ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثقافتی تعاون اسلامی وحدت کی مثال بن سکتا ہے، سید رضا صالحی امیری
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
ریاض میں سعودی وزیر نے دونوں ملکوں کی جغرافیائی و ثقافتی قربت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عوام ایران کی ثقافت و تاریخ سے واقف ہیں اور سیاحتی روابط کا فروغ ہماری اقوام کے درمیان دوستی، باہمی شناخت اور ثقافتی تبادلے میں اضافہ کرے گا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں وزرا نے مسلسل مکالمے کی ضرورت، مشترکہ سیاحتی ورکنگ گروپ کی تشکیل اور تہران و ریاض میں ثقافتی تقریبات اور تخصصی نمائشوں کے اہتمام پر اتفاق کیا۔ اسلام ٹائمز۔ اقوامِ متحدہ کی عالمی سیاحت تنظیم (UNWTO) کی 26 ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر ریاض میں ایک دوستانہ ملاقات کے دوران، اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرِ میراثِ ثقافت، سیاحت و دستکاری سید رضا صالحی امیری اور سعودی عرب کے وزیرِ سیاحت احمد آل خطیب نے دونوں ملکوں کے درمیان ثقافتی اور سیاحتی تعاون کے ایک نئے باب کے آغاز پر زور دیا۔ ایران کی ثقافتی میراث اور سیاحت و دستکاری کے وزیر سید رضا صالحی امیری نے سعودی وزیرِ سیاحت احمد آل خطیب سے ملاقات میں عالمی سیاحت کی جنرل اسمبلی کی شایانِ شان میزبانی پر سعودی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان علمی، ثقافتی اور سیاحتی تعاون دونوں ملکوں کے اہلِ دانش کی علاقائی و اسلامی تعاملات کے فروغ کی مشترک خواہش کا عکاس ہے، یہ تعاون باہمی ہمآہنگی کے ایک نئے مرحلے، علاقائی ثقافتی سرمائے و خود انحصاری کی تقویت اور اسلامی مشترک ذمہ داریوں کے استحکام کا سبب بن سکتا ہے۔
انہوں نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی توسیع کی خواہش واضح اور قطعی ہے، گزشتہ مہینوں میں تعلقات میں دو اہم سنگِ میل قائم ہوئے، دوحہ میں ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور محمد بن سلمان کی ملاقات اور دوسرا، سعودی وزیرِ دفاع کا تہران کا دورہ اور اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقات۔ صالحی امیری نے کہا کہ ایران مشترکہ ثقافتی و سیاحتی منصوبوں خصوصاً ثقافتی میراث، دستکاریوں اور مذہبی سیاحت میں فعال شرکت کے لیے تیار ہے، تاکہ دونوں ملکوں کی اقوام کے درمیان باہمی شناخت مزید گہری ہو، ہمارا یقین ہے کہ سیاحت ایران و سعودی عرب کے عوامی ربط کو مضبوط بنا سکتی ہے، ہمارے لوگ مکہ و مدینہ کے سفر کے خواہاں ہیں اور سعودی عوام بھی ایران کی سیر و زیارات چاہتے ہیں۔
انہوں نے سعودی ہم منصب کو تہران بین الاقوامی سیاحتی نمائش میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطے کا سب سے بڑا سیاحتی ایونٹ ہے، جو ایران و سعودی عرب کی ثقافتی و اقتصادی صلاحیتوں کے تعارف اور دونوں ملکوں کے سیاحتی شعبوں کے درمیان نئے روابط کے قیام کے لیے بہترین موقع ہوگا۔ صالحی امیری نے مشرقِ وسطیٰ کی ثقافتی و تاریخی گنجائشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا خطہ دنیا کی بہترین تاریخی و تہذیبی وراثت رکھتا ہے، مگر عالمی معیشت میں سیاحت کا اس کا حصہ اپنی حقیقی سطح تک نہیں پہنچا، ایران سعودی تعاون بین الاقوامی سیاحوں کی کشش اور اسلامی تہذیب کے تعارف کے لیے محرک بن سکتا ہے۔ وزیرِ ثقافت نے مزید کہا کہ صدرِ ایران ڈاکٹر پزشکیان کی طرف گرم جوشی کیساتھ ان کا سلام ولی عہد تک پہنچا دیں، ہمارا ماننا ہے کہ ثقافتی و عوامی روابط کی توسیع فطری طور پر حکومتوں کے تعلقات کو بھی مضبوط کرتی ہے۔
اس موقع پر سعودی عرب کے وزیرِ سیاحت احمد آل خطیب نے اجلاس میں صالحی امیری کی شرکت پر قدردانی کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس کے ایجنڈے کے لیے ایران کی فعال موجودگی اور آپ کی حمایت پر شکریہ ادا کرتا ہوں، میں نے ولی عہد کو آپ سے ملاقات کی اطلاع دی ہے اور انہوں نے خادم الحرمین الشریفین اور اپنی طرف سے حکومت و ملتِ ایران کے لیے سلام اور نیک تمنائیں بھیجی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ سے ملاقات سے پہلے محمد بن سلمان سے ضروری ہم آہنگی کر لی گئی تھی، اور ہم دو طرفہ مکالمے کے فروغ کا خیر مقدم کرتے ہیں، سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات نے حالیہ برسوں میں مثبت رخ اختیار کیا ہے، جس کے علاقائی استحکام، عوامی روابط اور پڑوسی ممالک کی معیشت پر اہم اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
آل خطیب نے مزید کہا کہ تہران کی بین الاقوامی نمائش میں شرکت کی دعوت کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ایران کی دستکاریاں جیسے قالین، زعفران اور روایتی فنون سعودی عوام کے لیے شناختہ شدہ اور سود مند ہیں، ہم اس شعبے میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے دونوں ملکوں کی جغرافیائی و ثقافتی قربت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عوام ایران کی ثقافت و تاریخ سے واقف ہیں اور سیاحتی روابط کا فروغ ہماری اقوام کے درمیان دوستی، باہمی شناخت اور ثقافتی تبادلے میں اضافہ کرے گا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں وزرا نے مسلسل مکالمے کی ضرورت، مشترکہ سیاحتی ورکنگ گروپ کی تشکیل اور تہران و ریاض میں ثقافتی تقریبات اور تخصصی نمائشوں کے اہتمام پر اتفاق کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے نے دونوں ملکوں سعودی عرب کے سعودی عوام اور سیاحتی اور سیاحت سے ملاقات اور سعودی کے درمیان ایران کی کی ثقافت ریاض میں انہوں نے کے وزیر کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی