امریکی شٹ ڈاؤن: 40 بڑے ہوائی اڈوں پر پروازوں میں 10 فیصد کمی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ملک میں جاری شٹ ڈاؤن کے باعث پروازوں میں بڑے پیمانے پر کمی کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کے مطابق اگر حکومت اور کانگریس کے درمیان شٹ ڈاؤن معاہدہ طے نہ پایا تو جمعے سے درجنوں بڑے ہوائی اڈوں پر پروازوں کی تعداد میں 10 فیصد تک کمی کردی جائے گی۔
امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹ شان ڈفی نے بدھ کو نیوز کانفرنس میں بتایا کہ یہ فیصلہ ایئر ٹریفک کنٹرولرز کی شدید قلت کے باعث کیا گیا ہے جو کئی ہفتوں سے بغیر تنخواہ کام کر رہے ہیں، ہم نے کنٹرولرز سے کام پر آنے کی درخواست کی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ مالی دباؤ میں ہیں اور اپنی روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں مشکل محسوس کر رہے ہیں ۔
ابتدائی فہرست کے مطابق نیویارک، واشنگٹن، شکاگو، اٹلانٹا، ڈلاس، فینکس اور سیئٹل سمیت ملک کے 40 مصروف ترین ہوائی اڈے متاثر ہوں گے،ایف اے اے کے ایڈمنسٹریٹر برائن بیڈفورڈ نے کہا کہ ہم ائیر لائنز کے ساتھ مل کر شیڈول میں کمی کریں گے تاکہ فضائی نظام کی حفاظت برقرار رہے۔
نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کی چیئرپرسن جینیفر ہومینڈی نے بھی اس فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور یہ اقدام حفاظت کے نقطہ نظر سے ضروری ہے۔
ذرائع کے مطابق ائیر لائنز کو یہ فیصلہ صرف ایک گھنٹہ پہلے بتایا گیا،وہ حکومتی اداروں سے رابطے میں ہیں تاکہ مسافروں اور سامان کی ترسیل پر اثرات کم سے کم کیے جا سکیں۔
رپورٹ کے مطابق جمعے سے پروازوں میں کمی کا عمل شروع ہوگا جو آئندہ ہفتے تک بتدریج بڑھایا جائے گا، یہ تبدیلیاں صرف کمرشل فلائٹس ہی نہیں بلکہ اسپیس لانچز اور چھوٹے طیاروں پر بھی لاگو ہوں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے مطابق
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔