سٹی42:  پاکستان کی ریاست کے خلاف حالیہ سنگین حملوں کے بعد  پی ٹی آئی کو حکومت  نے بتا دیا تھا کہ بانی سے کسی سیاسی بات کرنے والے کی ملاقات نہیں ہو گی، بروقت  بتا دیئے جانے کے باوجود پی ٹی آئی باز نہیں آئی، آج ایک بار پھر اڈیالہ جیل والی سڑک پر علیمہ خان نے دھرنا دے دیا اور سڑک پر ٹریفک کا نظام درہم برہم کر دیا۔ 

علیمہ خان کچھ لوگوں کے ساتھ اڈیالہ جیل والی سڑک پر گورکھپور پولیس چیک پوسٹ کے قریب موجود ہیں، ان کے ساتھ چند ہی لوگ ہیں، یہ لوگ وہاں بیتھ گئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم بانی کے ساتھ ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کرنے کے لئے دھرنا دے رہے ہیں۔ 

چوری کا شبہ ؛ 8 افراد کو دہکتے انگاروں پر چلایا گیا

 پی ٹی آئی کے چئیرمین بیرسٹر گوہر  جنہوں نے اب تک بانی کے ٹویت کی ایک بار بھی مذمت نہیں کی، انہوں نے میڈیا کیمروں کے سامنے کہا،  بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے حالات خراب ہورہے ہیں۔ میری آخری ملاقات اکتوبر میں ہوئی تھی۔ 

بیرسٹر گوہر نے دھمکی دی،" جتنی سختی ہوگی اتنے زیادہ لوگ آئیں گئے۔"

انہوں نے کہا، چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ ہماری "توہین عدالت"  کی درخواستیں مقرر کریں۔ عدالت میں انصاف نہیں ملتا،  پالیمینٹ میں کوئی بولنے نہیں دیتا۔

نئی بننے والی واسا ایجنسیوں میں تقرروتبادلے

عمران خان کی ملاقات کیوں بند ہے

گزشتہ منگل کو عمران خان کی بڑی بہن عظمیٰ خان کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کروائی گئی تھی جس کے بعد عظمیٰ خان نے پاکستانی میدیا کو اور اس کے بعد ٹویٹر/ ایکس پر عمران خان کے نام سے چلائے جا رہے بہت بڑے اکاؤنٹ کو ایک خوفناک الزامات اور گالم گلوچ سے بھرا بیان دیا تھا  جس میں پاکستان کی مسلح افواج کے چھ مئی جنگ کے ہیروز کی کھلم کھلا توہین کی گئی اور پاکستان کی حکومت کی پالیسیوں کو اور خارجی فتنہ کے دہشتگردوں کے خلاف  جاری جنگ کو انڈرمائن کیا گیا۔

محسن نقوی کی  انگلینڈ کے وزرا کے ساتھ مجرموں کی حوالگی پر اہم بات چیت

اس انتہائی مذموم پروپیگنڈا کو ایکس/ٹویٹر کے ذریعہ پھیلانے کے بعد اسے بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پروپیگنڈا نیت ورک نے پوری دنیا میں پھیلایا۔ اس صورتحال کا پاکستانی حکومت نے سختی سے نوٹس لیا اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ  نے نیوز کانفرنس کر کے بتایا کہ آئندہ کسی ایسے شخص کی اڈیالہ جیل میں اپنے جرائم کی سزا کاٹ رہے عمران خان سے ملاقات نہیں کروائی جائے گی جو ملاقات کے بعد باہر آ کر سیاست کرتا ہے۔ 

لاہور میں 252 ٹریفک حادثات؛ 302 افراد زخمی 

وزیر اطلاعات  عطا تارڑ نے زیادہ واضح بتایا کہ عظمی کی اب بانی کے ساتھ جیل میں ملاقات نہیں کروائی جائے گی۔ علیمہ خان کی ملاقات ان ہی وجوہات کی بنا پر پہلے سے بند ہے۔

وزیر قانون نے تفصیل کے ساتھ بتایا کہ جیل قوانین کے مطابق کسی قیدی کو سیاست کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس قانون پر عملدرآمد کا ذمہ دار سپرنٹنڈنٹ جیل ہے، جیل کا سپرنٹنڈنٹ کسی سیاست کرنے والے کو  جیل میں عمران خان سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

 میں نے کوئی سیاسی بات نہیں کی؛ عظمی خان کی ڈی جی آئی ایس پی آر کے متعلق تضحیک آمیز باتیں

عمران خان کی بہن عظمی جن کے حوالے سے  ایکس / ٹویٹر پر پاکستان کے 6 مئی جنگ کے ہیروز پر بے تحاشا کیچر اچھالا گیا، آج عظمی نے  دعویٰ کیا کہ مین نے تو کوئی سایسی بات کی ہی نہیں۔ اس کے ساتھ عظمی نے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل کو ذہنی مریض بھی قرار دیا، ان کو بے وقعت آدمی قرار دیا اور ان کا مضحکہ اڑانے کی کوشش کی۔ عظمیٰ نے ایسا ہی تضحیک آمیز رویہ پاکستان کے وزیر اطلاعات کے بارے میں اختیار کیا اور بار بار کہا، عطا تارڑ تم ہو کون، تمہاری حیثیت کیا ہے۔

عمران کی تین بہہنوں کی اشتعال انگیز گفتگو

آج اڈیالہ جیل کے قریب پولیس چیک پوسٹ کے ساتھ دھرنا دے کر بیتھ جانے کے بعد سے پی ٹی آئی کے بانی کی بہنیں میڈیا کیمروں کو دیکھتے ہی اشتعال انگیز باتیں کرنے لگتی ہیں۔

علیمہ خان نے کہا  ماریں ڈنڈے، گولیاں چلائیں، جو مرضی کریں  ہم یہاں سے نہیں جائیں گی۔

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل علیمہ خان سے ملاقات پی ٹی ا ئی جیل میں کے ساتھ خان کی کے بعد

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی