تحریک انصاف نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کو ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
درخواستگزار وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے مطابق اختیارات منتخب نمائندوں کو منتقل ہونا لازمی ہیں، لیکن نئے ایکٹ کے تحت انتظامی اور مالیاتی امور میں افسرشاہی کو بالادستی دی گئی ہے، جو جمہوری اصولوں کیخلاف ہے۔ مزید کہا گیا کہ حکومت نے غیرجماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا جوکہ آئین کے آرٹیکل17 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر معین الدین ریاض قریشی نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد پنجاب حکومت، سیکرٹری بلدیات اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ جسٹس سلطان تنویر احمد نے اپوزیشن لیڈر معین الدین ریاض قریشی سمیت دیگر کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے ابوذر سلمان نیازی ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیاکہ پنجاب حکومت کی جانب سے منظور کیا گیا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 آئینِ پاکستان سے متصادم ہے، کیونکہ اس میں بیورو کریسی کو ایسے اختیارات دیئے گئے ہیں، جو منتخب عوامی نمائندوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
درخواستگزار وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے مطابق اختیارات منتخب نمائندوں کو منتقل ہونا لازمی ہیں، لیکن نئے ایکٹ کے تحت انتظامی اور مالیاتی امور میں افسرشاہی کو بالادستی دی گئی ہے، جو جمہوری اصولوں کیخلاف ہے۔ مزید کہا گیا کہ حکومت نے غیرجماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا جوکہ آئین کے آرٹیکل17 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ آئین شہریوں کو تنظیم سازی اور سیاسی وابستگی کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ غیرجماعتی انتخابات اس حق کو سلب کرتے ہیں۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ2025 کی وہ دفعات جو بیوروکریسی کو اختیارات دیتی ہیں اور غیرجماعتی انتخابات سے متعلق ہیں، انہیں کالعدم قراردیا جائے۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پنجاب حکومت سے جواب طلب کرلیا اور مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لوکل گورنمنٹ ایکٹ کہ آئین کے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔