Jasarat News:
2026-06-03@04:24:34 GMT

محنت کشوں کی طبی سہولت کے لیے اقدامات کیے جائیں‘ سعید غنی

اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وزیر محنت و انسانی وسائل سندھ /چیئرمین گورننگ باڈی سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) سعید غنی نے کہا ہے کہ مزدوروں اور محنت کشوں کو صحت کی اعلیٰ اور بروقت سہولیات کی فراہمی کے لیے اسپتالوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت اقدامات کیے جائیں۔ سیسی کے تحت ایک مکمل سہولیات سے بھرپور کینسر اسپتال کی بھی فزیبلٹی بنائی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیسی کی گورننگ باڈی کے 175 ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری محنت اسد اللہ ابڑو، کمشنر سیسی ہادی بخش کلہوڑو، اراکین گورننگ باڈی سیسی انجینئر عبدالجبار میمن، دانش خان ، محمد خان ابڑو، عبد الوحید شورو، زہرہ خان، مختار حسین اعوان، میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر سعادت میمن، ڈائریکٹر کنٹری بیوشن اینڈ بینیفٹ ڈاکٹر غلام دستگیر، ڈائریکٹر پبلک ریلیشن وسیم جمال بھی موجود تھے۔ اجلاس میں گلشن اقبال اور ملیر میں سیسی کے دو نئے ڈائریکٹوریٹ اور اس کے ساتھ 2 ڈسپنسری کے فوری قیام کی منظوری دی گئی، عمارت کی تعمیر سے قبل کرایہ کی جگہ پر کام کا آغاز کرنے کے لیے فی الحال ان دفاتر کے کرایہ کی منظوری بھی دی گئی۔ اجلاس میں سیسی سروس رولز 2023 کے گزٹ نوٹیفیکیشن میں سنگین بے ضابطگیوں پر موجودہ رولز کو فوری طور منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں سیسی ملازمین کی سینیارٹی اور ملازمت کے دیگر تمام معاملات کو سیکرٹری محنت کی سربراہی میں اپیلیٹ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا، سیسی کے ریٹائرڈ ملازمین کو صحت کی مفت سہولیات کی فراہمی کے ایجنڈے پر ارکان گورننگ باڈی نے کہا کہ اس پر سیسی کے موجودہ قانون کے مطابق انہیں سہولت فراہم کی جائے۔ اجلاس میں حکومت سندھ کے فیصلہ کے مطابق آئندہ سیسی میں جونیئر کلرک کی بھرتی کے لیے کم از کم تعلیمی قابلیت گریجویشن اور کمپیوٹر کی تعلیمی قابلیت کو لازمی قرار دیا گیا۔ اجلاس میں بینظیر مزدور کارڈز کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور ارکان گورننگ باڈی کی جانب سے اس سلسلے میں مزدوروں کو درپیش مسائل پر توجہ دلائی گئی، اس موقع پر چیئرمین گورننگ باڈی و صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ بینظیر مزدور کارڈز کے اجراء میں درپیش مسائل کو فوری دور کیا جائے اور اس کام کو مزید تیز کیا جائے۔ انہوں نے کمشنر سیسی کو ہدایات دی کہ ارکان گورننگ باڈی کی جانب سے اس پر اٹھائے گئے تحفظات کو دور کرنے کے لیے آئندہ گورننگ باڈی اجلاس سے قبل نادرا کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس کیا جائے۔ گورننگ باڈی کے اجلاس میں دیگر انتظامی امور پر اہم فیصلے کئے گئے جب کہ سوشل سیکورٹی ایکٹ کی سیکشن 75 میں تبدیلی سمیت کچھ امور کو مکمل تفصیلات کے گورننگ باڈی کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ویب ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گورننگ باڈی اجلاس میں سیسی کے کے لیے

پڑھیں:

بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔

ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی