امریکی وزیر دفاع پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ چین کے خلاف پینٹاگون کی جنگی مشقوں میں ہم ہر بار ہار جاتے ہیں اور چین کے ہائپرسونک میزائل چند منٹوں میں امریکی طیارہ بردار جہاز تباہ کرسکتے ہیں، امریکہ کے میزائل ذخائر اسرائیل اور یوکرین کی مدد کے دوران خاصے کم ہوچکے ہیں۔ نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جیک سلیوان بھی خبردار کرچکے ہیں کہ چین کے ساتھ جنگ کی صورت میں امریکہ کے اہم ہتھیار بہت جلد ختم ہو جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ پینٹاگون کی ایک انتہائی خفیہ رپورٹ کے مطابق اگر امریکہ تائیوان پر جنگ کی صورت میں مداخلت کرے تو چین کے ہاتھوں اس کی شکست کا امکان بہت زیادہ ہوگا۔ پینٹاگون کی جنگی مشقوں میں تائیوان پر چینی حملے کے مختلف منظرنامے تشکیل دیئے گئے، جن میں دیکھا گیا کہ چین امریکی لڑاکا طیاروں کے سکواڈرن، بڑے جنگی بحری جہازوں اور سیٹلائٹ نیٹ ورکس کو مؤثر انداز میں تعیناتی سے قبل ہی مفلوج کرسکتا ہے، یہ انتباہ خفیہ دستاویز اوورمیچ بریف میں دیا گیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ دستاویز پینٹاگون کے آفس آف نیٹ اسسمنٹ نے تیار کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کا مہنگے اور جدید ہتھیاروں پر انحصار اسے چین کے تیزی سے بننے والے سستے ہتھیاروں کے مقابلے میں کمزور بناتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نے ایسی صلاحیت حاصل کرلی ہے، جو کسی بھی ممکنہ تنازع کے آغاز ہی میں امریکہ کے اہم عسکری اثاثوں کو ناکارہ بنا سکتی ہے۔

یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے، جب چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جی آکن نے چند روز قبل امریکہ کو خبردار کیا تھا کہ وہ تائیوان کے معاملے کو انتہائی احتیاط سے نمٹے۔ وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام تک پہنچائی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کا تیزی سے ترقی کرتا ہوا اسلحہ خانہ، خصوصاً اس کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے درست نشانہ زن میزائل، جدید طیاروں کا پھیلتا ہوا بیڑا، بڑے بحری جہاز اور خلا میں کارروائی کی صلاحیت نے اسے خطے میں امریکی افواج پر واضح آپریشنل برتری حاصل ہوچکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین کے پاس تقریباً 600 ہائپرسونک ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہے، جو آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ تیزی سے سفر کرسکتے ہیں اور انہیں روکنا انتہائی مشکل ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق جب بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار کو 2021ء میں یہ "اوورمیچ" بریفنگ دی گئی تو انہیں احساس ہوا کہ "ہماری ہر حکمت عملی کے مقابلے میں چین کے پاس کئی متبادل موجود ہیں"، جس پر ان کا چہرہ اتر گیا تھا۔

واضح رہے کہ بیجنگ تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور اس کا واضح مؤقف ہے کہ دو کروڑ 30 لاکھ آبادی والے اس جزیرے کو بالآخر چین سے ملا دیا جائے گا، تائیوان خود کو ایک آزاد، خود مختار ملک قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کے مستقبل کا فیصلہ صرف وہاں کے عوام کریں گے، چین نہیں۔ چین نے تائیوان پر حملے کا کوئی انتباہ نہیں دیا، لیکن مغربی ممالک کی انٹیلیجنس اور تجزیوں کے مطابق چین 2027ء کے قریب تائیوان پر قبضے کی کوشش کرسکتا ہے، جو شی جن پنگ کے عسکری جدید کاری کے اہداف سے مطابقت رکھتی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چین گذشتہ 20 سال میں جمع کیے گئے میزائلوں کی مدد سے امریکہ کے کئی جدید ہتھیاروں، خصوصاً طیارہ بردار بحری جہازوں کو تائیوان پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کرسکتا ہے، جنگی مشقوں میں یہ بھی دیکھا گیا کہ امریکی بحریہ کا جدید ترین کیریئر بھی چینی حملہ برداشت نہیں کر پائے گا۔

اس ضمن میں امریکہ کے جدید ترین ایئرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کی مثال دی گئی، جس کی تعمیر پر 13 ارب ڈالر لاگت آئی اور اسے 2022ء میں تعینات کیا گیا، نئی ٹیکنالوجی کے باوجود یہ جہاز چین کے حملے کے مقابلے میں انتہائی کمزور قرار پایا، اگر یہ بحری جہاز وینزویلا جیسے کسی کمزور ملک خلاف مؤثر ہوسکے گا، مگر چین کے جدید ہتھیاروں کے سامنے نہیں۔ رپورٹ میں یوکرین جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس جنگ نے ثابت کیا ہے کہ ٹینک اب پہلے کی طرح موثر نہیں رہے، امریکہ کے پاس اب وہ صنعتی صلاحیت نہیں رہی کہ وہ کسی بڑی طاقت کے ساتھ طویل جنگ کے لیے مطلوبہ رفتار اور مقدار میں ہتھیار تیار کرسکے، واشنگٹن جدید ہتھیاروں کی تیز رفتار پیداوار میں چین اور روس سے بھی پیچھے ہے، کیونکہ وہ مہنگے اور نسبتاً کمزور ہتھیاروں پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔

امریکی وزیر دفاع پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ چین کے خلاف پینٹاگون کی جنگی مشقوں میں ہم ہر بار ہار جاتے ہیں اور چین کے ہائپرسونک میزائل چند منٹوں میں امریکی طیارہ بردار جہاز تباہ کرسکتے ہیں، امریکہ کے میزائل ذخائر اسرائیل اور یوکرین کی مدد کے دوران خاصے کم ہوچکے ہیں۔ نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جیک سلیوان بھی خبردار کرچکے ہیں کہ چین کے ساتھ جنگ کی صورت میں امریکہ کے اہم ہتھیار بہت جلد ختم ہو جائیں گے۔ پینٹاگون کی داخلی رپورٹس کے مطابق کروز اور بیلسٹک میزائلوں کے تقریباً ہر شعبے میں چین امریکہ سے آگے نکل چکا ہے، حالانکہ دونوں ممالک کے پاس تقریباً 400 انٹرکانٹینینٹل بیلسٹک میزائل موجود ہیں، مزید یہ کہ ایران کی جانب سے جون میں اسرائیل پر 12 روزہ بیلسٹک میزائل حملوں کے دوران امریکہ نے اپنے اونچی پرواز روکنے والے میزائلوں کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ استعمال کر ڈالا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جنگی مشقوں میں جدید ہتھیاروں میں امریکہ کے کہا گیا ہے کہ ہیں کہ چین کے پینٹاگون کی تائیوان پر رپورٹ میں بحری جہاز کے مطابق کے پاس

پڑھیں:

گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث

گل پلازہ آتشزدگی کیس کی انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر لانے کے لیے ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے دائر درخواست مسترد ہونے کے بعد عوام کے حقِ معلومات اور جاری فوجداری تحقیقات کے درمیان توازن ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ سندھ انفارمیشن کمیشن نے قرار دیا ہے کہ چونکہ مقدمہ ابھی زیرِ تفتیش ہے، اس لیے اس مرحلے پر انکوائری رپورٹ جاری کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے اور تفتیشی افسر کی جانب سے چالان عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد متعلقہ دستاویزات عدالتی ریکارڈ کا حصہ بن جائیں گی، جس کے بعد ان تک رسائی قانونی طریقۂ کار کے مطابق ممکن ہوگی۔ کمیشن کے مطابق جاری تحقیقات کے دوران معلومات کی فراہمی سے تفتیشی عمل متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تحقیقات بلا رکاوٹ اپنے منطقی انجام تک پہنچیں۔

ایم کیو ایم پاکستان نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ گل پلازہ سانحہ عوامی مفاد، شہریوں کے حقِ زندگی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی سے جڑا معاملہ ہے۔ پارٹی کے مطابق انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر آنے سے ذمہ داریوں کے تعین، شفافیت اور احتساب کے عمل کو تقویت ملے گی، جبکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی رہنمائی حاصل ہو سکے گی۔

سماعت کے دوران یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ کیس کی تفتیش کرنے والے افسران نے بتایا کہ انہیں انکوائری رپورٹ دستیاب نہیں تھی، جبکہ مختلف سرکاری اداروں نے مؤقف اختیار کیا کہ مطلوبہ ریکارڈ ان کے پاس موجود نہیں۔ اس صورتحال نے انکوائری، انتظامی کارروائی اور فوجداری تحقیقات کے باہمی تعلق پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

گل پلازہ کیس نے دراصل 2 اہم قانونی اصولوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف عوام کا مطالبہ ہے کہ ایسے بڑے سانحات سے متعلق حقائق منظرِ عام پر آنے چاہییں تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو اور ادارہ جاتی خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ دوسری جانب ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ اگر کسی مرحلے پر معلومات کی فراہمی سے تحقیقات یا عدالتی کارروائی متاثر ہونے کا خدشہ ہو تو تفتیش کو ترجیح دینا قانونی تقاضا ہے۔

حقِ معلومات سے متعلق قوانین کا مقصد سرکاری معاملات میں شفافیت کو فروغ دینا ہے، تاہم ان میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ حساس نوعیت کے معاملات میں معلومات کی فراہمی اس وقت تک مؤخر رکھی جا سکتی ہے، جب تک تحقیقات اپنے منطقی انجام تک نہ پہنچ جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ گل پلازہ کیس میں اصل سوال صرف رپورٹ کی اشاعت کا نہیں بلکہ اس مناسب وقت کا بھی ہے، جب ایسی معلومات عوامی دسترس میں لائی جانی چاہییں۔

یہ بھی پڑھیے سانحہ گل پلازا: جوڈیشل کمیشن نے انکوائری رپورٹ مکمل کرکے سندھ حکومت کے حوالے کردی

یہ مقدمہ شہری سلامتی کے وسیع تر تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گل پلازہ آتشزدگی نے عمارتوں کے حفاظتی انتظامات، فائر سیفٹی کے نظام، تعمیراتی ضوابط پر عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کی نگرانی سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا تھا۔ ایسے میں انکوائری رپورٹ کو صرف ذمہ داریوں کے تعین کی دستاویز نہیں بلکہ مستقبل کی اصلاحات کے لیے ایک اہم حوالہ بھی تصور کیا جا رہا ہے۔

اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ جاری تحقیقات کب مکمل ہوتی ہیں اور عدالتی کارروائی کس مرحلے تک پہنچتی ہے۔ اگر تحقیقات اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کے بعد انکوائری رپورٹ یا اس کے نتائج عوامی ریکارڈ کا حصہ بنتے ہیں تو اس سے نہ صرف اس مقدمے سے متعلق کئی سوالات کے جواب مل سکیں گے بلکہ یہ بھی واضح ہوگا کہ اس سانحے سے حاصل ہونے والے اسباق کو ادارہ جاتی اصلاحات میں کس حد تک ڈھالا جا سکا۔

یوں گل پلازہ کیس محض ایک انکوائری رپورٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ پاکستان میں شفافیت، مؤثر تحقیقات اور ادارہ جاتی احتساب کے درمیان توازن کا ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن