کسی جماعت سے انتخابی اتحاد نہیں ہو گا، غلام شہزاد آغا
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
صوبائی وزیر تعلیم و پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے رہنما نے کہا کہ بہت سارے جیالے اتحاد کی بازگشت سن کر پریس کانفرنس کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، کوئی کارکن اسلامی تحریک سمیت کسی جماعت سے اتحاد نہیں چاہتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ صوبائی وزیر تعلیم گلگت بلتستان و پیپلز پارٹی کے رہنما غلام شہزاد آغا نے کہا ہے کہ اسلامی تحریک سمیت کسی جماعت سے انتخابی اتحاد نہیں ہو گی، پیپلز پارٹی کی پوزیشن مضبوط اور مستحکم ہے، ہم چوبیس کے چوبیس حلقوں میں امیدوار کھڑے کر رہے ہیں، تمام حلقوں میں تین تین چار چار امیدوار پارٹی ٹکٹ کے امیدوار ہیں ایسے میں اسلامی تحریک سمیت کسی جماعت سے اتحاد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اتحاد کی باتیں سازش ہیں، ایسی باتیں سن کر جیالے اور پیپلز پارٹی کے کارکن سخت پریشان ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بہت سارے جیالے اتحاد کی بازگشت سن کر پریس کانفرنس کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، کوئی کارکن اسلامی تحریک سمیت کسی جماعت سے اتحاد نہیں چاہتا ہے، ہم اتحاد ہونے نہیں دیں گے۔ اتحاد اس صورت میں کیا جائے جب کسی حلقے میں ہماری پوزیشن کمزور ہو، جب تمام حلقوں میں ہم مضبوط پوزیشن میں ہیں تو اسلامی تحریک کو ساتھ ملانے کی کیا ضرورت ہے، ہاں الیکشن کے بعد حکومت سازی کے وقت ضرورت پڑی تو ایک آدھ جماعت کو ساتھ ملایا جاسکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلامی تحریک سمیت کسی جماعت سے اتحاد نہیں
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔