لبنان پر جنگ کے بادل پہلے سے کہیں زیادہ گہرے ہیں، صیہونی اخبار کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
اپنے ایک تبصرے میں صیہونی اسٹریٹجک ماہر کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے لبنان میں نشانہ بنانے والے اہداف کی فہرست تیار کر لی ہے۔ جن میں جنوبی لبنان اور بیروت میں حزب الله کے ٹھکانے شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی اخبار "معاریو" کے اسٹریٹجک ماہر "آوی اشکنازی" نے خبر دی کہ صیہونی رژیم، لبنان پر حملے کے بہت قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے لبنان میں نشانہ بنانے والے اہداف کی فہرست تیار کر لی ہے۔ جن میں جنوبی لبنان اور بیروت میں حزب الله کے ٹھکانے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بیروت کی بلند عمارتیں، درہ لبنان اور دریائے لیطانیہ بھی صیہونی اہداف میں شامل ہیں۔ آوی اشکنازی کے مطابق، لبنان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات، جنگ کے قریب ہونے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ معاریو ہی کی رپورٹ کے مطابق، صیہونی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس وقت حزب الله، جنوبی لبنان میں اپنی صلاحیتیں بڑھا رہی ہے۔ اسی دعوے کو بنیاد بنا کر اسرائیل کے جنوبی لبنان پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ لبنان کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے حملے جاری ہے اور آئے روز صیہونی رژیم، نہتے لبنانی شہریوں، عمارتوں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اسرائیل کے جنگی جرائم یہیں پر ختم نہیں بلکہ صیہونی فوج کی کوشش ہے کہ وہ کسی دراندازی کے ذریعے حزب الله کو غیر مسلح ہونے پر مجبور کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔