Juraat:
2026-06-02@22:47:20 GMT

خیالی جنگل راج کا ڈر اور حقیقی منگل راج کا قہر

اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT

خیالی جنگل راج کا ڈر اور حقیقی منگل راج کا قہر

ڈاکٹر سلیم خان

وزیر اعظم نریندر مودی کے احساسِ کمتری نے نہ صرف بی جے پی بلکہ متحدہ جمہوری محاذ(این ڈی اے ) کی جو درگت بنائی ہے اس کامظاہرہ بہار کی انتخابی مہم میں صاف دکھائی دیتا ہے ۔ وہاں ایک طرف مہا گٹھ بندھن کے لیے راہل اور تیجسوی کی جوڑی زور و شور سے انتخابی مہم چلا رہی ہے وہیں پرینکا گاندھی اور کنہیا کمار بھی پیچھے نہیں ہیں ۔ اس کے برعکس این ڈی اے کو دیکھیں تو نتیش کمار تھک ہار کر بیٹھ گئے ہیں ۔ گری راج سنگھ اور شکونی چودھری کو ان کی بدزبانی نے بے زبان کردیا ہے ۔ چراغ پاسوان اندھیرے میں ہیں اور جیتن رام مانجھی نہ جانے کہاں کھوگئے ہیں ۔ فی الحال انتخابی میدان میں اکیلے نریندر مودی اور ان کے پیچھے لنگڑے گھوڑے کی مانند امیت شاہ کسی طرح این ڈی اے کے ٹوٹے رتھ کو ہانپتے کانپتے کھینچ رہے ہیں۔ ان بیچاروں کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آخر بولیں تو بولیں کیا؟ اور کریں تو کریں کیا؟
مودی اور شاہ کے پاس چونکہ بیس سال کی سرکار میں بتانے جیسا کچھ نہیں ہے اس لیے وہ فی الحال اپنا پرانے گھسے پٹے جنگل راج کے نعرے سے عوام کو ڈرانے میں جٹے پڑے ہیں۔ اس راگ کا سر جب مدھم پڑنے لگتا ہے تو اس میں فرقہ پرستی کا تڑکہ لگا کر ازسرِ نو کا راگ الاپنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مرحوم محمدشہاب الدین کا جن پھر بوتل سے نکل آیا ہے ۔ بہار کے ضلع سیوان میں ایک انتخابی ریلی کے دوران مرکزی وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے راشٹریہ جنتا دل پر حملہ بولتے ہوئے مرحوم کے بیٹے اسامہ شہاب کو راگھوناتھ پور اسمبلی حلقے سے امیدوار بنانے پر خوب شور مچایا۔ وہ بولے سیوان کے بہادر عوام نے کبھی بھی شہاب الدین جیسے خوفناک غنڈے کے آگے سر نہیں جھکایا اور پھر یاد دلایا کہ ان کے خلاف تقریباً 75 مقدمات درج تھے ۔ وہ ”اے کیٹیگری” کے ہسٹری شیٹر تھے ، جن پر دو بار قید، تین قتل، ایک ایس پی پر حملہ، اور کاروباری کے بیٹوں پر تیزاب پھینکنے جیسے سنگین الزامات تھے ۔
امیت شاہ بھول گئے کہ اس طرح کے الزامات تو خود ان پر بھی لگے تھے اور انہیں تڑی پار بھی کیا گیا تھا لیکن دونوں پر الزامات ثابت نہیں ہوئے اس لیے کسی کوسزا نہیں سنائی گئی۔ اس کے باوجود اگر شاہ وزیر داخلہ بن سکتے ہیں تو شہاب الدین وزیر دفاع کیوں نہیں؟ امیت شاہ نے عوام سے کہاکہ آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو نے خود اپنے ہاتھوں سے شہاب الدین کے بیٹے کو ٹکٹ دیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنے امیدواروں کو پیر سے ٹکٹ دیتے ہیں یا کتے کی مانند ان کے آگے پھینک دیتے ہیں۔ یہ سنگھ کی شاکھا میں ان کی تربیت کا اثر ہے لیکن دوسرے لوگ اگر نہایت ادب واحترام کے ساتھ اپنے ساتھیوں ٹکٹ سے نوازتے ہیں تو اس میں کیا غلط ہے ؟
امیت شاہ بولے لالو یادو نے شہاب الدین کے بیٹے کو امیدوار بنا کر ثبوت دیا ہے کہ آر جے ڈی آج بھی انہی مجرم عناصر کو سیاست میں لا رہی ہے ، جنہوں نے بہار کو بدنام کیا تھا۔یہاں سوال یہ ہے کہ اگر بفرضِ محال شہاب الدین پر لگنے والے الزامات کو درست مان لیا جائے تب بھی ان کے بیٹے کو اس کے لیے قصوروار ٹھہرانا کیوں کر درست ہوسکتا ہے ؟ شاہ نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بہار کے اندر قانون و نظم کی حالت اس قدربالکل بدل چکی ہے کہ اگر سو شہاب الدین بھی آ جائیں، تو بھی کوئی عوام کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔’قدرت کا کرنا یہ ہوا کہ جب امیت شاہ سیوان میں بڑی بڑی ہانک رہے تھے دارالخلافہ پٹنہ سے قریب مکامہ حلقے میں جے ڈی یو امیدوار اور سابق ایم ایل اے اننت سنگھ نے مبینہ طور پر دلار چند یادو کا قتل کردیا اور وزیر داخلہ کی ہوا نکال دی ۔ اس بابت پہلی خبر تو یہ آئی کہ ٹال علاقے میں فائرنگ سے دلار چند یادو کی موت ہوگئی ۔ مقتول کے پوتے نے جو ایف آئی آر درج کرائی اس میں اننت سنگھ کے علاوہ ان کے دو بھتیجوں رنویر سنگھ اور کرمویر سنگھ سمیت پانچ افراد کو نامزد کیا گیا ۔
مودی اور شاہ کے منگل راج میں ان کے امیدوار نے پہلے تو 75 سالہ دلار چند یادو کے پیر پر گولی چلا کر انہیں زخمی کیا اور کمال سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان پر گاڑی چڑھا دی ۔یہی این ڈی اے کا وہ منگل راج ہے جس کی دہائی وزیر داخلہ امیت شاہ دیتے رہتے ہیں ۔ اس قتل و غارتگری کے بعد پٹنہ کے ایس ایس پی کارتکئے شرما نے بتایا کہ فائرنگ کے بعد پولیس جب موقع پر پہنچی تو وہاں دو تین ٹوٹی ہوئی گاڑیاں ملیں، جن میں سے ایک کے اندر دلار چند یادو کی لاش تھی یعنی وہ اسے اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب نہیں ہوئے ۔ اس منگل راج کی میں یکطرفہ تماشا یہ بھی ہے کہ ایس ایس پی نے مقتول کے خلاف قتل اور آرمز ایکٹ کے مقدمات کا ذکر تو کیا مگر قاتلوں پر چپیّ سادھ لی نیزگودی میڈیا جے ڈی یو امیدوار اننت سنگھ کے ذریعہ ان پر لگے الزامات کی تردید پھیلانے میں لگ گیا اور مودی و شاہ کی چونچ بند ہوگئی۔
جے ڈی یو کے امیدوار اننت سنگھ کے اندر اتنی جرأت تو ہے نہیں کہ سینہ ٹھونک کے کہتا کہ اس نے قتل کروایا اس لیے اپنی صفائی میں کہنے لگا ، "میری شبیہ خراب کرنے کے لیے سیاسی سازش کے تحت جھوٹا مقدمہ درج کرایا گیا ہے ۔ میں واقعہ کے وقت وہاں موجود نہیں تھا۔ لیکن ان کی یہ بہانے بازی کسی کام نہیں آئی۔ سانحہ کے دو دن بعد جب پانی سر سے اونچا ہوگیا تو پولیس نے بدمعاش سابق ایم ایل اے اور جے ڈی یو امیدوار اننت سنگھ کو گرفتار کرلیا۔ اسے باڑھ سے حراست میں لے کر پٹنہ لایا گیا۔ یہ کارروائی ٹھوس ثبوتوں ، عینی شاہدین کے بیانات اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کی بنیاد پر کرنی پڑی کیونکہ ان میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا سنگین الزام تھا۔ چشم دید گواہوں کے مطابق یہ قتل کلیدی ملزم اور امیدوار اننت سنگھ کی موجودگی میں ہوا۔ اس وقت ان کے ساتھی منی کانت ٹھاکر اور رنجیت رام بھی موجود تھے اس لیے ان کو بھی گرفتار کیا گیا۔
الیکشن کمیشن نے ڈی جی پی اور پٹنہ کے ڈی ایم سے دو نومبر تک تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی اس لیے سماج دشمن عناصر کو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سے روکنے کی خاطر مجبوراً یہ کارروائی کرنی پڑی اور80 لوگوں کو حراست میں لیا گیا ۔ الیکشن کمیشن نے چونکہ اس معاملے کو سنگینی کے سبب دباو ڈالا اس لیے کئی افسران کے خلاف کارروائی بھی ہوئی۔ پٹنہ رورل ایس پی وکرم سہاگ کا تبادلہ کر دیا گیا، جب کہ ایس ڈی پی او کو معطل کر دیا گیا۔ آئی اے ایس آشیش کمار نے بارہ ایس ڈی او چندن کمار کی جگہ لی۔ سی آئی ڈی کے ڈی ایس پی آنند کمار سنگھ کو باڑھ I کے ایس ڈی پی او کے طور پر مقرر کیا گیا اور اے ٹی ایس کے ڈی ایس پی آیوش سریواستو کو باڑھ-II کے ایس ڈی پی او کے طور پر
مقرر کیا گیا ہے ۔ آئی جی جتیندر رانا صورت حال کی نگرانی پر مامور کیا گیا ۔ تحقیقات کی نگرانی سی آئی ڈی کے ڈی آئی جی جینت کانت کو سونپی گئی اور انہوں نے ذاتی طور پر جائے وقوع کا دورہ کرکے پولیس کی کئی ٹیموں کے ساتھ حالات کا جائزہ لیا۔ اس مشق کے دوران سی آئی ڈی نے ایف ایس ایل ٹیم کے ساتھ مل کر پورے علاقے کی تلاشی لی اور کئی اہم سراغ جمع کیے ۔ تفتیش کاروں نے واقعے میں ملوث تباہ شدہ گاڑیوں کا بھی معائنہ کیااور ان میں سے فرانزک نمونے حاصل کیے ۔
یہ حسن اتفاق ہے کہ دلار چند یادو کا تعلق آر جے ڈی سے نہیں بلکہ بی جے پی کی بی ٹیم جن سوراج پارٹی سے تھا ۔ مقامی باشندوں نے تصدیق کی کہ دلار چند یادو ٹال علاقے کے ایک اثر و رسوخ والی شخصیت تھے اس لیے ان کی موت سے لوگوں میں خوف اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔یہ جھڑپ اگر جے ڈی یو امیدوار اننت سنگھ اور جن سورج کے امیدوار پیوش پریادرشی عرف للو مکھیا کے حامیوں کے درمیان نہیں بلکہ آر جے ڈی امیدوار کے ساتھ ہوئی ہوتی تو میڈیا آسما ن سر پر اٹھا لیتا لیکن ویسا نہیں ہوا۔ دلار چند یادو کے قاتلوں کو اسی وقت سزا ملے گی جب این ڈی اے انتخاب ہار جائے ۔ جے ڈی یو میں بی جے پی کے سب سے بڑے حامی للن سنگھ فی الحال بڑی بے حیائی سے اننت سنگھ جیسے مجرم پیشہ امیدوار کی کامیابی کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ وہ جیل کے اندر ہونے کے باوجود اننت سنگھ کا کامیاب کروانا چاہتے ہیں۔یہ کوشش اگر کامیاب ہوگئی تو بی جے پی کے منگل راج میں سارا معاملہ رفع دفع کردیا جائے گا۔ ویسے دلاچند یادو کے قتل نے ٩ حلقۂ انتخاب میں این ڈی اے کی جیت پر اثر انداز کیا ہے نیز جنگل راج والے بیانیہ کی ہوا بھی نکال دی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: امیدوار اننت سنگھ جے ڈی یو امیدوار دلار چند یادو شہاب الدین امیت شاہ منگل راج بی جے پی آر جے ڈی کیا گیا کے ساتھ کے بیٹے کے اندر کے لیے اور ان اس لیے ایس ڈی ایس پی

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی