کراچی کو اسکے جائز حقوق نہ ملے تو یہ کبھی ترقی کے منازل طے نہیں کرے گا، حیدر عباس رضوی
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
ذمہ داران و کارکنان کے اجلاس سے خطاب میں متحدہ رہنما نے کہا کہ ایم کیو ایم اس ماسٹر پلان پر عملدرآمد کے لئے سندھ ہائی کورٹ میں مقدمہ لڑ رہی ہے اور اس کیس میں عوامی حمایت اور کراچی کے عوام کا اجتماعی شعور بیدار کرنے کے لئے دستخطی مہم کا آغاز کر رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکز بہادر آباد سے متصل پارک میں کراچی ماسٹر پلان 2020ء کے حوالے سے دستخطی مہم کے آغاز کے سلسلے میں ذمہ داران و کارکنان کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس سے مرکزی رہنما سید حیدر عباس رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے ماسٹر پلان کے معاملے کو توانا آواز کے ساتھ اٹھایا ہوا ہے اور اس سلسلے میں دو پریس کانفرنسز پہلے ہی کی جا چکی ہیں، کراچی دنیا کے سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کا شہر ہے اور سندھ کی مجموعی آبادی کا 37 فیصد ہے لیکن اس شہر کی آبادی جان بوجھ کر کم دکھائی جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کراچی کو اس کے جائز حقوق نہ ملے تو یہ شہر کبھی ترقی کے منازل طے نہیں کرے گا، یہاں کے شہری اکثریت سے اقلیت میں بدل جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ماسٹر پلان ایم کیو ایم کے دور نظامت میں شہر کے تمام اسٹیک ہولڈرز، دنیا بھر کے ماہرین اور شعبہ جاتی ایکسپرٹس کی مشاورت سے ترتیب دیا گیا، جسے کراچی کی بلدیاتی اسمبلی، تمام کنٹونمنٹ بورڈز اور وفاقی اداروں نے منظور کیا، ایم کیو ایم اس ماسٹر پلان پر عملدرآمد کے لئے سندھ ہائی کورٹ میں مقدمہ لڑ رہی ہے اور اس کیس میں عوامی حمایت اور کراچی کے عوام کا اجتماعی شعور بیدار کرنے کے لئے دستخطی مہم کا آغاز کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ماسٹر پلان کے لئے رہی ہے ہے اور
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔