Islam Times:
2026-06-03@07:34:22 GMT

امریکی مفادات میں یورپ کی قربانی

اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT

امریکی مفادات میں یورپ کی قربانی

اسلام ٹائمز: یکم دسمبر کو رہبرِ معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ کا یہ بیان کہ امریکہ نے یوکرائن کو دانستہ طور پر جنگ میں جھونکا اور اب اس پر جبری امن مسلط کرنا چاہتا ہے، اس پورے بحران کا نچوڑ پیش کرتا ہے۔ یہ جنگ اس امر کی یاد دہانی ہے کہ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے نہ صرف دشمنوں بلکہ دوستوں کو بھی قربان کرنے سے گریز نہیں کرتیں۔ آخر میں سوال یہ نہیں کہ یوکرائن اس جنگ سے کیا حاصل کرے گا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یورپ کب تک امریکی مفادات کی اس آگ میں جلتا رہے گا۔؟ اگر یورپ نے بروقت اپنے مفادات کا تعین نہ کیا تو تاریخ اسے ایک اور خاموش قربانی کے طور پر یاد رکھے گی۔ تحریر: سید انجم رضا

اس وقت عالمی سیاست ان سوالات کا جواب ڈھونڈ رہی ہے، جو نہ صرف یورپ کی سیاست کو جھنجھوڑ رہا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے توازن پر بھی گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔ یوکرائن اور روس کی جنگ۔۔۔۔ جو بظاہر دو ممالک کا تنازعہ ہے، مگر اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت، سلامتی اور مستقبل پر پڑ رہے ہیں۔" اس جنگ کے پیچھے چھپے بڑے سوالات میں سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ: "کیا امریکہ اپنے اسٹریٹجک اور جیو پولیٹیکل مفادات کے لیے یورپ کو قربان کر رہا ہے۔؟ کیا یورپی یونین آزادانہ فیصلے کر رہی ہے یا واشنگٹن کی پالیسیوں نے اسے ایک ایسے راستے پر ڈال دیا ہے، جہاں مہنگی توانائی، کمزور ہوتی معیشت اور عوامی بے چینی اس کا مقدر بن چکی ہے۔؟" یوکرائن کی جنگ نے یورپ کے صنعتی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا، گیس کی قیمتوں نے ریکارڈ توڑ دیئے، کاروبار بند ہوئے اور کئی یورپی ممالک اب بھی توانائی کے شدید بحران سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس سب کا فائدہ آخر کس کو ہوا۔؟

کیا یہ جنگ ایک "پراکسی وار" ہے۔؟ کیا یورپ کے فیصلے اس کے اپنے ہیں یا امریکہ کی اسٹریٹجک ترجیحات کا نتیجہ؟ اور سب سے اہم بات۔۔۔۔ اگر یورپ اسی راستے پر چلتا رہا تو اس کے مستقبل پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔؟ یوکرائن اور روس کے درمیان جاری جنگ کو اگر محض دو ریاستوں کا عسکری تصادم سمجھا جائے تو یہ ایک سطحی تجزیہ ہوگا۔ درحقیقت یہ جنگ اکیسویں صدی کے عالمی نظام میں ایک ایسی دراڑ ثابت ہو رہی ہے، جو طاقت کے توازن، معاشی ڈھانچوں اور سیاسی اتحادوں کو ازسرِنو ترتیب دے رہی ہے۔ یہ جنگ اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کر رہی ہے کہ عالمی سیاست میں اصول، اخلاقیات اور انسانی ہمدردی محض بیانیہ ہیں، جبکہ اصل فیصلے مفادات کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔

یوکرائن، جو مشرقی یورپ کا رقبے کے لحاظ سے تیسرا بڑا ملک ہے، آج ایک وسیع انسانی اور جغرافیائی سانحے کا شکار ہوچکا ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد سے اس کے تقریباً بیس فیصد علاقے پر روس کا عملی کنٹرول قائم ہوچکا ہے، جبکہ کئی ایسے خطے بھی روس کے زیرِ اثر آچکے ہیں، جو یوکرائن کی صنعتی، زرعی اور دفاعی حیثیت کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے تھے۔ اس جنگ نے یوکرائنی عوام کو شدید عدم تحفظ میں مبتلا کر دیا ہے اور لاکھوں افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں، جو یورپ کے لیے ایک نئے انسانی بحران کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ اس جنگ کا ایک اہم پہلو نیٹو کی مشرق کی جانب توسیع ہے، جسے روس اپنی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتا ہے۔ روس ابتداء ہی سے یہ واضح کرتا آیا ہے کہ وہ کسی صورت نیٹو افواج کو اپنی سرحدوں کے قریب برداشت نہیں کرے گا، مگر امریکہ نے یوکرائن کو مغربی بلاک میں شامل کرنے کی کوششوں کے ذریعے اس تنازعے کو ہوا دی۔ یہی وہ مقام ہے، جہاں یہ جنگ ایک علاقائی تنازعے کے بجائے عالمی طاقتوں کی پراکسی جنگ بن گئی۔

امریکہ اور اس کے قریبی اتحادیوں نے اس جنگ کو اپنے اسٹریٹجک اور معاشی مفادات کے لیے بھرپور انداز میں استعمال کیا۔ برطانیہ نے روسی جارحیت کو جواز بنا کر اپنے ملک میں موجود روسی اثاثوں پر قبضہ کیا، جبکہ امریکہ نیٹو ممالک کے ساتھ مل کر یوکرائن کی نایاب معدنیات اور قدرتی وسائل پر اثر و رسوخ بڑھانے کے منصوبوں میں مصروف رہا۔ یہ سب اقدامات اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ یوکرائن کی خودمختاری دراصل بڑی طاقتوں کے مفادات کے کھیل میں ایک مہرے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ اس جنگ کی سب سے بھاری قیمت یورپ ادا کر رہا ہے۔ یورپی معیشتیں، جو طویل عرصے سے روسی گیس اور تیل پر انحصار کرتی رہی ہیں، امریکی پابندیوں کے نتیجے میں توانائی کے شدید بحران کا شکار ہوچکی ہیں۔ یورپ کو اب وہی ایندھن امریکہ سے کئی گنا مہنگے داموں خریدنا پڑ رہا ہے، جس سے مہنگائی، بیروزگاری اور صنعتی زوال میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ کساد بازاری کے خدشات گہرے ہوتے جا رہے ہیں اور یورپی عوام آنے والے موسمِ سرما کو شدید اضطراب کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔

یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا امریکہ واقعی یورپ کی فلاح و بہبود کا خواہاں ہے، یا اسے محض ایک منڈی اور اسٹریٹجک میدان کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی خود غرضانہ پالیسیوں نے یورپ کو عملی طور پر معاشی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، صنعتوں کی بندش اور عوامی فلاحی منصوبوں میں کٹوتیاں یورپی عوام کے غصے کو بھڑکا رہی ہیں۔ اسی تناظر میں غزہ کی جنگ نے یورپ اور امریکہ کے تعلقات میں مزید دراڑ ڈال دی ہے۔ امریکی دباؤ پر اسرائیل کی حمایت کے لیے یورپی حکومتوں نے اپنے عوام کے وسائل خرچ کیے، جس کے نتیجے میں عوامی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔ فرانس، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک میں اسرائیل اور صیہونی پالیسیوں کے خلاف مظاہرے دراصل امریکہ کی منافقانہ خارجہ پالیسیوں کے خلاف ایک عوامی ریفرنڈم بن چکے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس امریکی پالیسی کے خلاف ردِعمل خود امریکہ کے اندر بھی بڑھ رہا ہے۔ نیویارک کے میئر کے انتخابات میں عوامی رجحان نے امریکی حکومتی پالیسیوں سے بیزاری کا اظہار کیا، جبکہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو کو چھوڑنے کی دھمکیاں امریکی سیاسی بوکھلاہٹ کی عکاس ہیں۔ یورپی یونین کے لیے ٹرمپ کا رویہ پہلے ہی ناقابلِ قبول تھا، مگر اب وہ ناقابلِ برداشت بنتا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے یوکرائن–روس جنگ بندی کے لیے پیش کیے گئے بائیس نکات بھی دراصل امریکی مفادات کے تحفظ کی ایک اور کوشش دکھائی دیتے ہیں، نہ کہ پائیدار امن کا کوئی سنجیدہ منصوبہ۔

مستقبل کے منظرنامے پر نگاہ ڈالی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یورپ اور نیٹو کے لیے امریکی اثر و رسوخ سے نکلنے کی خواہش مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ نیٹو کے سربراہ کی جانب سے تیسری عالمی جنگ کے خدشات کا اظہار اس بات کی علامت ہے کہ عالمی نظام خطرناک حد تک عدم استحکام کا شکار ہوچکا ہے۔ یکم دسمبر کو رہبرِ معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ کا یہ بیان کہ امریکہ نے یوکرائن کو دانستہ طور پر جنگ میں جھونکا اور اب اس پر جبری امن مسلط کرنا چاہتا ہے، اس پورے بحران کا نچوڑ پیش کرتا ہے۔ یہ جنگ اس امر کی یاد دہانی ہے کہ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے نہ صرف دشمنوں بلکہ دوستوں کو بھی قربان کرنے سے گریز نہیں کرتیں۔ آخر میں سوال یہ نہیں کہ یوکرائن اس جنگ سے کیا حاصل کرے گا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یورپ کب تک امریکی مفادات کی اس آگ میں جلتا رہے گا۔؟ اگر یورپ نے بروقت اپنے مفادات کا تعین نہ کیا تو تاریخ اسے ایک اور خاموش قربانی کے طور پر یاد رکھے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکی مفادات مفادات کے لیے اپنے مفادات نے یوکرائن یوکرائن کی یہ ہے کہ رہے ہیں کی جانب سوال یہ رہا ہے سے ایک رہی ہے یہ جنگ

پڑھیں:

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے