جنوبی افریقا میں جی 20اجلاس منعقد ہونا افسوسناک ہے‘ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (اے پی پی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنوبی افریقا میں ہونے والے جی-20 اجلاس میں کوئی امریکی سرکاری عہدیدار شرکت نہیں کرے گا۔اے ایف پی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں کہا کہ یہ افسوسناک بات ہے کہ جی-20 اجلاس جنوبی افریقا میں منعقد ہو رہا ہے، جب تک انسانی حقوق کی پامالیاں جاری رہیں گی کوئی امریکی حکومتی نمائندہ اس میں شریک نہیں ہوگا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ جنوبی افریقا میں افریکنرز(جو ابتدائی یورپی آبادکاروں کی اولاد ہیں )قتل و غارت کا نشانہ بن رہے ہیں اور ان کی زمینیں اور فارم غیر قانونی طور پر ضبط کیے جا رہے ہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ 2026 کا جی20 اجلاس امریکا میں منعقد کرنے کے منتظر ہیں جو ان کے بقول میامی، فلوریڈا میں ان کے اپنے گالف ریزورٹ میں ہوگا۔یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے رواں سال ستمبر میں اعلان کیا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس ان کی جگہ اجلاس میں شرکت کریں گے، تاہم اب انہوں نے کہا ہے کہ امریکی نمائندے اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال کے آغاز میں وائٹ ہائوس میں جنوبی افریقی صدر سیرل رامافوسا سے ملاقات کے دوران ایک ویڈیو دکھائی تھی جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ جنوبی افریقا کی حکومت سفید فام کسانوں کے خلاف مہم چلا رہی ہے، تاہم جنوبی افریقی حکومت نے ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ امریکامیں پناہ گزینوں کی سالانہ تعداد کم کر کے 7,500 کر دی جائے گی جبکہ ترجیح سفید فام جنوبی افریقیوں کو دی جائے گی۔دونوں ممالک کے تعلقات میں اس وقت مزید تنا پیدا ہوا جب جنوبی افریقا نے اسرائیل کے خلاف غزہ میں مبینہ نسل کشی کے معاملے پر مقدمہ اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت میں دائر کیا۔صدر ٹرمپ نے جنوبی افریقا پر 30 فیصد درآمدی محصولات بھی عائد کر دیے ہیں جو سب سہارن افریقا میں سب سے زیادہ ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنوبی افریقا میں ڈونلڈ ٹرمپ نے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔