حزب اللہ لبنان کسی نئی جنگ کے لیے پوری طرح تیار
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: حزب اللہ لبنان کی جانب سے اہل غزہ کی حمایت میں فوجی کاروائیوں کا سلسلہ تقریباً ایک سال تک جاری رہا جس کے نتیجے میں 1 لاکھ 50 ہزار یہودی آبادکار شمالی مقبوضہ فلسطین سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے تھے اور وہ اب تک جنوبی علاقوں میں جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ مزید برآں، غاصب صیہونی رژیم کو ان کاروائیوں کے باعث اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔ اب اگر حزب اللہ لبنان کے نئے میزائل تل ابیب، حیفا، عکا ور تمام ساحلی شہروں کے مرکز میں گرنا شروع ہو گئے تو اسرائیل کا کیا بنے گا؟ سینکڑوں بلکہ لاکھوں مزید یہودی آبادکار نقل مکانی کر کے جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ صرف یہی نہیں بلکہ صیہونی حکمرانوں کو حزب اللہ کے خلاف نئی جنگ شروع کرنے سے پہلے یمن کے حوثی مجاہدین کے ڈرون اور میزائل حملوں کے بارے میں بھی سوچنا ہو گا۔ تحریر: عبدالباری عطوان (چیف ایڈیٹر اخبار رای الیوم)
لبنان کی صورتحال واضح ہے۔ سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم کے بقول حزب اللہ لبنان اپنی طاقت پوری طرح بحال کر چکی ہے اور فوجی، سیاسی اور قیادت کے لحاظ سے اپنی تعمیر نو کر چکی ہے۔ یوں وہ اس وقت ایک ایسے شدید خطرے میں تبدیل ہو چکی ہے جو ہر وقت سے زیادہ اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کی موجودیت کو للکار رہا ہے۔ غاصب صیہونی رژیم کی فوجی انٹیلی جنس رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حزب اللہ لبنان نے اپنی میزائل طاقت بھی مکمل بحال کر لی ہے اور ایران سے شام کے راستے حزب اللہ لبنان کو پہنچنے والی فوجی رسد کے راستے بھی دوبارہ کھل گئے ہیں جو شام میں برسراقتدار آنے والی نئی حکومت کی آنکھوں سے اوجھل ہیں۔ لبنان کے خلاف غاصب صیہونی رژیم کے حالیہ دھمکی آمیز بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ لبنان پر اس کی سابقہ فوجی جارحیت بری طرح ناکامی کا شکار رہی ہے۔
اب تک صیہونی حکمران، خاص طور پر بنجمن نیتن یاہو یہ دعوے کرتے آئے ہیں کہ انہوں نے گذشتہ جنگ کے دوران حزب اللہ لبنان کی کمر توڑ ڈالی ہے اور اس کے میزائلوں کے تمام ذخیرے تباہ ہو چکے ہیں اور اس کی اسلحہ ساز فیکٹریاں بھی تباہ کر دی گئی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اب یہ حقیقت پوری دنیا پر عیاں ہو چکی ہے کہ صیہونی حکمرانوں کے یہ تمام دعوے جھوٹے تھے۔ اس بات کا واضح ثبوت خود انہی کے حالیہ بیانات ہیں جن میں وہ حزب اللہ لبنان سے درپیش خطرے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ حزب اللہ لبنان اس وقت اپنی نئی قیادت اور فوجی سیٹ اپ کے ساتھ اسرائیل کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ اس کی طاقت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ اور مغربی طاقتوں کے بھرپور دباو کے باوجود لبنان حکومت حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔
حزب اللہ کے ایک قریبی آگاہ ذریعے نے بتایا: "حزب اللہ کے جدید قائدین جن کی اکثریت جوان اور عرب اور انٹرنیشنل یونیورسٹیوں سے پڑھ چکے ہیں ایسے دیگر فوجی کمانڈرز کے ہمراہ سرگرم عمل ہو چکے ہیں جو ایران، روس اور شمالی کوریا جیسے ممالک کے ملٹری کالجز سے تعلیم حاصل کر کے آئے ہیں۔ ان افراد نے نہ صرف حزب اللہ اور اس کے فوجی ڈھانچے اور لیڈرشپ کو ترقی بخشی ہے بلکہ اس وقت کمان ان کے ہاتھوں میں ہے اور وہ اسلامی مزاحمت کے راستے پر ہی عمل پیرا ہیں۔ حزب اللہ لبنان کا نیا ورژن اتوار کے روز انجام پائی بڑی فوجی کاروائی کی بنیاد پر استوار ہے، وہی فوجی کاروائی جس نے تل ابیب اور حیفا کے مرکز کو نشانہ بنایا تھا اور خاص طور پر دنیا کے سب سے بڑے جاسوسی مرکز (یونٹ 8200) پر حملہ کیا تھا۔"
اس ذریعے نے مزید بتایا: "اسی طرح اس کاروائی میں قیساریہ میں واقع نیتن یاہو کے گھر کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا اور غاصب صیہونی رژیم فوری جنگ بندی کے لیے منتیں کرنے پر مجبور ہو گئی تھی۔" حزب اللہ لبنان نے حال ہی میں صدر جوزف عون، وزیراعظم نواف سلام، قومی اسمبلی کے اسپیکر نبیہ بری اور قوم کے نام ایک کھلا خط لکھا جو دراصل اس تنظیم کی نئی قیادت کی جانب سے اسلامی مزاحمت جاری رکھنے اور لبنان اور خطے کے خلاف امریکہ اور غاصب صیہونی رژیم کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے اصرار پر مبنی دو ٹوک موقف کا اظہار تھا۔ حزب اللہ لبنان کے اس کھلے خط میں چار اصلی اور نئے نکات قابل غور ہیں:
1)۔ اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کی پابندی نہیں کی اور 5 ہزار سے زیادہ بار لبنان کی سرزمین پر جارحیت کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اب حزب اللہ لبنان بھی اس معاہدے کی پابند نہیں رہے گی۔
2)۔ لبنان غاصب صیہونی رژیم کے جارحانہ اقدامات کا خاتمہ چاہتا ہے اور امریکہ اور صیہونی دشمن کی پیش کردہ شرائط کی بنیاد پر بچھائے جانے والے سیاسی مذاکرات کے جال میں پھنسنا نہیں چاہتا۔
3)۔ حزب اللہ لبنان، لبنان کو گھٹنے ٹیک دینے پر مجبور کر دینے اور اس کی سرزمین پر غاصبانہ قبضہ جمانے کی غرض سے سرگرم جارح قوتوں اور غاصب صیہونی رژیم کے جارحانہ اقدامات کے مقابلے میں اپنے دفاع کے جائز حق پر زور دیتی ہے۔
4)۔ حزب اللہ ہر اس حربے اور طریقہ کار کا مقابلہ کرے گی جس کا مقصد اسے غیر مسلح کرنا ہو گا اور جب تک غاصبانہ قبضہ برقرار ہے اس وقت تک مسلح جدوجہد بھی جاری رہے گی۔
یہ کھلا خط لبنانی صدر جوزف عون کے اس بیانیے کا واضح جواب ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ اسرائیل سے مذاکرات ہی لبنان کے سامنے واحد آپشن ہے۔
حزب اللہ لبنان کی جانب سے اہل غزہ کی حمایت میں فوجی کاروائیوں کا سلسلہ تقریباً ایک سال تک جاری رہا جس کے نتیجے میں 1 لاکھ 50 ہزار یہودی آبادکار شمالی مقبوضہ فلسطین سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے تھے اور وہ اب تک جنوبی علاقوں میں جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ مزید برآں، غاصب صیہونی رژیم کو ان کاروائیوں کے باعث اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔ اب اگر حزب اللہ لبنان کے نئے میزائل تل ابیب، حیفا، عکا ور تمام ساحلی شہروں کے مرکز میں گرنا شروع ہو گئے تو اسرائیل کا کیا بنے گا؟ سینکڑوں بلکہ لاکھوں مزید یہودی آبادکار نقل مکانی کر کے جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ صرف یہی نہیں بلکہ صیہونی حکمرانوں کو حزب اللہ کے خلاف نئی جنگ شروع کرنے سے پہلے یمن کے حوثی مجاہدین کے ڈرون اور میزائل حملوں کے بارے میں بھی سوچنا ہو گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: غاصب صیہونی رژیم حزب اللہ لبنان یہودی آبادکار نقل مکانی کر حزب اللہ کے پر مجبور ہو لبنان کی لبنان کے کے خلاف چکی ہے ہے اور اور اس ہو گئے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔