سیاسی ہلچل اسٹاک ایکسچینج پر بھاری، انڈیکس میں 2,600 پوائنٹس کی کمی
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
کئی دنوں کی مسلسل تیزی کے بعد منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کے دباؤ کا رجحان لوٹ آیا اور سرمایہ کاروں نے سیاسی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر محتاط رویہ اختیار کیا۔
نتیجتاً بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 2.1 فیصد کمی کے ساتھ 3,393 پوائنٹس گر کر 158,145.28 پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
کاروباری دن کے دوران آٹوموبائل، سیمنٹ، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، او ایم سیز، پاور جنریشن اور ریفائنری جیسے کلیدی شعبوں میں فروخت کے دباؤ نے مارکیٹ کو منفی زون میں دھکیل دیا۔
بڑے اسٹاکس جیسے حبکو، میری پیٹرولیم، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، پی ایس او، ایم سی بی، میزان بینک اور نیشنل بینک سرخ نشانات میں بند ہوئے۔
Market is down at midday ????
⏳ KSE 100 is negative by -1643.
— Investify Pakistan (@investifypk) November 11, 2025
مارکیٹ ماہرین کے مطابق، مندی کی بنیادی وجہ ملک میں جاری سیاسی بے یقینی ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر رہی ہے۔
گزشتہ روز سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیمی بل کی منظوری دی تھی، جس میں مسلح افواج کے اعلیٰ عہدوں کو آئینی تحفظ دینے، وفاقی آئینی عدالت کے قیام، ہائی کورٹ ججز کے تبادلوں کی اجازت اور دیگر اہم ترامیم شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
اس کے بعد وزیرِ قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے یہ بل آج قومی اسمبلی میں پیش کیا۔
منگل کو اسٹاک مارکیٹ پر منفی اثر اس وقت مزید گہرا ہوا جب اسلام آباد کی ضلعی عدالت کے باہر دھماکے کی خبر آئی، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچا۔
ماہرین کے مطابق، اسلام آباد میں بم دھماکے اور بڑھتے ہوئے جغرافیائی تنازعات کے باعث سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے، جس نے سرمایہ کاروں کے جذبات کو منفی طور پر متاثر کیا۔
گزشتہ روز یعنی پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھی گئی تھی، جب تمام بڑے انڈیکسز میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں 1100 پوائنٹس کی کمی، سرمایہ کاروں پر دباؤ برقرار
کے ایس ای 100 انڈیکس 1,945 پوائنٹس بڑھ کر 161,538.41 پر بند ہوا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر، منگل کے روز ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔
سونا 3 فیصد اضافے کے ساتھ 4,100 ڈالر فی اونس سے اوپر جا پہنچا، جب کہ نیس ڈیک 2.3 فیصد بڑھ گیا۔
جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 1.3 فیصد اوپر گیا اور نکی 0.4 فیصد بڑھا، جبکہ چین اور ہانگ کانگ کی مارکیٹس قدرے کم سطح پر رہیں۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ میں مندی کی واپسی، انڈیکس 700 پوائنٹس گر گیا
امریکا میں، سینیٹ نے حکومتی شٹ ڈاؤن کے خاتمے کا معاہدہ منظور کر لیا ہے، جو اب ایوانِ نمائندگان میں پیش کیا جائے گا۔
وال اسٹریٹ پر بھی مثبت رجحان دیکھا گیا، جہاں ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 1.54 فیصد بڑھا، جو اکتوبر کے وسط کے بعد سب سے بڑی یومیہ بہتری تھی، جبکہ نیس ڈیک نے مئی کے بعد سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
27ویں آئینی ترمیمی بل اسلام آباد انڈیکس پاکستان اسٹاک ایکسچینج جنوبی کوریا سیاسی بے یقینی سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نیس ڈیک وزیر قانون
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 27ویں آئینی ترمیمی بل اسلام آباد انڈیکس پاکستان اسٹاک ایکسچینج جنوبی کوریا سیاسی بے یقینی سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نیس ڈیک اسٹاک ایکسچینج پاکستان اسٹاک سرمایہ کاروں اسٹاک مارکیٹ کے بعد
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز