Jasarat News:
2026-07-24@01:28:08 GMT

مٹیاری میں اتائی ڈاکٹروں کی بھرمار

اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251215-5-4

 

مٹیاری(نمائندہ  جسارت) ضلع  بھر میں اتائیوں کی بھر مار۔ سیکڑوں افراد وبائی امراض کا شکار۔ محمکہ صحت نے کوئی کاروائی نہ کی۔مٹیاری ضلع کے شہروں مٹیاری۔ ہالہ۔ بھٹ شاہ۔ نیو سعیدآباد سمیت مختلف چھوٹے  بڑے شہروں اور دیہاتوں میں اتائیوں نے کلینک کھول لیے۔ ایک ہی سرنج مختلف مریضوں کو لگانے کے باعث سیکڑوں افراد ہپاٹائیٹس بی۔ سی اور ایڈز جیسے مہلک امراض میں مبتلہ ہوگئے۔ ہزاروں افراد کی زندگیاں داؤ پے  لگ گئیں۔ اتائیوں نے مختلف ایم۔بی۔بی۔ایس ڈاکٹروں کے سائن بورڈ کلینکوں پے آویزاں کرلیے۔ جبکہ محکمہ صحت میں موجود کچھ کالی بھیڑیں کاروائی ہونے سے قبل اتائیوں کو اطلاع پہنچادیتیں ہیں جس کے باعث اتائی کلینکیں بند کرکے فرار  ہوجاتے ہیں۔ محمکہ صحت کے حکام نے اتائیوں کے خلاف تاحال کوئی مؤثر کاروائی نہیں کی جس کے باعث موت کے سوداگر کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سول سوسائٹی مٹیاری نے  وزیراعلی سندہ اور سندہ ہیلتھ کیئر کمیشن سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

 

نمائندہ جسارت.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث