ایم کیو ایم کی وزیراعظم کو 27ویں ترمیم پر دیگر جماعتوں سے بات کرنے کی یقین دہانی
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف سے ایم کیو ایم کے وفد کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ فوٹو اے پی پی
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے وزیراعظم شہباز شریف کو 27ویں ترمیم پر دیگر جماعتوں سے بات کرنے کی یقین دہانی کروا دی۔
وزیراعظم شہباز شریف سے ایم کیو ایم کے وفد کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کا وفد دیگر جماعتوں سے بھی ملاقات کرے گا، ایم کیو ایم، جے یو آئی ف، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں سے اپنے حق میں ووٹ دینے کا کہے گی۔
وزیراعظم سے ایم کیو ایم کے 7 رکنی وفد نے ملاقات کی، وفد میں خالد مقبول صدیقی، کامران ٹیسوری، فاروق ستار، امین الحق، جاوید حنیف اور مصطفیٰ کمال شامل تھے، ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور اٹارنی جنرل منصور عثمان بھی موجود تھے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے وفد کی ملاقات جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم نے مطالبہ کیا کہ مقامی حکومتوں کے قیام کو آرٹیکل 140 کے تحت آئینی تحفظ دیا جائے، ایم کیو ایم نے مطالبہ کیا کہ ہر چار سال بعد ملک میں مقامی حکومتوں کے انتخابات ہوں گے، ایم کیو ایم نے مطالبہ کیا انتخابات کے بعد بننے والی مقامی حکومت کو مالی، انتظامی اور سیاسی اختیارات دیے جائیں، چار سال بعد مقامی حکومتیں ختم ہو جائیں اور نگراں سیٹ اپ انتظام سنبھال کر نئے الیکشن کروائے۔
مسلم لیگ ن کی جانب سے ایم کیو ایم کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کروائی گئی، وزیراعظم نے ایم کیو ایم وفد کو یقین دہانی کروائی کہ ان کے مجوزہ آئینی مسودے کو 27ویں ترمیم کا حصہ بنایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف کے وفد کی ملاقات دیگر جماعتوں سے سے ایم کیو ایم شہباز شریف سے یقین دہانی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔