انتظامیہ کے علیمہ خانم سے مذاکرات، عمران خان کی بہنوں کا اڈیالہ جیل کے قریب کئی گھنٹوں تک دھرنا
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
اڈیالہ روڈ کی لائٹس بند جبکہ پولیس کی اضافی نفری طلب ،پولیس کے اصرار کے باوجود علیمہ خانم کا جانے سے انکار ، علیمہ آپا پلیز چلے جائیں ،احتجاج ہوگیا، ایس ایچ او راجہ اعزاز
پولیس کی پیش کش کے بعد علیمہ خانم اور پی ٹی آئی قائدین میں مشاورت،کے پی سے آئی ہوئی 13سرکاری گاڑیاں چوکی منتقل ،بانی سے ملاقات ہمارا حق ہے،بیرسٹر گوہرکی گفتگو
اڈیالہ جیل کے قریب علیمہ خان کا تحریک انصاف کے کارکنان اور قائدین کے ہمراہ دھرنا جاری ہے جبکہ پولیس نے مذاکرات بھی شروع کردیے ہیں۔تفصیلات کے مطابق اڈیالہ جیل کے قریب دھرنے پر بیٹھی بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان سے ایس ایچ او راجہ اعزاز نے مذاکرات شروع کردیے۔ایس ایچ او راجہ اعزاز مذاکرات کیلیے علیمہ خان کے پاس پہنچے، مذاکرات میں شاہد خٹک بھی شریک ہے، پولیس کے اصرار کے باوجود علیمہ خان نے مسلسل جارنے سے انکار کردیا۔ایس ایچ او نے کہا کہ علیمہ آپا پلیز چلے جائیں آپ کا احتجاج ہوگیا۔ پولیس کی جانب سے پیش کش کے بعد علیمہ خان اور پی ٹی آئی قائدین نے مشاورت کی۔راولپنڈی پولیس نے اڈیالہ جیل کے قریب ایکشن کرتے ہوئے کے پی کے سے آئی ہوئی 13سرکاری گاڑیاں قبضے میں لے کر چوکی منتقل کردیا۔قبل ازیں دھرنے کے مقام پر صورتحال کشیدہ ہونے کے پیشِ نظر فیکٹری ناکے پر اضافی پولیس نفری طلب کی گئی اور خواتین اہلکاروں کو بھی دھرنے کے مقام پر پہنچنے کی ہدایت جاری کی گئی۔دھرنے کے مقام پر اڈیالہ روڈ کی لائٹس بند کی گئیں جبکہ کسی بھی ممکنہ آپریشن کے پیش نظر پریزن وینز اور پانی چھڑکنے والی گاڑیاں بھی طلب کی گئیں۔انتظامیہ نے کہا ہے کہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے چیٔرمین بیرسٹر گوہر اور عمران خان کی بہنوں کو آج ملاقات کی اجازت نہ ملی جس پر انہوں نے جیل کے قریب فیکٹری ناکے پر دھرنا دیدیا۔پولیس افسران اور علیمہ خان میں کے درمیان جاری بات چیت میں ایس ایچ او راجہ اعزاز نے کہا کہ علیمہ آپا پلیز چلے جائیں ،احتجاج ہوگیا جس کے بعد علیمہ خان اور پارٹی قائدین نے آپس میں مشاورت شروع کر دی۔اڈیالہ کے قریب داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر خان کا مزید کہنا تھا کہ بانی سے ملاقات ہمارا حق ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر فیملی اور وکلاء کی ملاقات ہونی تھی لیکن آج بھی روکا ہوا ہے، سیاست میں اختلاف ہو سکتا ہے دشمنی نہیں آپ ایک دوسرے کو خطرہ نہ سمجھیں، کچھ سیاسی لوگ آپس میں لڑ پڑیں ایسا نہیں ہونا نہیں چاہیے۔بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو ہم کرنا چاہ رہے ہیں مگر ہمارے بس میں نہیں، اتنا کہہ رہا ہوں کہ جب بانی اور بشری بی بی سے ملاقاتیں ہوں گی تو حالات بہتر ہوجائیں گے۔ جب ملاقاتیں ہو رہی تھیں تو ہم کسی اور طرف نکل چکے تھے، اسپیکر صاحب نے ملاقات کا کہا ہے اسپیکر صاحب نے ہمیشہ اچھا کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ بانی نے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر کو بات کرنے کا اختیار دیا ہے، میں نے بانی کو پہلے اور موجودہ حالات کے بارے میں بتایا تھا، لفظ کشیدگی سیاست سے ختم ہونا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ایس ایچ او راجہ اعزاز اڈیالہ جیل کے قریب پی ٹی ا ئی علیمہ خان نے کہا
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔