اپنے ایک تبصرے میں صیہونی اسٹریٹجک ماہر کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے لبنان میں نشانہ بنانے والے اہداف کی فہرست تیار کر لی ہے۔ جن میں جنوبی لبنان اور بیروت میں حزب‌ الله کے ٹھکانے شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی اخبار "معاریو" کے اسٹریٹجک ماہر "آوی اشکنازی" نے خبر دی کہ صیہونی رژیم، لبنان پر حملے کے بہت قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے لبنان میں نشانہ بنانے والے اہداف کی فہرست تیار کر لی ہے۔ جن میں جنوبی لبنان اور بیروت میں حزب‌ الله کے ٹھکانے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بیروت کی بلند عمارتیں، درہ لبنان اور دریائے لیطانیہ بھی صیہونی اہداف میں شامل ہیں۔ آوی اشکنازی کے مطابق، لبنان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات، جنگ کے قریب ہونے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ معاریو ہی کی رپورٹ کے مطابق، صیہونی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس وقت حزب‌ الله، جنوبی لبنان میں اپنی صلاحیتیں بڑھا رہی ہے۔ اسی دعوے کو بنیاد بنا کر اسرائیل کے جنوبی لبنان پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ لبنان کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے حملے جاری ہے اور آئے روز صیہونی رژیم، نہتے لبنانی شہریوں، عمارتوں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اسرائیل کے جنگی جرائم یہیں پر ختم نہیں بلکہ صیہونی فوج کی کوشش ہے کہ وہ کسی دراندازی کے ذریعے حزب‌ الله کو غیر مسلح ہونے پر مجبور کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ