حکومت زرعی شعبے میں انقلاب لانے کے لیے پُرعزم ہے: رانا تنویر
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ، رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ حکومت جدید علم اور عملی مہارتوں سے نوجوانوں کو بااختیار بنا کر زرعی شعبے میں انقلاب لانے کے لیے پُرعزم ہے۔وہ اسلام آباد میں وزیراعظم کے خصوصی کیپیسٹی بلڈنگ پروگرام کے تحت چین جانے والے 224 پاکستانی زرعی گریجویٹس کے اعزاز میں منعقدہ الوداعی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ یہ اقدام وزیراعظم کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ایک جدید، اختراعی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زرعی شعبہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں چین کی شاندار کامیابی پاکستان کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے جس سے سیکھ کر ہم اپنے زرعی نظام کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک