اپنے جوہری پروگرام کا معائنہ کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بالآخر مغربی ممالک کے پاس، ایران کو پُرامن ایٹمی صنعت کے میدان میں، ایک سائنسی قطب کے طور پر قبول کرنے کے سواء کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" نے وزارت خارجہ کے مشیران و معاونین کے ہمراہ ایٹمی لیبارٹری کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے  ایٹمی صنعت کے اعلیٰ منتظمین سے ملاقات اور تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک ایران کو جوہری صلاحیتوں سے محروم رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ہر چیز پر ان کی اجارہ داری قائم رہے۔ یہ ایک انتہائی پیچیدہ، جدید اور عالمی سطح پر تازہ ترین سائنسی علم ہے، جو ملک میں ایرانی سائنسدانوں کی کاوشوں سے یہاں تک پہنچا۔ کوئی بھی شخص ان کامیابیوں کو نظر انداز یا ان سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔ سید عباس عراقچی نے کہا کہ ہم نے جوہری شعبے میں حاصل ہونے والی ان کامیابیوں اور سائنسی ترقی کے لئے محنت کی، اس سلسلے میں ہمارے سائنسدانوں نے زحمت اٹھائی، اس ٹیکنالوجی کے لئے ہم نے خون دیا اور جنگ بھی لڑی۔ اب یہ امر واضح ہے کہ یقیناً ایران میں کوئی بھی شخص اس حق سے یا اس حق کے نفاذ سے دستبردار نہیں ہوگا۔

ہم وزارت خارجہ میں اپنے جوہری پروگرام کے ساتھ ہیں۔ ہمارا جوہری پروگرام ایرانی عوام کا حق ہے، جس کا ہم نے ہمیشہ دفاع کیا اور کرتے رہیں گے۔ یہ حقوق محفوظ رہنے چاہئیں اور ان پر عمل درآمد ہونا چاہئے۔ سید عباس عراقچی نے کہا کہ جوہری توانائی اب ایک بہت بڑی صنعت بن چکی ہے اور مختلف شعبوں میں تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ بالآخر مغربی ممالک کے پاس، ایران کو پُرامن ایٹمی صنعت کے میدان میں، ایک سائنسی قطب کے طور پر قبول کرنے کے سواء کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میں برسوں سے اپنی ایٹمی انرجی آرگنائزیشن سے واقف ہوں اور ان کے ساتھ تعاون کر رہا ہوں۔ میں نے کئی بار اس آرگنائزیشن کے مختلف مراکز کا دورہ کیا۔ بلاشبہ، ہر دورے پر حاصل ہونے والی ترقی دیکھ کر ایک خاص جوش و خروش محسوس ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے اس دورے کے دوران، اس صنعت کی جدید کامیابیوں کی نمائش، شہید فخری زادہ (تہران) ریسرچ ری ایکٹر اور ریڈیو فارماسوٹیکل پروڈکشن لیبارٹریز کا معائنہ کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سید عباس عراقچی نے کہا کہ نے جوہری

پڑھیں:

شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی

چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔

اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔

ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔

وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔

We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.

Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8

— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا