راولپنڈی:(نیوز ڈیسک)پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی سے ملاقات کے بعد ہی 27ویں ترمیم پر ریسپانس دیں گے، اس معاملے پر سیاسی کمیٹی میں بات کریں گے اور اس پر اپنی اسٹریٹیجی بنائیں گے۔

داہگل ناکہ پر میڈیا سے گفت گو میں انہوں ںے کہا کہ بانی عمران خان سے آج بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، دو سال سے عدالت کے احکامات پر عمل نہیں ہو رہا، یہ ظلم اور زیادتی ہے، بانی کو آپ جتنا چاہے جیل میں رکھیں لیکن وہ لوگوں کے دلوں میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بانی سے ملاقات کے بعد 27ویں ترمیم پر ریسپانس دیں گے، اس معاملے پر سیاسی کمیٹی میں بات کریں گے اور اس پر اپنی اسٹریٹیجی بنائیں گے، آئین میں اگر ترمیم ہونی ہے تو وہ پہلے اتفاق رائے سے ہوتی رہی ہے، عدلیہ ہمیشہ متنازع رہی ہے لیکن 26 ویں ترمیم نے ملک میں دراڑ پیدا کر رکھی ہے اب 27ویں ترمیم آرہی ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 18 ویں ترمیم ہو رہی تھی تو 101 آرٹیکلز میں ترامیم ہوئیں، 26 ویں ترمیم کو لے کر ورژن میں 56 آرٹیکلز تھے جب پہلا ورژن ہمارے پاس آیا تو اس میں 50 آرٹیکلز تھے، فائنل ورژن پر پہنچے تو 25 آرٹیکلز میں ترامیم کرنا تھیں، ان 25 آرٹیکلز میں سے ایک آرٹیکل میں پی پی، 6 آرٹیکلز میں جے یو آئی، 17 آرٹیکلز میں حکومتی ترامیم تھیں باقی مصنوعی ترامیم تھیں لیکن 5 ترامیم پر تنازع تھا۔

انہوں ںے بتایا کہ ان پانچ متنازع ترامیم میں آرٹیکل 175 اے جس کے ذریعے جوڈیشل کمیشن بنایا گیا تھا، آرٹیکل 191 جس کے ذریعے آئینی بنچ بنوایا گیا تھا، آرٹیکل 179 جس کے ذریعے چیف جسٹس کے لئے تین سال کا مدت کا تعین کروایا گیا تھا، آرٹیکل 209 جس کے ذریعے ججز پر نظر رکھنے کے لئے کمیشن کو اختیارات دیئے گئے تھے اور پانچویں ترمیم الیکشن کمیشن سے متعلق رکھی تھی، باقی سب ترامیم مصنوعی یا کاسمیٹکس تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 243 میں حکومت کا جو پہلا ورژن ہمارے پاس آیا تھا تو اس میں آرٹیکل 200 ججز کے ٹرانسفر سے متعلق حکومت نے ضرور لکھا تھا کہ جج کی مرضی کے بغیر اس کی ٹرانسفر کا اختیار ہونا چاہے لیکن اکتوبر میں جو پہلا ورژن آیا اس میں یہ شامل نہیں تھا، آرٹیکل 243 کو افواج سے متعلق تھا یہ حکومت کے پہلے ورژن میں موجود تھا جو کاپی ہمیں 12 اکتوبر کو دی گئی تھی، پھر اس کے بعد اسے ختم کر دیا گیا، ہمیں دیئے گئے ورژن میں تحریر تھا کہ آرمی سربراہان سے متعلق جو قوانین ان کی عمر سے متعلق ہے ان کو تحفظ حاصل ہوگا اس میں ترمیم نہیں کی جائے گی البتہ این ایف سی ایوارڈ سے متعلق کوئی بات کسی بھی وقت نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ تعلیم اس ملک کے بچوں کا ایک اہم مسئلہ ہے جب یہ شعبہ صوبوں کے پاس گیا تو انھوں نے کئی اسکول آؤٹ سورس کردیئے، پاپولیشن ویلفیئر صوبوں کے پاس گیا اس وقت ریورس کرنا صوبوں کا نقصان ہوگا، اس وقت اس چیز کو ریورس کرنے سے صوبوں کا نقصان ہوگا اسے ریورس نہ کیا جائے، 18ویں ترمیم اتفاق رائے سے ہوئی تھی اسے ریورس کرنا ریاست، حکومت، عوام، جمہورہت کا نقصان ہوگا اسے ٹچ نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ آج تک 26 ترامیم ہوئی ہیں، 9،11,15ویں ترامیم پاس نہیں ہوئی باقی 23 ترامیم پاس ہوچکی ہیں، کسی ترمیم میں آرٹیکل 163 کو تبدیل نہیں کیا، اگر تبدیل کیا تو 18ویں ترمیم میں اس حد تک تبدیل کیا گیا کہ صوبوں کا حصہ پچھلے ایوارڈ کے مقابلہ میں کم نہیں کیا جائے گا، سال 2007ء میں آخری این ایف سی ایوارڈ آیا تھا، اس کے بعد ایوارڈ نہیں آسکے، سارے صوبے گیارہویں این ایف سی ایوارڈ کے منتظر ہیں،کے پی کو جو حصہ ملتا ہے وہ تقریبا 14.

6فیصد ہے،یہ آئین میں درج ہے کہ وہ کم نہیں کیا جائے گا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کا موقف ہے کسی ایسی شق کو نہیں چھیڑا جائے جو صوبوں کے اتفاق رائے کے بغیر ہو، مشترکہ مفادات کونسل نے بھی فیصلہ کیا تھا کہ جب تک اتفاق رائے نہ ہو نہریں نہیں نکالیں گے اس لیے جو محکمے صوبوں کے پاس چلے گئے اتفاق رائے کے بغیر اس معاملے کو واپس کرنا خطرے کو مول لینے والی بات ہے، پہلے آئینی عدالت بنانا چاہ رہے تھے پھر آئینی بنچ بنایا گیا اس پر بھی کوئی راضی نہیں ہے وہ عدلیہ کی آزادی پر قدغن ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ کریٹیکل اسٹیپ لیں جس سے ملک کا بھلا ہو اور ادارے مضبوط ہوں، بجائے اس کے کہ آپ آئین کی ان شقوں کا درج کریں جس سے صوبوں کا تناؤ اور بڑھ جائے گا اس سے ملک کا نقصان ہوگا۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مشال یوسف زئی کا ٹویٹ پارٹی سے متعلق ہے پارٹی کے معاملات کو پارٹی تک رہنے دیں، ہر محب وطن پاکستانی یہ کہہ رہا ہے کہ اسٹیک ہولڈر اپنی تلواریں اپنی نیام میں رکھیں اور ایک ایک اسٹیپ پیچھے ہوجائیں، ایسی صورتحال میں اشتعال انگیز ویڈیو دکھانا، آگ پر تیل چھڑکنے والی بات ہے، بانی جب آرڈر کریں تو پھر اسلام آباد آنے کی بات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پر تنقید ہو رہی ہے تو ہم کوئی کنگ نہیں، میں گالم گلوچ کے مخالف ہوں، تنقید کے خلاف نہیں، اگر کوئی کسی کی عیادت کرتا ہے تو کوئی ایسی بات نہیں، میں شاہ محمود، اعجاز چوہدری کی عیادت کے لئے گیا تھا، بانی کی رہائی کے لئے کوشش کر رہے ہیں اور کریں گے۔

میڈیا سے گفت گو میں سلمان اکرم راجا نے کہا کہ میری ملاقات سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ نے آج خصوصی احکامات دئیے ہیں، میں نے ہائیکورٹ کا آرڈر ایس ایچ او کو واٹس ایپ کیا ہے، آرڈر کی کاپی میرا ایسوسی ایٹ لے کر آرہا ہے، جسٹس ارباب صاحب نے ایڈوکیٹ جنرل کو میری ملاقات کے بارے حکم دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب 27 ویں ترمیم کو رد کرتے ہیں اس اسمبلی کے استحقاق کو رد کرتے ہیں کوئی بھی آئینی ترمیم فارم 47 والی اسمبلی نہیں کرسکتی ہے، بلاول بھٹو کی ٹویٹ کے ذریعے جو باتیں سامنے آئی ہیں انتہائی خوفناک ہیں، پاکستان میں آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کیا جارہا ہے، آزاد عدلیہ کے تصور کو ختم کیا جارہا ہے، ہم تو اس ترمیم کی بہرحال مخالفت کریں گے اگر کوئی ہم سے کہے گا کہ اس کی مخالف میں حمایت کریں تو ہم کریں گےم ہم سمجھتے ہیں تمام جماعتوں کو اس کی مخالفت کرنی چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان سے میری ملاقات بہت ضروری ہے، بںیادی حق ہے کہ ملزم کی اپنے وکیل سے بات کرائی جائے کوئی بھی ملزم اپنا ٹویٹر اکاؤنٹ آپریٹ نہیں کرسکتا، بہنوں کی اڈیالہ جیل کے باہر ٹاک کو اگر کوئی اٹھا کر ٹویٹ کر دیتا ہے تو اس سے ہمارا یا بانی کا کیا تعلق ہے؟ بانی اپنا ایکس اکاؤنٹ خود نہیں چلا رہے، بانی کونٹینٹ کو ڈس اون نہیں کرتے، جو لوگ ان سے جو بات کرکے آتے ہیں، بات کرنا ان کا حق ہے، کوئی قانون اس سے نہیں روکتا اگر کوئی بانی کو کوٹ کرتا ہے تو ٹھیک کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے ہم نے آرڈر لیا تھا کہ بانی جیل کے اندر بھی میڈیا سے بات کرسکتے ہیں، کیا ریاست مخالف بیانیہ ٹویٹ کیا جاتا ہے وہ عدالت فیصلہ کرے گی، ریاست مخالف کیا ہوتا ہے اس کی تعریف و تشریح ہونا بہت ضروری ہے، یہ کہنا کہ ہمارا الیکشن لوٹا گیا یہ ریاست مخالف بیانیہ ہے؟؟ کب تک آپ اس سچ کو یہ کہہ کر چھپائیں گے کہ یہ ریاست مخالف ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کا نقصان ہوگا ا رٹیکلز میں بیرسٹر گوہر ریاست مخالف جس کے ذریعے اتفاق رائے 27ویں ترمیم ملاقات کے ویں ترمیم صوبوں کا صوبوں کے کیا جائے اگر کوئی کہ بانی نہیں کی کریں گے گیا تھا ا رٹیکل کے لئے تھا کہ کے بعد رہی ہے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن