چین سے جنگ ہوئی تو امریکہ بری طرح ہارے گا، پینٹاگون کی خفیہ رپورٹ لیک
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
امریکی وزیر دفاع پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ چین کے خلاف پینٹاگون کی جنگی مشقوں میں ہم ہر بار ہار جاتے ہیں اور چین کے ہائپرسونک میزائل چند منٹوں میں امریکی طیارہ بردار جہاز تباہ کرسکتے ہیں، امریکہ کے میزائل ذخائر اسرائیل اور یوکرین کی مدد کے دوران خاصے کم ہوچکے ہیں۔ نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جیک سلیوان بھی خبردار کرچکے ہیں کہ چین کے ساتھ جنگ کی صورت میں امریکہ کے اہم ہتھیار بہت جلد ختم ہو جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ پینٹاگون کی ایک انتہائی خفیہ رپورٹ کے مطابق اگر امریکہ تائیوان پر جنگ کی صورت میں مداخلت کرے تو چین کے ہاتھوں اس کی شکست کا امکان بہت زیادہ ہوگا۔ پینٹاگون کی جنگی مشقوں میں تائیوان پر چینی حملے کے مختلف منظرنامے تشکیل دیئے گئے، جن میں دیکھا گیا کہ چین امریکی لڑاکا طیاروں کے سکواڈرن، بڑے جنگی بحری جہازوں اور سیٹلائٹ نیٹ ورکس کو مؤثر انداز میں تعیناتی سے قبل ہی مفلوج کرسکتا ہے، یہ انتباہ خفیہ دستاویز اوورمیچ بریف میں دیا گیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ دستاویز پینٹاگون کے آفس آف نیٹ اسسمنٹ نے تیار کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کا مہنگے اور جدید ہتھیاروں پر انحصار اسے چین کے تیزی سے بننے والے سستے ہتھیاروں کے مقابلے میں کمزور بناتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نے ایسی صلاحیت حاصل کرلی ہے، جو کسی بھی ممکنہ تنازع کے آغاز ہی میں امریکہ کے اہم عسکری اثاثوں کو ناکارہ بنا سکتی ہے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے، جب چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جی آکن نے چند روز قبل امریکہ کو خبردار کیا تھا کہ وہ تائیوان کے معاملے کو انتہائی احتیاط سے نمٹے۔ وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام تک پہنچائی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کا تیزی سے ترقی کرتا ہوا اسلحہ خانہ، خصوصاً اس کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے درست نشانہ زن میزائل، جدید طیاروں کا پھیلتا ہوا بیڑا، بڑے بحری جہاز اور خلا میں کارروائی کی صلاحیت نے اسے خطے میں امریکی افواج پر واضح آپریشنل برتری حاصل ہوچکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین کے پاس تقریباً 600 ہائپرسونک ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہے، جو آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ تیزی سے سفر کرسکتے ہیں اور انہیں روکنا انتہائی مشکل ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق جب بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار کو 2021ء میں یہ "اوورمیچ" بریفنگ دی گئی تو انہیں احساس ہوا کہ "ہماری ہر حکمت عملی کے مقابلے میں چین کے پاس کئی متبادل موجود ہیں"، جس پر ان کا چہرہ اتر گیا تھا۔
واضح رہے کہ بیجنگ تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور اس کا واضح مؤقف ہے کہ دو کروڑ 30 لاکھ آبادی والے اس جزیرے کو بالآخر چین سے ملا دیا جائے گا، تائیوان خود کو ایک آزاد، خود مختار ملک قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کے مستقبل کا فیصلہ صرف وہاں کے عوام کریں گے، چین نہیں۔ چین نے تائیوان پر حملے کا کوئی انتباہ نہیں دیا، لیکن مغربی ممالک کی انٹیلیجنس اور تجزیوں کے مطابق چین 2027ء کے قریب تائیوان پر قبضے کی کوشش کرسکتا ہے، جو شی جن پنگ کے عسکری جدید کاری کے اہداف سے مطابقت رکھتی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چین گذشتہ 20 سال میں جمع کیے گئے میزائلوں کی مدد سے امریکہ کے کئی جدید ہتھیاروں، خصوصاً طیارہ بردار بحری جہازوں کو تائیوان پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کرسکتا ہے، جنگی مشقوں میں یہ بھی دیکھا گیا کہ امریکی بحریہ کا جدید ترین کیریئر بھی چینی حملہ برداشت نہیں کر پائے گا۔
اس ضمن میں امریکہ کے جدید ترین ایئرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کی مثال دی گئی، جس کی تعمیر پر 13 ارب ڈالر لاگت آئی اور اسے 2022ء میں تعینات کیا گیا، نئی ٹیکنالوجی کے باوجود یہ جہاز چین کے حملے کے مقابلے میں انتہائی کمزور قرار پایا، اگر یہ بحری جہاز وینزویلا جیسے کسی کمزور ملک خلاف مؤثر ہوسکے گا، مگر چین کے جدید ہتھیاروں کے سامنے نہیں۔ رپورٹ میں یوکرین جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس جنگ نے ثابت کیا ہے کہ ٹینک اب پہلے کی طرح موثر نہیں رہے، امریکہ کے پاس اب وہ صنعتی صلاحیت نہیں رہی کہ وہ کسی بڑی طاقت کے ساتھ طویل جنگ کے لیے مطلوبہ رفتار اور مقدار میں ہتھیار تیار کرسکے، واشنگٹن جدید ہتھیاروں کی تیز رفتار پیداوار میں چین اور روس سے بھی پیچھے ہے، کیونکہ وہ مہنگے اور نسبتاً کمزور ہتھیاروں پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔
امریکی وزیر دفاع پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ چین کے خلاف پینٹاگون کی جنگی مشقوں میں ہم ہر بار ہار جاتے ہیں اور چین کے ہائپرسونک میزائل چند منٹوں میں امریکی طیارہ بردار جہاز تباہ کرسکتے ہیں، امریکہ کے میزائل ذخائر اسرائیل اور یوکرین کی مدد کے دوران خاصے کم ہوچکے ہیں۔ نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جیک سلیوان بھی خبردار کرچکے ہیں کہ چین کے ساتھ جنگ کی صورت میں امریکہ کے اہم ہتھیار بہت جلد ختم ہو جائیں گے۔ پینٹاگون کی داخلی رپورٹس کے مطابق کروز اور بیلسٹک میزائلوں کے تقریباً ہر شعبے میں چین امریکہ سے آگے نکل چکا ہے، حالانکہ دونوں ممالک کے پاس تقریباً 400 انٹرکانٹینینٹل بیلسٹک میزائل موجود ہیں، مزید یہ کہ ایران کی جانب سے جون میں اسرائیل پر 12 روزہ بیلسٹک میزائل حملوں کے دوران امریکہ نے اپنے اونچی پرواز روکنے والے میزائلوں کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ استعمال کر ڈالا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جنگی مشقوں میں جدید ہتھیاروں میں امریکہ کے کہا گیا ہے کہ ہیں کہ چین کے پینٹاگون کی تائیوان پر رپورٹ میں بحری جہاز کے مطابق کے پاس
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔