ایران نے پاک افغان کشیدگی کے خاتمے کیلئے مدد کی پیشکش کردی
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک : نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ایرانی وزیرخارجہ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ دونوں طرفہ تعلقات ،علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ تہران نے پاک افغان کشیدگی کے خاتمے کیلئے مدد کی پیش کش کردی۔
وزیرخارجہ عباس عراقچی نے پاک افغان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشیدگی کے خاتمے کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہیں۔ خطے میں پائیدار امن کیلئے دونوں ملکوں میں مزید مذاکرات کی ضرورت ہے۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں پائیدار امن کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
بجلی کے بلوں کی ادائیگی؛ صارفین کو بڑا ریلیف مل گیا
دوسری جانب ترکیہ پاک افغان کشیدگی کم کرانے کیلئے کیلئے اعلیٰ سطح ترک وفد رواں ہفتے پاکستان کا دورہ کرے گا۔ صدر طیب اردون نے کہا کہ وفد میں وزیرخارجہ، وزیردفاع اور خفیہ ایجنسی کے سربراہ شامل ہوں گے ۔ ترک وفد کے دورے کا مقصد پاک افغان جنگ بندی مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے ۔ استنبول مذاکرات میں ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں دونوں ملکوں کے مذاکرات بھی ہوئے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول میں ثالثوں کی موجودگی میں جاری مذاکرات جمعے کو کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے، کیونکہ فریقین سرحد پار دہشت گردی کی نگرانی اور روک تھام کے طریقہ کار پر اپنے اختلافات دور کرنے میں ناکام رہے۔
ماس ٹرانزٹ سسٹم کا ٹی کیش کارڈ مہنگا ہوگیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پاک افغان کشیدگی
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔