اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال، انڈیکس 160,000 کی سطح عبور کرگیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز خریداری کا سلسلہ جاری رہا۔
بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں انٹر ڈے ٹریڈنگ کے دوران تقریباً 2,500 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوپہر 1:50 بجے کے قریب کے ایس ای-100 انڈیکس 160,649.61 پوائنٹس پر موجود تھا، جو 2,465.67 پوائنٹس یعنی 1.56 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں بحالی، انڈیکس میں 1500 پوائنٹس اضافہ
اہم شعبوں میں وسیع پیمانے پر خریداری دیکھی گئی، جن میں آٹو موبائل اسمبلی، سیمنٹ، کمرشل بینک، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں، او ایم سیز، پاور جنریشن اور ریفائنری شامل ہیں۔
https://Twitter.
وزنی شیئرز جیسے حبکو، اے آر ایل، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل، ڈی جی کے سی، ایچ بی ایل، ایم سی بی، ایم ای بی ایل اور یو بی ایل سبز زون میں ٹریڈ ہوئے۔
ایک اہم پیش رفت کے طور پر، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اپنے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 8 دسمبر کو طلب کیا ہے، جس میں پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری دی جائے گی۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
گزشتہ روزپاکستان اسٹاک ایکسچینج نے پچھلے سیشن میں شدید مندی کے بعد معمولی ریکوری دکھائی۔
کے ایس ای 100 انڈیکس 313.44 پوائنٹس یعنی 0.20 فیصد اضافے کے ساتھ 158,183.95 پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر، جمعرات کے روز اسٹاک مارکیٹس اور سونا مستحکم رہے کیونکہ امریکی کانگریس نے تاریخ کے طویل ترین شٹ ڈاؤن کے خاتمے کے لیے ووٹ دیا۔
سرمایہ کار اب امریکی معاشی ڈیٹا کے اجرا کے منتظر ہیں تاکہ شرحِ سود کے امکانات کا اندازہ لگا سکیں، امریکی اسٹاک فیوچرز میں معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
مزید پڑھیں: سیاسی ہلچل اسٹاک ایکسچینج پر بھاری، انڈیکس میں 2,600 پوائنٹس کی کمی
جاپان کا نکی انڈیکس 0.5 فیصد بڑھا جبکہ ٹوپکس انڈیکس تقریباً 1 فیصد اضافے کے ساتھ نئی بلندی پر پہنچ گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے مصنوعی ذہانت سے متعلق حصص فروخت کر کے دیگر شعبوں میں سرمایہ منتقل کیا۔
رات کے دوران سونے کی قیمت 4,200 ڈالر فی اونس سے تجاوز کر گئی، جبکہ بانڈز میں معمولی بہتری نے امریکی 10 سالہ ییلڈ کو 4.067 فیصد پر پہنچا دیا۔
ہانگ کانگ کا ہینگ سنگ انڈیکس ایک ماہ کی بلند ترین سطح سے معمولی نیچے آیا، جبکہ شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس میں 0.1 فیصد اضافہ ہوا۔
امریکی مارکیٹس میں ڈاؤ جونز نے نئی بلند ترین سطح چھوئی، جب کہ ٹیکنالوجی پر مبنی نیسڈیک انڈیکس میں معمولی کمی دیکھی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اضافہ انڈیکس ایگزیکٹو بورڈ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پاکستان پاکستان اسٹاک ایکسچینج ریکوری شیئرز مندی یو بی ایل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اضافہ انڈیکس ایگزیکٹو بورڈ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پاکستان پاکستان اسٹاک ایکسچینج ریکوری یو بی ایل اسٹاک ایکسچینج پاکستان اسٹاک انڈیکس میں بی ایل
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
اسلام آباد: ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، جہاں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نئے نرخوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے کے بعد سے ہوگا۔
اوگرا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔
حکام کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر رات 12 بجے کے بعد سے ہوگا، جس کے بعد ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپس پر نئے نرخ نافذ ہو جائیں گے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے اثرات پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ گزشتہ چند روز کے دوران بھی مختلف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متعدد بار اضافہ کیا جا چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خور و نوش اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، جس کے باعث مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
نئی قیمتیں ایک نظر میں
پیٹرول: 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر (4.40 روپے اضافہ)
ہائی اسپیڈ ڈیزل: 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر (3.62 روپے اضافہ)
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ قیمتیں آئندہ حکم نامے تک نافذ العمل رہیں گی۔