اڈیالہ جیل کے باہر آغاز ہونے والا احتجاجی دھرنا منگل اور بدھ کی درمیانی شب اچانک اس وقت ختم ہوگیا جب پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا۔ پی ٹی آئی کارکنان اور بانی چیئرمین عمران خان کی دو بہنیں کئی گھنٹے جیل کے باہر ملاقات نہ ہونے کے خلاف بیٹھے تھے، جس دوران پولیس، کارکنان اور قیادت کے درمیان کشیدگی بڑھتی رہی۔

رات 2 بجے پولیس نے اڈیالہ جیل کے قریب فیکٹری ناکے پر موجود دھرنا ختم کرا دیا۔ ذرائع کے مطابق کارکنان کی جانب سے پولیس پر شدید پتھراؤ کیا گیا جبکہ پولیس نے مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا۔

اس کارروائی کے دوران جماعت اسلامی کے سابق رکن سینیٹر مشتاق احمد بھی بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے پہنچے تو پانی کی تیز دھار کی زد میں آگئے۔

دھرنے کے شرکا میں موجود علیمہ خان اور عظمیٰ خان کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روکے رکھا۔ علیمہ خان کارکنان کو مسلسل پیچھے ہٹانے کی ہدایات دیتی رہیں اور کہا کہ پولیس سے کوئی لڑائی نہیں، یہ ہمارے بھائی ہیں، بس خواتین کی موجودگی کی وجہ سے میں کارکنان کو پیچھے کر رہی ہوں، پولیس خود بھی پریشان ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور عمران خان کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر کارکنان نے جیل کے قریب دھرنا دے رکھا تھا۔

علیمہ خان کا کہنا تھا کہ وہ ایک ماہ سے ملاقات کے لیے کوشش کر رہی ہیں مگر اجازت نہیں دی جارہی۔ ان کے مطابق سابق ملاقات میں کوئی سیاسی گفتگو نہیں ہوئی تھی۔

پولیس اور دھرنا قیادت کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے، تاہم ذرائع کے مطابق بات چیت کامیاب نہ ہوسکی۔ دھرنا قیادت نے مذاکرات میں پولیس کے قبضے میں لی گئی تمام گاڑیاں واپس کرنے کی شرط رکھی، جبکہ پولیس نے صرف پانچ گاڑیاں واپس کیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی 14 سرکاری و نجی گاڑیاں پولیس نے تھانے منتقل کی تھیں۔

آخری اطلاعات تک پولیس نے متعدد کارکنان کو حراست میں لے لیا تھا جبکہ علاقے میں صورتحال کشیدہ رہی۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے واضح کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کا ’ایک فیصد بھی امکان نہیں‘، ملاقات خواہش پر نہیں بلکہ قانونی بنیادوں پر روکی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی پولیس نے جیل کے کے لیے

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی