگی کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ صوبائی وزیر اوقاف چودھری شافع حسین نے کہا کہ اوقاف آرگنائزیشن سے بجٹ کے مقررہ اہداف کا حصول لائق تحسین ہے۔ انہوں نے داتا دربار آئی ہسپتال کے ڈاکٹروں، طبی عملے کے الاؤنسز بارے سمری بھی جلد بھجوانے کی ہدایت کی۔ اسلام ٹائمز۔ اوقاف بورڈ کا اجلاس پیسک ہاوس لاہور میں منعقد ہوا۔ صوبائی وزیر اوقاف ومذہبی امور چودھری شافع حسین نے اجلاس کی صدارت کی۔ سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر طاہر رضا بخاری، ڈی جی مذہبی امور خالد محمود سندھو، ڈائریکٹر ایڈمن محمد شاکر اور بورڈ ممبران نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں 5 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر طاہر رضا بخاری نے محکمہ اوقاف کے امور بارے بریفنگ دی۔ اجلاس میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کی 330 مساجد، 250 مدارس کی محکمہ اوقاف کے حوالے کرنے کے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ اوقاف بورڈ نے مرکز تحقیقات سید ہجویرؒ کے قیام کی منظوری دے دی۔ اوقاف کے انجنئیرنگ سٹاف کو انجینئرنگ الاؤنس دینے کی بھی منظوری دی گئی۔ الاؤنس کی منظوری فنانس ڈیپارٹمنٹ کی آمادگی کیساتھ مشروط کی گئی ہے۔
وقف اراضی کی حفاظت و افادیت کیلئے اعلیٰ سطح کی کمپنی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ محکمہ کے 10 کنٹریکٹ ملازمین کے حوالے سے فنانس ڈیپارٹمنٹ سے ایڈوائس لینے کا بھی فیصلہ ہوا۔ بورڈ نے ایڈمنسٹریٹر اوقاف کی ریکروٹمنٹ کا عمل شروع کرنے کی منظوری دیدی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے 65 ہزار سے زائد آئمہ کرام کو 25 ہزار ماہانہ وظائف کی ادائیگی کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ صوبائی وزیر اوقاف چودھری شافع حسین نے کہا کہ اوقاف آرگنائزیشن سے بجٹ کے مقررہ اہداف کا حصول لائق تحسین ہے۔ انہوں نے داتا دربار آئی ہسپتال کے ڈاکٹروں، طبی عملے کے الاؤنسز بارے سمری بھی جلد بھجوانے کی ہدایت کی۔ صوبائی وزیر اوقاف نے کہا کہ قرآن کمپلیکس کی عمارت، لائبریری کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صوبائی وزیر اوقاف اجلاس میں اوقاف کے کیا گیا
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائےگا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ بجٹ سے پہلے کوئی قانون سازی نہیں ہورہی۔
واضح رہے کہ قبل ازیں قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کیا گیا تھا، تاہم آج قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس اچانک ملتوی کردیا گیا تھا، جس کے بعد واضح ہوگیا تھا کہ 5 جون کو بجٹ پیش نہیں ہوگا۔
قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ حکومت بجٹ سے قبل کوئی اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے، تاہم طارق فضل چوہدری نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews تاریخ کا اعلان طارق فضل چوہدری وفاقی بجٹ وی نیوز