Jasarat News:
2026-07-24@12:16:27 GMT

تبدیلی آئے گی

اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251109-03-3

 

غزالہ عزیز

بدل دو نظام کے نعرہ کے ساتھ جماعت اسلامی 11 سال بعد مینار پاکستان پر اجتماع عام منعقد کر رہی ہے جماعت اسلامی کے رہنما اس بارے میں یقین رکھتے ہیں کہ جماعت اسلامی اس اجتماع کے بعد ملکی سیاست میں تبدیلی لانے کا سبب بنے گی اور اس گلے سڑے نظام کے چھٹکارے کے لیے نئی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ عوام مایوس ہیں وہ اس نظام کے خلاف کھڑے ہونے کی سکت اپنے اندر محسوس نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ یہ فرسودہ گل سڑا نظام ان کی قسمت میں لکھ دیا گیا ہے جہاں کرپشن اور بددیانتی ہنر ہے، انصاف مال دار کے لیے اور قانون غریبوں کے لیے۔ جمہوریت کی صورت میں موروثی آمریت مسلط ہے۔ یوں تو پاکستان کی ساری سیاسی جماعتیں جمہوریت کی دلدادہ ہیں اور جمہوریت کے نام لیتی ہیں لیکن دیکھا جائے تو ان میں سے کسی بھی جماعت کے اندر منظم جمہوریت موجود نہیں ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کی واحد بہترین منظم سیاسی جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر مضبوط جمہوری روایات رکھتی ہے۔ جماعت اسلامی کے تمام ذمے دار اور شوریٰ کا چناؤ انتخاب کے ذریعے کیا جاتا ہے اور اس انتخاب میں دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے برعکس کسی قسم کی شخصی خاندانی گروہی یا موروثی سیاست کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے، جماعت اپنے اندر نظم و ضبط اخلاص جمہوری اقدار اور بدعنوانیوں سے پاک ہونے کی شہرت رکھتی ہے۔ نصف صدی سے زائد عرصے سے دنیا بھر میں اسلامی احیاء کے لیے پرامن عالمی اسلامی تحریکوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اب جماعت اسلامی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اسی نظام کے تحت ملکی سیاست کا رُخ تبدیل کرنا ہوگا۔

کہا جاتا ہے کہ جماعت اسلامی کے اگر سو 100 شعبے ہیں تو 99 شعبے میں وہ کامیاب ہے اور ایک شعبہ جس کو ملکی سیاست کہا جاتا ہے ناکام ہے لیکن امیر جماعت اسلامی آج کہہ رہے ہیں کہ انہیں یقین ہے کہ جماعت اسلامی باقی شعبوں کی طرح اب انتخابی سیاست میں بھی کامیاب ہو گی اور بدل دو نظام کے نعرے کے تحت مینار پاکستان پر ہونے والے عظیم الشان اجتماع عام دراصل انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ جماعت اسلامی بر صغیر کی وہ پہلی جماعت ہے جس نے اسلام کو بطور جدید سیاسی نظام کے متعارف کروایا مسلمانان ہند کو دو قومی نظریے کی بنیاد فراہم کی اور لادین پاکستان بننے کی مخالفت کی جماعت اسلامی نے مغربیت سے متاثر جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کو عقلی اور علمی استدلال کے ذریعے اسلام سے متاثر کیا اور جدید مسائل کا حل اسلام کی روشنی میں پیش کیا پاکستان بننے کے بعد اسلامی تشخص کو اُجاگر کرنے کے لیے جدوجہد کی اسی جدوجہد کے نتیجے میں لادین یعنی سیکولر حلقوں کو منہ کی کھانی پڑی۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کے خواب کو تعبیر دینے اور قرارداد مقاصد میں ریاست کو اصولی طور پر اسلامی قرار دینے کے لیے تحریک چلائی اور اس میں کامیابی حاصل کی۔

جماعت اسلامی کے بانی سید ابو الاعلیٰ مودودی کو قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے پر اس وقت کی حکومت نے جو ایوب خان کی تھی جیل میں ڈال دیا اور پھانسی کی سزا دی تقریباً تین سال تک ان کو قید میں رکھا اس دوران ان کو یہ پیشکش بھی کی کہ پھانسی کی سزا ختم ہو سکتی ہے اگر وہ قادیانیوں سے متعلق اپنے موقف سے دستبردار ہو جائیں مگر بانی جماعت نے ایسا کرنے سے انکار کیا بعد میں حکومت کو ملکی اور غیر ملکی دباؤ کے باعث ملکی اور عالمی دباؤ کے باعث سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کرنا پڑا۔ ایوب خان کے دور آمریت میں ایک ایسا طبقہ بھی سامنے آیا جس نے اسلام میں حدیث کی حیثیت سے انکار کیا یہاں تک کہ ایک جج نے حدیث کو سند ماننے سے انکار کر دیا اس موقع پہ مولانا مودودی نے اسلام میں حدیث کی بنیادی حیثیت کو شرعی اور عقلی دلائل سے ثابت کیا انہوں نے فتنہ انکار حدیث کے خلاف ترجمان القران کا منصب رسالت نمبر بھی شائع کیا۔

1964 میں ایوب خان نے تنگ آ کر جماعت اسلامی کو خلاف قانون قرار دے دیا اور سید ابو الاعلیٰ سمیت جماعت اسلامی کے پینسٹھ (65) نمایاں رہنماؤں کو جیل میں ڈال دیا مولانا سمیت جماعت اسلامی کے راہ نما قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے بالآخر ایوب خان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، 1973 کے آئین میں اسلامی دفعات اور دیگر رہنما اصول شامل کرنے کے لیے جماعت اسلامی نے بھرپور کردار ادا کیا اور قادیانیوں کے خلاف مذہبی جماعتوں کو ساتھ ملا کر عوامی مہم چلائی اور قادیانیوں کو اقلیت قرار دلوایا۔ یہ جماعت اسلامی کا ایک طویل نظریاتی سفر ہے جہاں وہ کامیاب رہی ہے اور اب عوام کی حمایت سے سیاسی میدان میں کامیابی حاصل کرے گی۔

غزالہ عزیز.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے ایوب خان نظام کے کے لیے

پڑھیں:

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں میڈیا انڈسٹری، پیکا قوانین اور صحافیوں کے فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سینیٹر عبدالشکور، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر جان محمد نے شرکت کی۔

کمیٹی کو این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

کمیٹی نے فلم "بلھا" میں حضرت بابا بلھ شاہ کے امن کے پیغام کی مبینہ غلط ترجمانی کا بھی نوٹس لیا، اور مشاہدہ کیا کہ فلم نے معروف صوفی بزرگ کی پرامن تعلیمات کو مرکزی کردار کے ذریعے تشدد اور بندوقوں سے جوڑ کر مسخ کیا ہے۔ اراکین نے اس بنیاد پر سوال اٹھایا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز نے اس فلم کی منظوری کس طرح دی۔ اگرچہ سنسر بورڈ کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ فلم پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز سے بھی منظور شدہ ہے، تاہم کمیٹی نے اس توجیہہ کو مسترد کر دیا۔ اراکین نے سنسر بورڈ کے ارکان کی تقرری کے معیار پر بھی سوال اٹھایا اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس طرح کی تقرریوں کے لیے ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار وضع کرے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

تفصیلی غوروخوض کے بعد، کمیٹی نے سفارش کی کہ فلم "بلھا" کے پروڈیوسرز کو کہا جائے کہ وہ اس کا نام تبدیل کریں اور وہ قابلِ اعتراض مکالمہ ہٹائیں جس میں مرکزی کردار نے خود کا موازنہ بابا بلھ شاہ سے کیا ہے، بصورت دیگر فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کی جائے جس میں یوٹیوب سے اس کا ممکنہ اخراج بھی شامل ہو۔

کمیٹی کو وفاقی حکومت کے ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے فلیٹس اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ میڈیا ورکرز کے کوٹے کے تحت الاٹمنٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ صحافیوں کے کوٹے سے متعلق مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ اس طویل تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، کمیٹی نے اپنی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی اور مسئلے کے حل کو آسان بنانے کے لیے سینیٹرز پرویز رشید، وقار مہدی اور عبدالشکور پر مشتمل ایک مانیٹرنگ سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔

سینیٹر سرمد علی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ معاملے کا جائزہ لینے، موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر الاٹمنٹس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر صحافیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ کمیٹی نے مستقبل کی ہاؤسنگ سکیموں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کوٹے میں اضافے کی بھی سفارش کی اور ایک مخصوص ہاؤسنگ لون سکیم متعارف کرانے یا موجودہ وفاقی حکومت کے ہاؤسنگ فنانس کے اقدامات کے تحت صحافیوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) نے بھی کمیٹی کو علاقائی اخبارات کے اشتہاری کوٹے کے بارے میں بریفنگ دی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ پالیسی کے تحت سرکاری اشتہارات کا 25 فیصد حصہ علاقائی اخبارات کے لیے مخصوص ہے۔ تاہم، اراکین نے اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات کا نوٹس لیا، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان سے۔ قائم مقام چیئرمین نے پی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ 25 فیصد کوٹے کی سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے، جس میں عوامی سطح پر معلومات کی ترسیل میں ان کے اہم کردار کے اعتراف میں لسانی اخبارات بھی شامل ہوں۔

کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو درپیش مسائل پر بھی مزید تبادلہ خیال کیا۔ یہ بتایا گیا کہ 353 کمیوٹیشن کیسز تحال زیر التوا ہیں اور ریڈیو پاکستان وفاقی حکومت کے گران্ট-اِن-ایڈ کے ذریعے چل رہا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم پہلے ہی ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور اے پی پی سے متعلقہ بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔ قائم مقام چیئرمین نے ہدایت کی کہ ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مطالبات بھی وزیراعظم کی کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں اور اس معاملے کے جلد از جلد حل کا مطالبہ کیا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • : نائب وزیرعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی