ڈی سی کشمورکی قیادت میں اینٹی کرپشن ویک منایا گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251210-11-6
کندھکوٹ(نمائندہ جسارت)ہر سال کی طرح اس سال بھی کرپشن کی روک تھام کے لیے اینٹی کرپشن ویک منایا گیا۔ ڈپٹی کمشنر کشمور آغا شیر زمان،ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن نذیر احمد ملک کی قیادت میں کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے ایک تقریب اور ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں ضلع کے وفاقی اور صوبائی محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کشمور ایٹ کندھکوٹ آغا شیر زمان، ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن نذیر احمد ملک اور دیگر مقررین نے کہا کہ کرپشن کو ختم کرنے کے لیے دنیا تیزی سے ڈیجیٹل نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کرپشن کے خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جارہے ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ کرپشن میں ملوث افسران اور اہلکاروں کے خلاف اینٹی کرپشن میں درخواستیں جمع کرائیں تاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رشوت دینا اور لینا حرام ہے، لہٰذا کرپشن کی روک تھام کے لیے اہم اقدامات اٹھانا ضروری ہیں تاکہ عوام کو اس ناسور سے محفوظ رکھا جا سکے۔ کرپشن کے خاتمے کے لیے تمام اداروں کو عملی کردار ادا کرنا ہوگا۔ اسی لیے ہم سب کو پاک و شفاف معاشرے کیلیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف مل سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اینٹی کرپشن کے لیے
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔