موسمیاتی اقدامات اب اختیار کا نہیں بلکہ بقا کا تقاضا بن چکے ہیں: مصدق ملک
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
فائل فوٹو
وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی اقدامات اب اختیار کا نہیں بلکہ بقا کا تقاضا بن چکے ہیں۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے نیروبی میں اقوام متحدہ کی ماحولیاتی اسمبلی کے ساتویں اجلاس میں شرکت کی، جس کا موضوع ایک مضبوط اور لچکدار کرۂ ارض کے لیے پائیدار حل تھا۔
اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے اجتماعی، فوری اور منصفانہ اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فطرت اپنے اصولوں کے مطابق چلتی ہے اور اس کے ساتھ ناانصافی کا خمیازہ ہمیں ہی بھگتنا پڑتا ہے، اگر دنیا فوری اور مؤثر اقدامات نہ کرے تو ترقی پذیر ممالک کو ماحولیاتی نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اس موقع پر موسمیاتی مالی معاونت اور عالمی تعاون میں تیزی لانے کا بھی مطالبہ کیا ہے، موسمیاتی اقدامات اب بقا کی ناگزیر ضرورت ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔