Express News:
2026-06-03@01:21:51 GMT

ستائیسویں ترمیم

اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT

ستائیسویں ترمیم کے پروپوزل پر وزیراعظم اور بلاول بھٹو کے درمیان مذاکرات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے اجلاس جاری ہیں۔ ترمیمی مسودے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے، البتہ آرٹیکل 243 میں ترمیم کے حوالے سے پیپلز پارٹی نے اپنی رضا مندی ظاہرکردی ہے۔

یہ ابھی تک معلوم نہیں کہ اس آرٹیکل کی کونسی شق میں،کونسی ترمیم کی جائے گی یا کیا نئی ترمیم متعارف کی جائے گی؟ اس لیے اس پرکوئی تفصیلی بحث نہیں کی جاسکتی۔ جو ترمیم 243 میں کی جارہی ہے، وہ مسودہ ہمارے سامنے ابھی تک آیا نہیں ہے، صرف قیاس آرائیاں اور مفروضے ہیں جن پر بحث کرنا قبل از وقت ہے۔

 ہم نے دیکھا ہے کہ آئین میں ترامیم کا پوری سیاست، سماج، عدلیہ اور تمام اداروں پر اثر پڑتا ہے، وہ چاہے منفی ہو یا مثبت۔ ہماری 78 سال کی تاریخ اور آئینی بحران ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

ہم چھبیس سال تک ملک کو آئین نہ دے سکے اور وہ جو دو آئین ہم نے دیے ایک 1956 اور1962دونوں آئین کے مروج تقاضوں پر پورے نہیں اترتے تھے اور جب اس بحران سے یہ ملک دولخت ہوا تو تب جا کے ہم نے ہوش کے ناخن لیے اور اس ملک کو ایک جامع متفقہ اور بین الاقوامی آئین کے تقاضاؤں کو پورا کرتا ہوا ایک آئین دیا۔ 

لیکن پھر ہم اس آئین پرکھڑے نہ ہوسکے، ملک کے اندر دو آمریتیں آئیں اور باقی بچی جمہوریت، یعنی جو جمہوریتیں آئیں وہ کمزور تھیں اور بلآخر اس آئینی بحران سے یا یوں کہیے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ سے ایک انتہائی کمزور جمہوریت نے جنم لیا جس کو ہم ہائبرڈ جمہوریت کے نام سے جانتے ہیں۔

 پاکستان کی جمہوری قوتیں جو آمریتوں کو روکنے کا دعویٰ کرتی تھیں یا ہیں، ہر سیاسی بحران میں اپنی بقاء کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے تعاون کی طلب گار ہوگئیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے، اس ملک میں شفاف انتخابات ممکن نہیں رہے، پاکستان میں ایک ہی انتخابات کو شفاف کہا جاتا ہے ، وہ تھے 1970 کے جس کے نتائج کو ہم نے قبول نہیں کیا اور باقی تمام نتائج کسی نہ کسی حوالے سے اختلافی رہے۔

عام انتخابات کس طرح ہوتے ہیں، کون کیسے کامیاب ہوتا ہے، اس پر بحث ہوتی رہتی ہے۔ ہماری جمہوری قوتوں نے بھی وہی راستہ اپنایا، جو وقت کی مناسبت سے انھیں سوٹ کرتا ہے۔ اب یہ اسمبلی جس میں جو لوگ منتخب ہو کر آئے ہیں،کیا وہ بھی اسی انداز سے آئے ہیں جس طرح ہوا کا رخ بتاتا ہے۔

آئین میں ترامیم کرنا تکراری نہیں ہوتا، سوال یہ ہے کہ آئین میں کونسی ترامیم کی جا رہی ہیں، اگر ترامیم خود آئین کو بہترکرتی ہیں جس میں انسانی حقوق اور واضح ہوتے ہیں جس میں صوبائی خود مختاری اور مضبوط ہوتی ہے جس میں عدلیہ اور آزاد ہوتی ہے، جس میں جمہوریت اور پروان چڑھتی ہے تو ایسا عمل خوش آیند ہے۔

اس کے برعکس اگر انسانی حقوق چھینے جاتے ہیں، اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگائے جاتے ہیں۔ صوبائی خود مختاری یا عدلیہ کی آزادی چھینی جاتی ہے تو ایسی ترامیم نہ صرف آئین میں بگاڑ پیدا کرتی ہیں بلکہ سماجی و سیاسی اعتبار سے ملک کو پیچھے کو دھکیلتی ہیں، جس کے اثرات براہ راست ہماری معیشت پر پڑتے ہیں۔

ہماری بین الاقوامی ساخت ہمارے سماج کو کمزورکرتی ہیں اور خصوصاً نوجوانوں کی نفسیات پر منفی اثر پڑتا ہے جس سے ان کی صلاحیتیں کمزور ہوتی ہیں اور پھر اس تیزی سے بدلتی دنیا میں ہم اپنی مجموعی پیداوار کو نہیں بڑھا سکتے۔

پاکستان میں ایک مخصوص شرفاء کا طبقہ ہے جن کی جڑیں جاگیرداری، گماشتہ سرمایہ داری، اسمگلنگ، زمینوں پر قبضے ، منشیات کا کاروبارکرنے والے لوگوں پر مشتمل ہے ۔ 78 سال کی اس تاریخ میں ہم ابھی تک ملک کو مڈل کلاس سیاست اور قیادت دینے میں ناکام ہوگئے ہیں اور جو اگر مڈل کلاس قیادت و سیاست سامنے آئی بھی، تو وہ بھی شرفا سے گٹھ جوڑ بنا کے بیٹھ گئی۔

آئین اپنا تحفظ خود نہیں کرسکتا، اس کا تحفظ ایک مضبوط، بھرپور سماج کرتا ہے اور اگر سماج کی وقت کے ساتھ ساتھ بھرپور انداز میں نشونما نہیں ہوئی تو وہ جمہوریت کو نقصان پہنچاتا ہے، آج بھی پاکستان میں ساٹھ فیصد قومی اسمبلی میں پہنچنے والے وہی ہیں جن کی جدی پشتی سیٹیں ملی ہیں۔

ان ساٹھ فیصد علاقوں کے لوگ جاگیرداروں، پیروں، وڈیروں، چوہدریوں، اور قبائلی سرداروں کے پاس غلام بنے ہوئے ہیں اور ہم نے بحیثیت ریاست ایسا ہونے دیا ہے تاکہ اقتدار پر اجارہ داری قائم رہے، لیکن ہم یہ نہیں جانتے، ہماری اس سوچ نے پاکستان کو معاشی طور پرکتنا کمزورکردیا ہے کہ آج وہ معاشی اعتبار سے اپنی بقا کے لیے جنگ لڑرہا ہے اور ہم یہ سمجھ نہ سکے کہ ہم جس طریقے سے اس ملک کو چلا رہے ہیں، وہ ایک ایسے بھنور میں پھنس جائے گا جہاں سے نکلنا آسان نہیں ہوگا۔

ہم نے پاکستان کے اس سیاسی بحران سے معیشت پر پڑتے اثرات کوکبھی نہیں جانا۔ ہم یہ سمجھتے رہے کہ ہمیں امریکا سے امداد ملتی رہے گی اور ہم فرنٹ لائن اسٹیٹ کی حیثیت سے ان کے ایجنڈے پرکام کرتے رہیں گے۔

ان تمام باتوں کے تانے بانے ہمارے آئین کے ارتقاء اس کی مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں، آئین سماج اور سیاست یہ تینوں ستون ہیں جس پر یہ پاکستان کھڑا ہے اور یہ تینوں ستون، ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں اور ان تینوں ستونوں پر اگرکسی ایک ستون کمزور ہوتا ہے تو وہ دوسرے ستون کو کمزورکرتا ہے۔

پاکستان کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ یہاں پر جو بھی فرسودہ طبقات ہیں جیسا کہ جاگیردار، وڈیرا، سردار، چوہدری، سرمایہ دار، پیر، منشیات کا کاروبار، اسمگلنگ، مذہب کی اجارہ داری کرتے ہوئے ان تمام غیر پیداواری طبقات میں آتے ہیں۔

ہمیں مضبوط، معیشت، مضبوط آئین اور جمہوریت رواداری سے مل سکتی ہے، لٰہذا آئین پر آئے دن یلغارکرنا، اسے بگاڑکے رکھ دینا، خود اس آئین کو قتل کرنے کے مترادف ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہیں اور ملک کو ہیں جس

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم

روم:   پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف