اسلام ٹائمز: ایران پر اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے اگلے ہی دن ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس کے دوران اس میں امریکہ کے کردار کی نفی کی تھی اور کہا تھا کہ اسے بس اس حملے کا پتہ تھا۔ ابھی امریکی صدر نے جس حقیقت کا اعتراف کیا ہے وہ کسی کے لیے نئی بات نہیں ہے لیکن سرکاری سطح پر اس حملے میں پوری طرح ملوث ہونے کا اعلان دراصل ٹرمپ کے اناڑی پن کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹرمپ نے اپنی گذشتہ مدت صدارت میں بھی اور ابھی صدر بننے کے بعد بھی ایران سے متعلق ایسے بہت سے موقف اپنائے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عالمی سیاست کی پیچیدگیوں سے ناواقف ہے۔ شاید ٹرمپ یہ سمجھتا ہے کہ ایک خودمختار ملک پر غیرقانونی حملے کی ذمہ داری قبول کر کے وہ طاقت کا اظہار کر رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی قانون کی روشنی میں یہ ایک واضح اعتراف جرم ہے اور دنیا کی نظر میں یہ اقدام تمام بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھنے کے مترادف ہے۔ تحریر: علی رضا حقیقت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کا اعتراف ایک بار پھر ایران کی سرزمین پر غیرقانونی جارحیت میں امریکہ کا کردار واضح کر دیتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ اعتراف میڈیا کیمروں کے سامنے کسی پردہ پوشی کے بغیر کیا ہے اور اب مزید کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ امریکی صدر نے چند دن پہلے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 13 جون کے دن ایران پر انجام پانے والے اسرائیلی حملے میں امریکہ نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ یہ بات اس نے ایسے وقت کہی جب وائٹ ہاوس میں وسطی ایشیائی ممالک کے سربراہان اس کے دیے گئے عشائیے میں موجود تھے۔ ٹرمپ نے اسی طرح یہ دعوی بھی کیا کہ ایران نے امریکہ کی شدید پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور وہ اس موضوع پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاوس کے اوول آفس میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مزید کہا: "جب اسرائیل ایران پر حملہ کر رہا تھا تو اس کا مکمل کنٹرول میرے ہاتھ میں تھا۔" ٹرمپ نے ایران پر اسرائیل کے حملے کو "انتہائی طاقتور" قرار دیا اور دعوی کیا کہ پہلے حملے میں پہنچنے والا نقصان بعد والے حملوں کی نسبت سب سے زیادہ تھا۔ امریکی صدر نے مزید دعوے کرتے ہوئے کہا: "سچی بات کروں، ایران نے پابندیاں ختم کرنے کی درخواست کی ہے۔ ایران امریکہ کی جانب سے شدید پابندیوں سے روبرو ہے جن کے باعث اسے بہت مشکل حالات کا سامنا ہے۔" ٹرمپ نے مزید کہا: "میں دوبارہ اس موضوع پر گفت و شنود کے لیے تیار ہوں اور دیکھوں گا کہ کیا کر سکتا ہوں۔ گفتگو کا دروازہ کھلا ہے۔" اس کا یہ موقف کچھ عرصہ قبل ایران پر اسرائیل کی فوجی جارحیت سے متعلق موقف سے مختلف ہے۔
ایران پر اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے اگلے ہی دن ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس کے دوران اس میں امریکہ کے کردار کی نفی کی تھی اور کہا تھا کہ اسے بس اس حملے کا پتہ تھا۔ ابھی امریکی صدر نے جس حقیقت کا اعتراف کیا ہے وہ کسی کے لیے نئی بات نہیں ہے لیکن سرکاری سطح پر اس حملے میں پوری طرح ملوث ہونے کا اعلان دراصل ٹرمپ کے اناڑی پن کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹرمپ نے اپنی گذشتہ مدت صدارت میں بھی اور ابھی صدر بننے کے بعد بھی ایران سے متعلق ایسے بہت سے موقف اپنائے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عالمی سیاست کی پیچیدگیوں سے ناواقف ہے۔ شاید ٹرمپ یہ سمجھتا ہے کہ ایک خودمختار ملک پر غیرقانونی حملے کی ذمہ داری قبول کر کے وہ طاقت کا اظہار کر رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی قانون کی روشنی میں یہ ایک واضح اعتراف جرم ہے اور دنیا کی نظر میں یہ اقدام تمام بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھنے کے مترادف ہے۔
البتہ ٹرمپ اب تک بارہا اعلانیہ طور پر اس بات کا اظہار کر چکا ہے کہ اسے بین الاقوامی قوانین کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ دوسری طرف جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے یہ حقیقت مزید کھل کر سامنے آ رہی ہے کہ 13 جون کی فوجی جارحیت کا نتیجہ اسرائیل اور امریکہ کے لیے سوائے شکست اور ناکامی کے کچھ ظاہر نہیں ہوا۔ ٹرمپ کا دعوی ہے کہ اس جنگ میں ایران کی جوہری تنصیبات مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں اور اس کی میزائل طاقت کو بھی شدید دھچکہ پہنچا ہے۔ لیکن اب تقریباً 5 ماہ گزر جانے کے بعد بہت سے حقائق منظرعام پر آ رہے ہیں۔ ٹرمپ کے سوا کوئی بھی اس بات پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل تباہ ہو چکا ہے۔ حتی غاصب صیہونی رژیم کا وزیراعظم بھی بارہا اس تشویش کا اظہار کر چکا ہے کہ ایران اب بھی جوہری طاقت ہے اور ایٹم بم بنانے کی صلاحیت محض چند ماہ موخر ہو گئی ہے۔
مزید برآں، ایران پر اسرائیلی امریکی جارحیت کا دوسرا مقصد اس ملک کو شدید سیاسی اور سماجی بحران سے روبرو کرنا تھا۔ صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی اپنے شیطانی وسوسوں کے ذریعے ٹرمپ کو یقین دہانی کروائی تھی کہ جنگ کی صورت میں ایران کا سیاسی نظام مفلوج ہو کر رہ جائے گا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ حملے کے وقت ٹرمپ نے کینیڈا میں جی 7 سربراہی اجلاس ادھورا چھوڑ کر جلد ہی واشنگٹن واپسی اختیار کی تھی۔ اسی دوران ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر یہ پیغام بھی دیا تھا کہ تہران خالی ہو گیا ہے اور ایرانیوں کو مخاطب قرار دے کر لکھا تھا: "غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دو۔" یہ پیغام تاریخ میں امریکہ کے ایران دشمن صدر کی شکست کے ثبوت کے طور پر محفوظ رہے گا۔ اگر ٹرمپ سیاست کی پیچیدگیوں سے ذرہ برابر آشنائی رکھتا تو وہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سیکرٹری جنرل کے روزانہ انٹرویوز کا مطالعہ کرتا۔
رافائل گروسی چونکہ ایک ماہر سفارتکار ہے لہذا اچھی طرح جانتا ہے کہ ایران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ابہام پر مبنی پالیسی اختیار کرنے نے مغرب کو کس مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ ایران کے پاس 60 فیصد افزودہ یورینیم کا 400 کلو کا ذخیرہ پایا جاتا تھا جس کے بارے میں اب تک کچھ معلوم نہیں کہ وہ امریکی حملے میں ختم ہوا ہے یا نہیں۔ دوسری طرف خود امریکی ماہرین اور تھنک ٹینکس اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ ایران نے جنگ کے دوران پہنچنے والے نقصان کا تیزی سے ازالہ کیا ہے اور اب وہ دن رات میزائل تیار کرنے میں مصروف ہے۔ اسی طرح ایران نے چین اور روس کی مدد سے اپنا فضائی دفاعی نظام بھی پہلے سے کئی گنا زیادہ طاقتور بنا ڈالا ہے۔ اسرائیلی تھنک ٹینکس کے مطابق چین سے حاصل ہونے والے میزائل ڈیفنس سسٹم کی بدولت اس وقت ایران کا فضائی دفاعی نظام گذشتہ سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران پر اسرائیل امریکی صدر نے بین الاقوامی کا اظہار کر میں امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا اعتراف امریکہ کے کہ ایران ایران نے حملے میں نہیں ہے اس حملے ہے لیکن اور اب میں یہ کیا ہے کے لیے ہے اور چکا ہے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم