اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ 27ویں ترمیم میں صوبائی خود مختاری کو نہیں چھیڑا جائے، صوبوں نے اپنے قوانین بنا رکھے ہیں اس میں عمل دخل دینے کی ضرورت نہیں۔

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہم 27 ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کریں گے، ابھی تک ہمیں معلوم نہیں اس 27 ویں آئینی ترمیم کا کیا ڈرافٹ ہے، 26 ویں آئینی ترمیم میں بھی جو ڈرافٹ ہمارے ساتھ شیئر کیا گیا وہ پیش نہیں کیا گیا اس کا میں نے باقاعدہ مولانا صاحب کو بھی بتایا تھا۔ 

علیمہ خان کے 8ویں مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری، 12 بینک اکاؤنٹس منجمد

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کے پاس اربوں روپے کا بجٹ ہے، میڈیا کیمرا لے کر باہر نکلیں دیکھیں کوئی بندہ ان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس پارلیمان کے پاس استحقاق نہیں کہ یہ آئین میں کوئی تبدیلی کریں، ہمارے پاس 91 نشستیں تھیں، پہلے تین نشستیں لیں پھر آٹھ لے لیں اس کے بعد ہماری مخصوص نشستیں بھی لے لیں، آپ تب تک آئین میں ترمیم نہیں کر سکتے جب تک آپ کے پاس اصل دو تہائی اکثریت نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں آج تک کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، ہم سمجھتے ہیں کہ اس ترمیم سے وفاق اور صوبے سب متاثر ہوں گے۔

قائمہ کمیٹی داخلہ کے اجلاس میں 4سینیٹرز کے سائبر فراڈیوں کے ہاتھوں لٹنے کا انکشاف

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان کو قید میں دو سال سے زائد ہو گئے، پانچ دن کے اندر اندر ان کو تین سزائیں دی گئیں، یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی کہ لوگ انہیں بھول جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا، خان صاحب کو ضمانت مل گئی تو انہیں سائفر کیس میں گرفتار کرلیا گیا، اب توشہ خانہ اور عدت والا کیس ہے، اگر عدالتیں انصاف پر فیصلہ کریں تو خان صاحب رہا ہوں گے خان صاحب کی رہائی جب بھی ہوئی قانون کے تحت ہو گی کسی ڈیل کے تحت نہیں ہوگی، جو کچھ بھی ہوگا عدلیہ کے ذریعے ہوگا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ میں آج شاہ محمود قریشی سے ملاقات کرنے جاؤں گا، لاہور ہائی کورٹ میں ہماری دو پٹیشنز ابھی تک التوا میں ہیں، آج ہم نے درخواست دینی تھی کہ ان پٹیشنز کو سن لیں لوکل باڈی الیکشن بھی آ رہے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ نےمبینہ اغوا ءخاتون کو زندہ یا مردہ برآمد کر کے پیش کرنے کا حکم دیدیا

ان کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی نے پارٹی اور جمہوریت کے لیے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، ہم تحریک چلا رہے ہیں اور ہماری تحریک پہلے بھی چل رہی تھی، ابھی خان صاحب کی طرف سے نومبر میں کسی احتجاج کی کوئی کال نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو ہم کوشش کر رہے ہیں خان صاحب کی رہائی کے لیے اس سے خان صاحب مطمئن ہیں، خان صاحب پارٹی سے مطمئن ہیں، ہم کوئی گوریلا فورس نہیں، نہ ہی ہم کسی بیرون ملک طاقت کے منتظر ہیں کہ خان صاحب کو رہا کروالیں۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن