مقامی حکومت اور غیر جماعتی انتخابات کی منطق
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت اگر سیاسی، جمہوری ،آئینی اور قانونی اصولوں کو نظرانداز کریں یا عدالتی فیصلوں کو ہی اپنی ترجیحات بنانے سے انکار کر دیں تو پھر اس ملک میں جمہوری نظام کی بالادستی محض ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔کچھ اسی طرز کی کہانی پاکستان کے سیاسی اور جمہوری نظام بالخصوص نچلی سطح پر موجود مقامی حکومتوں کے نظام سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
اس کہانی میں سیاسی جماعتیں مقامی حکومتوں کے نظام کو نہ تو اپنی ترجیحات کا حصہ بنانے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی وہ جمہوری یا آئینی خطوط پر اس نظام کی تشکیل کے لیے سنجیدہ ہیں۔پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 07بھی تین طرز کی سیاسی حکومتوں کی بات کرتا ہے جس میں وفاقی ،صوبائی اور مقامی حکومت کا تصور سیاسی اور آئینی تقاضا کی بات پر زور دیتا ہے۔
حال ہی میں پنجاب کی صوبائی حکومت نے پنجاب اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ2025کی منظوری دی ہے ۔اس قانون کے تحت پنجاب کی حکومت اسی برس یا اگلے برس کے شروع میں صوبہ کی سطح پر مقامی حکومتوں کے انتخابات چاہتی ہے۔مگر اہم بات یہ ہے کہ مسلم لیگ ن بطور جماعت اور صوبائی حکومت ان مقامی حکومتوں کے انتخابات کو غیر جماعتی بنیادوں پر کرانا چاہتی ہے۔
اس حالیہ 2025مقامی حکومتوں کے ایکٹ میں جان بوجھ کر واضح طورپر نہیں لکھا گیا کہ یہ انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہونگے۔مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت پنجاب اور مرکز میں موجود حکومتی وزرا بھی جماعتی اور غیر جماعتی انتخابات پر متضاد باتیں کرکے مزید لوگوں کو الجھانے کی کوشش کررہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بقول اس وقت چاروں صوبوں میں سب سے بہتر کارکردگی ان کی صوبائی حکومت کی ہے اور ان ہی کی قیادت میں ترقیاتی کاموں اور عوامی ریلیف کا جال بچھایا گیا ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ موجودہ حالات میں چاروں صوبوں میں سب سے زیادہ مقبول لیڈر کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کی حکومت مقامی حکومتوں کے انتخابات کو غیر جماعتی بنیادوں پر کیوں کروانا چاہتی ہے کیوں وہ اس نظام کو سیاسی اور جمہوری چھتری دینے کے لیے تیار نہیں ۔یہ بات ذہن میں رہے کہ 2015میں پنجاب میں وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف صوبہ میں غیر جماعتی انتخابات کے حامی تھے ۔
لیکن عدالت کے ایک بڑے فیصلے کے تحت ان انتخابات کو جماعتی بنیادوں پر کروایا گیا۔اس لیے ایک طرف لاہور ہائی کورٹ کے واضح فیصلے کی موجودگی اور پھر خود مسلم لیگ ن نے میثاق جمہوریت کے معاہدہ کی شق دس میں پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر یہ عہد کیا تھا کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات جمہوری اصولوں کے تحت جماعتی بنیادوں پر کروائے جائیں گے،لیکن اب ان دونوں فیصلوں کو نظر انداز کرکے پنجاب میں غیر جماعتی بنیاد پر انتخابات کا اعلان جمہوریت اور آئین کے بھی منافی ہے۔
پاکستان میں جب بھی وفاقی، صوبائی یا مقامی حکومتوں کے نظام کو غیر سیاسی یا غیر جماعتی بنیادوں پر چلا یا گیا چاہے اس میں فوجی یا جمہوریت کے ادوار ہوں تو اس سے سیاست اور جمہوریت دونوں کو ہی نقصان پہنچا ،آج جو ہمیں ملک میں جمہوریت کی کمزوری کے مختلف پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں اس میں سیاسی نظام کو غیر سیاسی اور غیر جماعتی بنیاد پر چلانے کی حکمت عملی بھی ہے۔کیونکہ غیر جماعتی یا غیر سیاسی نظام ملک میں سیاسی جماعتوں کو مقامی سطح پر مضبوط بنانے کی بجائے مقامی برادریوں ،سماجی دھڑوں سمیت بڑے جاگیرداروں کو مدد فراہم کرتا ہے اور وہ اسی بنیاد پر مقامی حکومتوں کے نظام پر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں اپنی بالادستی قائم کرتے ہیں۔
سیاسی جماعتیں اور ان کے فیصلے بھی ان ہی بڑی بڑی برادریوں کے سیاسی مفادات کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔اسی طرز کے غیر جماعتی انتخابات میں سیاسی جماعتیں پیچھے اور برادری کی سیاست کا ایجنڈا غالب ہوجاتا ہے۔مقامی مضبوط برادریاں اپنے مضبوط حلقہ کی طاقت کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ ان کے ایجنڈے کے ساتھ خود کو جوڑیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ غیر جماعتی انتخابات کی بنیاد پر بھی سیاسی جماعتیں غیر اعلانیہ یا اعلانیہ اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارتی ہیں اور انتخابات کے نتائج میں اپنی جیت کے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں ۔
یعنی آدھا تیتر آدھا بٹیر پر مبنی سیاسی جماعتوں کا یہ تضاد ملک میں جمہوریت بالخصوص مقامی سطح پر ان جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا سبب بنتا ہے۔ویسے بھی غیر جماعتی انتخابات کی بنیاد پر بھی ہم سیاسی جماعتوں کے کردار اور ان انتخابات کے کردار کو کیسے نظر انداز کرسکتے ہیں ۔اس لیے اس تضاد کا شکار ہونے کی بجائے سیاسی حکومت غیر جماعتی انتخابات کا راستہ اختیار کرنے سے گریز کرے اور ان انتخابات کو کھل کر جماعتی بنیادوں پر کروانے کا راستہ اختیار کرکے خود کو جمہوریت کے اصولوں کے ساتھ ہی جوڑنے کی کوشش کرے۔ جب بڑی سیاسی جماعتیں جمہوریت کا بڑھ چڑھ کر درس دیتی ہیں توایسے میں مقامی حکومتوں کو بنیاد بنا کر کیونکر غیر جماعتی نظام صوبہ میں مسلط کرنا چاہتی ہیں۔
ایک لطیفہ یہ بھی ہے کہ موجودہ مقامی حکومت ایکٹ2025کے تحت غیر جماعتی سطح کے ان انتخابات میں افراد جیت کر سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں ۔ مسلم لیگ ن کو جنرل ضیا الحق کی سیاست سے خود کو باہر نکالنا چاہیے جو سیاسی نظام غیر سیاسی بنیاد پر آگے بڑھانا چاہتے تھے اور اسی بنیاد پر قومی سیاست میں کئی خرابیوں نے بھی جنم لیا ۔
صوبائی حکومتیں اسی کوشش میں ہوتی ہیں کہ غیر جماعتی انتخابات کو بنیاد بنا کر منتخب افراد کو حکومت،انتظامیہ، ڈپٹی کمشنرز اور پولیس کی مدد سے دباؤ ڈال کر ان کو ہر صورت میں حکومتی جماعت میں شمولیت پر مجبور کیا جا سکے تاکہ ان کی سیاسی اجارہ داری قائم رہے۔اہم نقطہ یہ ہے کہ اس وقت باقی تینوں صوبوں میں مقامی حکومتوں کے انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوئے ہیں جب کہ پنجاب غیر جماعتی نظام میں پھنسا ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مقامی حکومتوں کے انتخابات مقامی حکومتوں کے نظام غیر جماعتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر غیر جماعتی بنیاد سیاسی جماعتیں سیاسی جماعتوں صوبائی حکومت مقامی حکومت انتخابات کو ان انتخابات مسلم لیگ ن سیاسی اور میں سیاسی غیر سیاسی بنیاد پر کے ساتھ نظام کو ملک میں کو غیر کے تحت اور ان
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار