بھارتی ریاست بہار میں پہلے مرحلے کے انتخابات کے دوران ریکارڈ ٹرن آؤٹ
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
بھارتی ریاست بہار میں پہلے مرحلے کے انتخابات کے دوران ووٹرز کا جوش و خروش دیکھنے میں آیا، اور ریکارڈ ٹرن آؤٹ رہا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلے مرحلے کے الیکشن کے لیے ووٹر ٹرن آؤٹ کا تناسب 64.66 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو ریاست کی تاریخ میں کسی بھی اسمبلی انتخابات میں سب سے زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: بہار الیکشن: مودی کو سخت مقابلے کا سامنا، عوام بے روزگاری اور ووٹر فہرستوں پر سراپا احتجاج
اس سے قبل 2000 کے اسمبلی انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ 62.
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ووٹ ڈالنے والے شہریوں اور انتخابی عملے کی محنت کو سراہا۔
ووٹر ٹرن آؤٹ میں یہ اضافہ اس لیے بھی قابلِ توجہ ہے کیونکہ ریاست میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جانچ پڑتال کے دوران 47 لاکھ نام حذف کردیے گئے تھے۔اس سے ووٹر بیس 7.89 کروڑ سے کم ہو کر 7.42 کروڑ رہ گیا، جس سے تناسب کے اعتبار سے ٹرن آؤٹ زیادہ دکھائی دے رہا ہے۔
پہلے مرحلے میں صرف 121 نشستوں کے لیے پولنگ ہوئی، جبکہ باقی 122 نشستوں پر 11 نومبر کو ووٹنگ ہوگی اور نتائج کا اعلان 14 نومبر کو کیا جائےگا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ ہمیشہ حکومتی مخالفت کا مظہر نہیں ہوتا۔
گزشتہ انتخابات میں بھی بہار میں مختلف مرحلوں کے دوران ووٹر ٹرن آؤٹ میں اضافہ ہوا لیکن حکومت میں تبدیلی نہیں ہوئی۔
مزید پڑھیں: بھارتی ریاست بہار میں اسمبلی انتخابات کا آغاز، پہلے مرحلے میں 28 فیصد ووٹنگ مکمل
پہلے مرحلے میں اہم سیاسی شخصیات میں مہاگٹھ بندھن کے رہنما تیجسوی یادو شامل تھے، جنہوں نے اپنے خاندانی حلقے راگھوپور سے انتخاب لڑا۔
گذشتہ 2020 کے انتخابات میں راشٹریہ جنتا دل سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری تھی جس نے 75 نشستیں حاصل کیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارت بہار الیکشن بی جے پی کانگریس ووٹرز ٹرن آؤٹ وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت بہار الیکشن بی جے پی کانگریس ووٹرز ٹرن ا ؤٹ وی نیوز انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ پہلے مرحلے بہار میں کے دوران
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔