لاہور:

اگرچہ حکومت معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) حاصل کرنے کی کوششیں کر رہی ہے تاہم صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک گہرے ساختی اصلاحات نافذ نہیں کی جاتیں، پاکستان میں قلیل مدتی سرمایہ کاری کے بہاؤ محض عارضی اور غیر پائیدار رہیں گے۔

مقامی صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ چین، متحدہ عرب امارات اور بیلاروس سے حالیہ سرمایہ کاری کے وعدے حوصلہ افزا ضرور ہیں، لیکن انھیں معاشی لحاظ سے انقلابی نہیں کہا جا سکتا۔

ان کے مطابق یہ نئے منصوبے زیادہ تر سرمائے پر مبنی ہیں، جدت یا تحقیق پر نہیں، اور وہ ان کثیرالقومی کمپنیوں کے انخلا کا ازالہ نہیں کر سکتے جنھوں نے ملک میں تحقیق، ترقی اور کارپوریٹ گورننس کے اعلیٰ معیارات قائم کیے تھے۔

ایس ایم انجینئرنگ کے سی ای او ایس ایم اشتیاق نے کہاچینی صنعتی منصوبوں اور یو اے ای کی بینکاری دلچسپی کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے مگر سانوفی اور پی اینڈ جی جیسی کمپنیوں کے انخلا سے ملک کو ادارہ جاتی نقصان پہنچا ہے جس کا ازالہ وقتی سرمایہ کاری سے ممکن نہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں پاکستان سے کئی بین الاقوامی کمپنیوں نے اپنا کاروبار بند یا محدود کیا ہے جن میں سانوفی، پراکٹر اینڈ گیمبل (P&G) اور گلیکسو اسمتھ کلائن کنزیومر ہیلتھ کیئر شامل ہیں۔ ٹیلی کام سیکٹر میں ٹیلی نار اور کریم جیسے ادارے بھی مارکیٹ سے نکل چکے ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مالی سال 25ء میں ایف ڈی آئی کا حجم تقریباً 1.

84 ارب ڈالر رہا، جو گزشتہ سال کے 1.9 ارب ڈالر سے کچھ کم ہے، جس سے سرمایہ کاروں کے غیر یقینی اعتماد اور کمزور کاروباری ماحول کا پتہ چلتا ہے۔

اشتیاق کا کہنا تھا کہ حالیہ غیر ملکی سرمایہ کاری، بالخصوص توانائی اور مالیاتی شعبوں میں، زیادہ تر سرکاری یا دو طرفہ منصوبوں جیسے سی پیک سے منسلک ہیں۔

یہ مارکیٹ پر مبنی سرمایہ کاری نہیں، اور یہ لازمی طور پر ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی جدت یا پائیدار روزگار تخلیق میں مددگار نہیں بنتی۔صنعتی ماہرین کے مطابق بڑی دواساز کمپنیوں کا انخلا صرف زیادہ ٹیکسوں کی وجہ سے نہیں بلکہ ساختی کمزوریوں جیسے سخت قیمت کنٹرول اور کمزور دانشورانہ املاک کے تحفظ کے باعث بھی ہے۔

ٹیلی کام سیکٹر میں ملازمتوں میں کمی اگرچہ عالمی کاروباری تنظیم نو کا حصہ ہے تاہم یہ رجحان پاکستان میں پائیدار سرمایہ کاری کے فقدان کا اشارہ ضرور دیتا ہے۔

مارکیٹ کے سینئر تجزیہ کار محمد سلمان کے مطابق پاکستان کی ایف ڈی آئی پالیسی میں اب بھی پیش بینی اور شعبہ جاتی گہرائی کی کمی ہے۔ ہم ردعمل پر مبنی پالیسی سازی کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔

حکومتیں سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے وقتی مراعات دیتی ہیں مگر کاروبار برقرار رکھنے کے لیے پائیدار ماحول فراہم نہیں کرتیں۔

جب تک پالیسیاں مستقل، ٹیکس نظام شفاف اور قانونی نفاذ مضبوط نہیں ہوگا، پاکستان قلیل مدتی سرمایہ کار تو کھینچ لے گا مگر طویل مدتی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو کھو دے گا۔حکومتی اداروں کا دعویٰ ہے کہ وہ توانائی، انفراسٹرکچر اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں ملک مخصوص سرمایہ کاری کے لیے مختلف ممالک سے رابطے میں ہیں۔

تاہم اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ توجہ اب بھی بڑے سرمائے والے منصوبوں پر ہے، نہ کہ علم و تحقیق پر مبنی شعبوں جیسے آئی ٹی یا فارماسیوٹیکل پر، جو پائیدار اقتصادی اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔

ایک اور صنعت کار نے کہا کہ پاکستان میں مینوفیکچرنگ اور برآمدات کے شعبوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، لیکن جب تک معاشی عدم استحکام اور زرِ مبادلہ میں غیر یقینی صورتِ حال برقرار رہے گی، سرمایہ کاروں کا آنا جانا ایک معمول رہے گا تبدیلی نہیں آئے گی۔

ماہرینِ معیشت اور صنعت کار متفق ہیں کہ صرف غیر ملکی سرمایہ کافی نہیں۔ حقیقی اعتماد کی بحالی کے لیے اصلاحات پر مبنی طرزِ حکمرانی، کاروبار میں آسانیاں، اور سرمایہ کاروں کے حقوق کا تحفظ ناگزیر ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری کے سرمایہ کاروں سرمایہ کار غیر ملکی کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف