نیشنل کانفرنس نے اپنے انتخابی وعدے کبھی پورے نہیں کئے، غلام حسن میر
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
اپنی پارٹی کے نائب صدر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے ماضی میں رائے شماری، خود مختاری، ریاستی درجہ کی بحالی اور دفعہ 370 کی بحالی جیسے وعدے کئے مگر کبھی عملی اقدامات نہیں کئے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے نائب صدر اور سابق وزیر غلام حسن میر نے اپنے ایک بیان میں نیشنل کانفرنس پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی تاریخ گواہ ہے کہ اس پارٹی نے آج تک کوئی انتخابی وعدہ پورا نہیں کیا۔ غلام حسن میر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے ماضی میں رائے شماری، خود مختاری، ریاستی درجہ کی بحالی اور دفعہ 370 کی بحالی جیسے وعدے کئے مگر کبھی عملی اقدامات نہیں کئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گورنر راج کے دوران نیشنل کانفرنس کے رہنماؤں نے کہا تھا کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو اسمارٹ میٹروں کو دریا میں پھینک دیں گے، مگر اب وہی حکومت پری پیڈ میٹر نصب کر رہی ہے۔ غلام حسن میر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی کارکردگی ہمیشہ وعدوں تک ہی محدود رہی ہے۔
دربار موو کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر غلام حسن میر نے کہا کہ اس روایت کو بحال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ دفاتر جموں اور کشمیر دونوں مقامات پر بآسانی کام کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ دربار موو پر بے جا خرچ اور وقت کا ضیاع ہوتا ہے۔ راجیہ سبھا انتخابات کے حوالے سے غلام حسن میر نے کہا کہ سات سال بعد جموں و کشمیر میں راجیہ سبھا کے انتخابات ہوئے اور نتیجہ مثبت رہا۔ دو ارکان جموں ڈویژن سے اور دو کشمیر سے منتخب ہوئے۔ بڈگام اور نگروٹہ کے ضمنی انتخابات پر بات کرتے ہوئے غلام حسن میر نے کہا کہ اپنی پارٹی دونوں نشستوں پر سرگرمی سے انتخاب لڑ رہی ہے تاکہ عوام تک براہ راست رسائی حاصل کی جا سکے اور عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر اجاگر کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ نیشنل کانفرنس غلام حسن میر نے کہا کہ کی بحالی
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
قابض افغان طالبان رجیم کیخلاف افغانستان کے مختلف صوبوں میں آزادی پسند تحریکیں زور پکڑ گئیں.
بدخشان میں چندماہ میں دوسرےضلعی گورنرکی ہٹ دھرمی پرمبنی برطرفی نےطالبان کےاندرونی خلفشارکوآشکارکردیا۔
افغان میڈیا کے مطابق طالبان رجیم کیخلاف نئے مسلح گروہ سپاہیان میہن نے بدخشان کے ضلع یفتلی سفلی پرقبضہ کرکےاپنی موجودگی کا باضابطہ اعلان کر دیا
یہ گروہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنےوالےافراد پرمشتمل ہے جن میں سابق سیکیورٹی اہلکاراورمقامی باشندےشامل ہیں۔
ساؤتھ ایشیا ٹیررزم پورٹل کی رپورٹ کے مطابق طالبان اور جمعہ خان فاتح کے درمیان اختلافات ختم نہیں ہوئے،بدخشان میں ان کےحامیوں اورطالبان قیادت کےدرمیان کشیدگی برقرارہے۔
بدخشان میں اندرونی کشیدگی بھی عروج پر،ضلعی گورنرقاری مطیع الرحمان کوتقرری کےایک ہفتےبعدہی عہدے سےہٹا دیا گیا، طالبان مخالف گروہوں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اورافغانستان فریڈم فرنٹ بھی بدخشاں سمیت افغانستان کے کئی صوبوں میں سرگرم ہیں۔
افغان مزاحمتی تنظیم نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نےایکس اکاونٹ پرمزاحمتی فورسزکی نئی ویڈیواپ لوڈکردی۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کےایکس پراپ لوڈ ویڈیومیں طالبان مخالف فورسزکواہم علاقےمیں گشت کرتےہوئےدیکھاجاسکتا ہے۔