ہم نے ایران کے میزائل اور جوہری خطرے کا خاتمہ کر دیا ہے، نیتن یاہو کا دعوی
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
ایک ایسے وقت میں کہ جب عالمی ذرائع ابلاغ ایرانی میزائل و جوہری صلاحیتوں کی مکمل بحالی کی بات کر رہے ہیں، قابض اسرائیلی وزیراعظم نے دعوی کیا ہے کہ اسرائیل نے ایرانی میزائلوں و جوہری پروگرام کے خطرے کا خاتمہ کر دیا ہے اسلام ٹائمز۔ غاصب صیہونی رژیم کے پارلیمنٹ (کنیسٹ - Knesset) میں ایک تقریر کے دوران قابض اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے غزہ کی پٹی کے خلاف 2 سالہ جنگ میں "مبینہ کامیابیوں" کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایران کے خلاف 12 روزہ اسرائیلی جنگ کا بھی حوالہ دیا اور دعوی کیا ہے کہ اسرائیل نے ایرانی خطرات کا خاتمہ کر دیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق نین یاہو نے دعوی کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل، ایران کے پیدا کردہ "بیلسٹک اور جوہری خطرے" کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
یاد رہے کہ نیویارک ٹائمز نے گذشتہ روز ہی خبر دی تھی کہ ایران کی میزائل فیکٹریاں 24 گھنٹے کام کر رہی ہیں اور آئندہ کسی بھی جنگ کی صورت میں ایران، دشمن پر بیک وقت 2 ہزار میزائل داغنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ غزہ پر اسرائیل کی دو سالہ جنگ، اسرائیل کے لئے پہلے سے زیادہ نفرت کا باعث بنی ہے جیسا کہ خود صیہونی میڈیا کا بھی کہنا ہے کہ جنگ غزہ کے باعث حتی امریکہ میں موجود جوان یہودی نسل بھی صیہونی رژیم کے خلاف ہو چکی ہے۔
واضح رہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے وسیع جنگی جرائم کے باعث اسرائیل کے اندر اور باہر شدید دباؤ کا شکار نیتن یاہو، 7 اکتوبر 2023ء سے متعلق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی تشکیل کو روکنے کی مسلسل کوشش میں ہے جبکہ آج کنیسٹ کے اجلاس کے دوران صیہونی نمائندوں نے اس کمیٹی کی تشکیل اور نیتن یاہو سے مواخذے پر ایک بار پھر زور دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔