Islam Times:
2026-07-23@23:37:57 GMT

موضوع: امریکی مفادات میں یورپ کی قربانی۔۔۔۔ یوکرائن روس جنگ کے تناظر میں

اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

تجزیہ ایک ایسا پروگرام ہے جس میں تازہ ترین مسائل کے بارے میں نوجوان نسل اور ماہر تجزیہ نگاروں کی رائے پیش کی جاتی ہے۔ آپکی رائے اور مفید تجاویز کا انتظار رہتا ہے۔ یہ پروگرام ہر اتوار کے روز اسلام ٹائمز پر نشر کیا جاتا ہے۔ متعلقہ فائیلیںتجزیہ انجم رضا کے ساتھ
موضوع: امریکی مفادات میں یورپ کی قربانی۔۔۔۔ یوکرائن روس جنگ کے تناظر میں
مہمان تجزیہ نگار: ا نجینئر سید علی رضا نقوی
میزبان : سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
موضوعات و سوالات
یوکرائن جنگ سے سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہوا—امریکہ، یورپ یا کوئی اور طاقت؟
یورپی عوام میں بڑھتا ہوا امریکی پالیسیوں کے خلاف غصہ کیا مستقبل میں یورپ–امریکہ تعلقات کو متاثر کرے گا؟
کیا یورپ طویل المدت بنیادوں پر امریکہ سے مہنگی توانائی خرید کر اپنے صنعتی ڈھانچے کو برقرار رکھ سکتا ہے؟
یوکرائن جنگ نے عالمی نظام کو “امریکہ بمقابلہ چین–روس بلاک” کی طرف دھکیل دیا ہے— آپ کا کیا تجزیہ ہے کہ مستقبل میں یورپ کہاں کھڑا ہوگا؟
یوکرائن جنگ ختم کروانے کیلئےامریکہ نے یوکرائن سے معدنیات سمیت اربوں ڈالر کے مفادات کے حصول کو یقینی بنایا پھر اب جن شرائط پر روس کے ساتھ جنگ بندی پر ٹرمپ اصرار کر رہا ہے کیا یہ امریکہ روس تعلقات کےبڑھوتری   سے یوکرائن کی قربانی پیش کی جا رہی ہے؟
موضوع: امریکی مفادات میں یورپ کی قربانی۔۔۔۔ یوکرائن روس جنگ کے تناظر میں
خلاصہ گفتگو و اہم نکات:
لگتا ایسا ہے کہ روس یوکرین جنگ خطے میں گیم چینجر ثابت ہوگی
روس یوکرین جنگ دنیا میں ایک بہت بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی
یوکرین مشرقی یورپ کا رقبے کے لحاظ سے تیسرا بڑا ملک ہے
یوکرین کا بیس فیصد رقبہ اس وقت بھی روس کے قبضے میں ہے
روس اس وقت یوکرین کے بہت اہمیت کے حامل  حصے پہ قابض ہوچکا ہے
یوکرین کی   آبادی جنگ سے خوفزدہ ہوکر مسلسل  نقل مکانی کررہی ہے
برطانیہ بھی  یوکرین پہ جارحیت کا بہانہ بنا کر اپنے پاس موجود روسی اثاثوں پہ قابض ہوچکا
امریکہ یوکرین کی نایاب معدنیات  پہ نیٹو ممالک کےساتھ مال کر قابض ہونا چاہتا تھا
یورپ امریکہ کی مکارانہ ا ور دوغلی پالیسیوں سے تنگ آچکا ہے
روس کسی صورت بھی نیٹو ممالک کو اپنی سرحدوں کے نزدیک نہیں آنے دینا چاہتا
یورپ اس وقت روس یوکرین جنگ کی وجہ سے شدید اقتصادی مشکلات کا شکار ہے
یورپ تو روس سے سستی گیس اور پیٹرول خریدتا تھا، جوکہ امریکی پابندیوں کی زد میں ہے
موجودہ موسم سرما یورپی عوام کے لئے بہت سخت گزرے گا
امریکہ مہنگے مول یورپ کو ایندھن فروخت کرکے اپنا الو سیدھا کررہا ہے
خدشہ ہے کہ کساد بازری کا شکار یورپی انڈسٹری مزید بربادی کی طرف جائے گی
اس وقت امریکہ کی خود غرضانہ پالیسیوں  کے سبب یورپ تباہی کے دہانے پہ پہنچ چکا ہے
یورپی حکومتوں نے امریکہ کے حکم پہ غزہ کی جنگ میں اپنے عوام کا پیسہ ا س ر ائ ی ل ی کی حمایت میں لٹایا
یورپی حکومتیں اور عوام  امریکہ کی منافقانہ پالیسیوں سے نالاں ہوچکے ہیں
یورپی عوام اپنے حکمرانوں اور امریکہ کی صیہونی حکومت نوازی کو بھی شدید نا پسند کرنے لگے ہیں
فرانس، جرمنی، برازیل جیسے اہم یورپی ممالک میں صیہونی حکومت اور اسرائیل کے خلاف مظاہرے  امریکہ کے خلاف ریفرنڈم ہے
نیویارک کے میئر الیکشن نے بھی امریکی  حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بھر پور نفرت کا اظہار ہے
بوکھلایا ہوا  مخبوط الحواس امریکی صدر نیٹو کو چھوڑنے کی دھمکیا ں دینے لگا ہے
یورپی یونین کے لئے ٹرمپ کا رویہ ناقابل پسندیدہ تو تھا ہی اب ناقابل برداشت ہوگیا ہے
ٹرمپ اپنے مسلط کردہ بائیس نکات پہ روس یوکرین جنگ بندی کروانے کے لئے بضد ہے
امریکہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے یورپ کو معاشی  بحران کی طرف دھکیل رہا ہے
مستقبل میں یورپ اور نیٹو امریکی اثر سے باہر نکلتے نظر آرہے ہیں
نیٹو کا چیف تو مستقبل قریب میں ایک بہت تباہ کن تیسری جنگ عظیم کی بات کرنے لگا ہے (حقیقت ٹی وی)
یکم دسمبر کورہبرمعظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی گفتگو کے مطابق  یوکرین کو امریکی  حکومت نے جنگ میں جھونکا اور اب اس  پہ جبری امن منصوبہ مسلط کررہا ہے

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: روس یوکرین جنگ امریکہ کی کی قربانی میں یورپ کے خلاف کے لئے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل