ڈھاکہ میں انتخابی امیدوار فائرنگ سے شدید زخمی، تشدد میں اضافہ تشویشناک قرار
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
بنگلادیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں جمعہ کی دوپہر انتخابی امیدوار شریف عثمان ہادی پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ عثمان ہادی ڈھاکہ۔8 کے ممکنہ آزاد امیدوار ترجمان ہیں۔
پولیس کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر آئے اور بجائن نگر کے باکس کلورٹ کے علاقے میں دوپہر 2 بج کر 25 منٹ پر ہادی پر گولیاں چلائیں اور فرار ہوگئے۔ عثمان ہادی کو فوری طور پر تشویشناک حالت میں ڈھاکہ میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں کارکنوں اور حامیوں کی بڑی تعداد ایمرجنسی وارڈ کے باہر جمع ہوگئی۔
পল্টন এলাকায় ঢাকা-৮ আসনের স্বতন্ত্র এমপি প্রার্থী ইনকিলাব মঞ্চের ওসমান হাদির উপর গুলি বর্ষণ।#Dhaka #Bangladesh #Dhaka8 pic.
— Basherkella – বাঁশেরকেল্লা (@basherkella) December 12, 2025
عثمان ہادی انتخابی مہم میں سرگرم کردار ادا کر رہے تھے اور جاری سیاسی ماحول میں ان پر حملے نے دارالحکومت میں انتخابی تشدد کے بڑھتے ہوئے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کے میڈیا اور پبلک ریلیشنز ڈویژن کے ڈپٹی کمشنر محمد طالب الرحمان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فائرنگ کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش کے عام انتخابات اور ریفرنڈم کی تاریخ کا حتمی اعلان ہوگیا
پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے اور عینی شاہدین کے بیانات جمع کر رہی ہے تاکہ حملہ آوروں کی شناخت کی جا سکے۔
ابھی تک کسی گرفتاری یا حملے کی وجوہات کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔ شہری و سیاسی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انتخابات قریب آنے کے ساتھ تشدد کے واقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
بنگلادیش میں حالیہ ہفتوں کے دوران مختلف علاقوں میں ایسے کئی پر تشدد واقعات سامنے آ چکے ہیں، جنہوں نے انتخابی ماحول کی سکیورٹی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بنگلہ دیش انتخابات ڈھاکہ عثمان ہادی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بنگلہ دیش انتخابات ڈھاکہ عثمان ہادی عثمان ہادی
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔