گزشتہ روز کی شدید مندی کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو مارکیٹ نے غیر معمولی ریکوری دکھاتے ہوئے زبردست تیزی کا مظاہرہ کیا۔

پہلے کاروباری سیشن کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 1500 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟

بدھ کی صبح 11 بج کر 55 منٹ تک کے ایس ای 100 انڈیکس 1492.

25 پوائنٹس یعنی 0.95 فیصد اضافے کے ساتھ 159,362.75 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔

Market is up at midday ????
⏳ KSE 100 is positive by +1608.87 points (+1.02%) at midday trading. Index is at 159,479.37 and volume so far is 102.8 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/ZuCU4OmBxP

— Investify Pakistan (@investifypk) November 12, 2025

مارکیٹ میں آٹوموبائل، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، آئل مارکیٹنگ کمپنیز، پاور جنریشن اور ریفائنری سیکٹرز میں سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی دیکھی گئی۔

بڑے حصص رکھنے والی کمپنیوں جیسے حبکو پاور، ماری پٹرولیم، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی، پی او ایل، پی پی ایل، ایف ایف سی، میزان بینک، نیشنل بینک اور یو بی ایل کے شیئرز سبز نشان میں ٹریڈ ہوتے رہے۔

مزید پڑھیں:اسٹاک مارکیٹ میں مندی کی واپسی، انڈیکس 700 پوائنٹس گر گیا

اقتصادی امور ڈویژن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان نے مختلف آئی ایم ایف پروگراموں کے تحت مجموعی طور پرتقریباً 2.69 ارب ڈالر بطور سود ادا کیے ہیں۔

جن میں سے 2008 سے جون 2025 تک 401.24 ملین ایس ڈی آر سرچارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔

گزشتہ روز یعنی منگل کا پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی سے گراوٹ دیکھنے میں آئی تھی جب مارکیٹ میں دوبارہ فروخت کے دباؤ نے پچھلے سیشن کے تمام اضافے مٹا دیے۔

کے ایس ای 100 انڈیکس 3667.90 پوائنٹس یعنی 2.27 فیصد کمی کے ساتھ 157,870.50 پر بند ہوا۔

مزید پڑھیں:اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟

اس مندی کی بنیادی وجوہات سیاسی کشیدگی اورغیرمستحکم سیکیورٹی صورتِ حال بتائی گئیں۔

منگل کو اسلام آباد کی ضلعی و سیشن عدالت کے باہر خودکش دھماکے میں 12 افراد جاں بحق اور 36 زخمی ہوئے تھے، جس کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی۔

بین الاقوامی سطح پر بدھ کو ایشیائی مارکیٹس میں محتاط تیزی دیکھی گئی۔

امریکی کانگریس میں وفاقی شٹ ڈاؤن کے خاتمے کی توقع اور حکومتی ڈیٹا کی عدم دستیابی کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں:سرمایہ کاروں کا اعتماد اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کا باعث، کیا معیشت مستحکم ہورہی ہے؟

ایم ایس سی آئی کے ایشیا پیسیفک انڈیکس میں ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران 0.1 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جب کہ آسٹریلوی اسٹاک مارکیٹ 0.2 فیصد اوپر گئی۔

خاص طور پر لیتھیئم مائننگ کمپنیوں کی کارکردگی کے باعث۔ جاپان کا ٹوپکس انڈیکس بھی 0.6 فیصد بڑھ گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئل مارکیٹنگ کمپنیز آٹوموبائل آئی ایم ایف اقتصادی امور امریکی کانگریس انڈیکس ایشیا پیسیفک انڈیکس بحالی پاکستان اسٹاک ایکسچینج پاور جنریشن تحریک طالبان پاکستان ریفائنری سیکٹر سرمایہ کار سیمنٹ فرٹیلائزر

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آئل مارکیٹنگ کمپنیز آٹوموبائل ا ئی ایم ایف امریکی کانگریس انڈیکس بحالی پاکستان اسٹاک ایکسچینج پاور جنریشن تحریک طالبان پاکستان سرمایہ کار فرٹیلائزر

پڑھیں:

پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ

اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔

اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔

حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔

اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف